سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی وفات ، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی وفات ، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور روایات میں آگ کا انگارہ کے الفاظ(پارٹ1)

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

صفحہ 1 از 5

سوال: اس روایت پر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ کے بارے میں جو اعتراض کیے جاتے ہیں اسکا جواب ارسال کریں۔

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الْحِمْصِيُّ، ‌‌‌‌‌‏حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ بَحِيرٍ، ‌‌‌‌‌‏عَنْ خَالِدٍ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ وَفَدَ الْمِقْدَامُ بْنُ مَعْدِ يكَرِبَ، ‌‌‌‌‌‏وَعَمْرُو بْنُ الْأَسْوَدِ، ‌‌‌‌‌‏وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ مِنْ أَهْلِ قِنَّسْرِينَ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِلْمِقْدَامِ أَعَلِمْتَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ تُوُفِّيَ، ‌‌‌‌‌‏فَرَجَّعَ الْمِقْدَامُ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ:‌‌‌‏ أَتَرَاهَا مُصِيبَةً ؟ قَالَ لَهُ:‌‌‌‏ وَلِمَ لَا أَرَاهَا مُصِيبَةً وَقَدْ وَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِهِ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ:‌‌‌‏ هَذَا مِنِّي، ‌‌‌‌‌‏وَحُسَيْنٌ مِنْ عَلِيٍّ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ الْأَسَدِيُّ:‌‌‌‏ جَمْرَةٌ أَطْفَأَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ فَقَالَ الْمِقْدَامُ:‌‌‌‏ أَمَّا أَنَا فَلَا أَبْرَحُ الْيَوْمَ حَتَّى أُغَيِّظَكَ وَأُسْمِعَكَ مَا تَكْرَهُ، ‌‌‌‌‌‏ثُمَّ قَالَ:‌‌‌‏ يَا مُعَاوِيَةُ إِنَّ أَنَا صَدَقْتُ، ‌‌‌‌‌‏فَصَدِّقْنِي وَإِنْ أَنَا كَذَبْتُ، ‌‌‌‌‌‏فَكَذِّبْنِي، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ أَفْعَلُ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ ؟ قَالَ:‌‌‌‏ نَعَمْ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ ؟ قَالَ:‌‌‌‏ نَعَمْ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ جُلُودِ السِّبَاعِ وَالرُّكُوبِ عَلَيْهَا ؟ قَالَ:‌‌‌‏ نَعَمْ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ فَوَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ هَذَا كُلَّهُ فِي بَيْتِكَ يَا مُعَاوِيَةُ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ مُعَاوِيَةُ:‌‌‌‏ قَدْ عَلِمْتُ أَنِّي لَنْ أَنْجُوَ مِنْكَ يَا مِقْدَامُ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ خَالِدٌ:‌‌‌‏ فَأَمَرَ لَهُ مُعَاوِيَةُ بِمَا لَمْ يَأْمُرْ لِصَاحِبَيْهِ وَفَرَضَ لِابْنِهِ فِي الْمِائَتَيْنِ، ‌‌‌‌‌‏فَفَرَّقَهَا الْمِقْدَامُ فِي أَصْحَابِهِ قَالَ:‌‌‌‏ وَلَمْ يُعْطِ الْأَسَدِيُّ أَحَدًا شَيْئًا مِمَّا أَخَذَ فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاوِيَةُ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ:‌‌‌‏ أَمَّا الْمِقْدَامُ فَرَجُلٌ كَرِيمٌ بَسَطَ يَدَهُ وَأَمَّا الْأَسَدِيُّ فَرَجُلٌ حَسَنُ الْإِمْسَاكِ لِشَيْئِهِ .

مقدام بن معدی کرب، عمرو بن اسود اور بنی اسد کے قنسرین کے رہنے والے ایک شخص معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے مقدام سے کہا: کیا آپ کو خبر ہے کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا انتقال ہو گیا؟ مقدام نے یہ سن کر «انا لله وانا اليه راجعون» پڑھا تو ان سے ایک شخص نے کہا: کیا آپ اسے کوئی مصیبت سمجھتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں اسے مصیبت کیوں نہ سمجھوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی گود میں بٹھایا، اور فرمایا: یہ میرے مشابہ ہے، اور حسین علی کے ۔ یہ سن کر اسدی نے کہا: ایک انگارہ تھا جسے اللہ نے بجھا دیا تو مقدام نے کہا: آج میں آپ کو ناپسندیدہ بات سنائے، اور ناراض کئے بغیر نہیں رہ سکتا، پھر انہوں نے کہا: معاویہ! اگر میں سچ کہوں تو میری تصدیق کریں، اور اگر میں جھوٹ کہوں تو جھٹلا دیں، معاویہ بولے: میں ایسا ہی کروں گا۔ مقدام نے کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں: کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا پہننے سے منع فرمایا ہے؟ معاویہ نے کہا: ہاں۔ پھر کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں: کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشمی کپڑا پہننے سے منع فرمایا ہے؟ کہا: ہاں معلوم ہے، پھر کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں: کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھال پہننے اور اس پر سوار ہونے سے منع فرمایا ہے؟ کہا: ہاں معلوم ہے۔ تو انہوں نے کہا: معاویہ! قسم اللہ کی میں یہ ساری چیزیں آپ کے گھر میں دیکھ رہا ہوں؟ تو معاویہ نے کہا: مقدام! مجھے معلوم تھا کہ میں تمہاری نکتہ چینیوں سے بچ نہ سکوں گا۔ خالد کہتے ہیں: پھر معاویہ نے مقدام کو اتنا مال دینے کا حکم دیا جتنا ان کے اور دونوں ساتھیوں کو نہیں دیا تھا اور ان کے بیٹے کا حصہ دو سو والوں میں مقرر کیا، مقدام نے وہ سارا مال اپنے ساتھیوں میں بانٹ دیا، اسدی نے اپنے مال میں سے کسی کو کچھ نہ دیا، یہ خبر معاویہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: مقدام سخی آدمی ہیں

سند میں راوی ہے بقیہ بن ولید  

بقیہ بن ولید مدلس ھے اور یہاں تدلیس کر رھا ھے ۔۔۔ تدلیس تسویہ میں مشہور ھے۔

کیا امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے گھر میں حرام کام ہوتے تھے اور آپ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی شہادت پر کیا افسوس نہیں کیا یعنی آپ نے انا للہ وانا الیہ راجعون نہیں پڑھا یا خوش ہوئے ؟

نیم روافض و سبائی جو کہ اہل سنت کے لبادے میں موجود ہیں اکثر یہ حدیث پیش کرتے ہیں جو کہ مندرجہ ذیل ہے؛

مسندِ احمد کی حدیث

Musnad Ahmed Hadees # 12410

۔ (۱۲۴۱۰)۔ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ قَالَ: وَفَدَ الْمِقْدَامُ بْنُ مَعْدِی کَرِبَ، وَعَمْرُو بْنُ الْأَسْوَدِ إِلٰی مُعَاوِیَۃَ فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ لِلْمِقْدَامِ: أَعَلِمْتَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ تُوُفِّیَ؟ فَرَجَّعَ الْمِقْدَامُ، فَقَالَ لَہُ مُعَاوِیَۃُ: أَتُرَاہَا مُصِیبَۃً؟ فَقَالَ: وَلِمَ لَا أَرَاہَا مُصِیبَۃً؟ وَقَدْ وَضَعَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی حِجْرِہِ، وَقَالَ: ((ہٰذَا مِنِّی وَحُسَیْنٌ مِنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۲۱)
صفحہ 1 از 5