سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی وفات ، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی وفات ، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور روایات میں آگ کا انگارہ کے الفاظ(پارٹ1)

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

صفحہ 2 از 5

سیدنا مقدام بن معدی کرب اور سیدنا عمرو بن اسود معاویہ  ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما  کی خدمت میں گئے، سیدنا معاویہ  ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا مقدام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ   سے کہا: کیاآپ کو معلوم ہے کہ حسن بن علی  ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ  کا انتقال ہوگیا ہے؟ یہ سن کر مقدام نے اِنَّا لِلّٰہِ وَِاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُون پڑھا، سیدنا معاویہ  ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ  نے ان سے کہا: کیا آپ اس واقعہ کو مصیبت خیال کرتے ہیں؟ سیدنا مقدام نے کہا:میں اسے مصیبت کیوں نہ سمجھوں،جبکہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  نے انہیں اپنی گودمیں بٹھایا اور فرمایا تھا:  یہ حسن میرا ہے اور حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ  کا ہے۔

یہ روایت سند کے اعتبار سے سخت ضعیف ہے۔
اس روایت میں بقیہ بن ولید ہے اس کی روایت کو قبول کرنے کےلیے علماء نے پانچ شروط کا ذکر کیا ہے جیساکہ جرح تعديل کے عظیم عربی عالم الشیخ عبداللہ السعد اپنی کتاب الجرح والتعدیل میں اور الابانۃ کی انتہائی عظیم ترین، اور جامع ترین مقدمے میں بقیہ کے حوالے سے ان پانچ اصولوں کو بیان فرماتے ہیں ، ہم اپنی ترتیب کے ساتھ ان اصولوں کو ذکر کرتے ہوئے ان پر تفصیلی کلام کرتے ہیں.

اولا:
شيخ السعد فرماتے ہیں:

أن يكون الراوي عنه ثقة متيقِّظاً ويستحسن أن لا يكون حمصياً وذلك أن بقية قد يروي عن آخر ولا يصرح بالتحديث فيرويه الراوي عنه على أن بقية صرح بالتحديث بينه وبين شيخه وبقية لم يفعل ذلك وهذا إما أن يفعله الراوي عن بقية تعمّداً أو غفلة.

بقیہ سےبیاں کرنے والا ہوشیار (چکنہ) ثقہ راوی ہو اور مستحسن یہی ہے کہ وہ راوی حمصی نہ ہو کیونکہ بقیہ کبھی تصریح سماع کے بغیر روایت کرتا ہے اور اس سے سننے والا ( حمصی راوی) اس کو تصریح سماع سے روایت کردیتا ہے حالانکہ بقیہ نے تصریح سماع نہیں کیا ہوتا۔بقیہ سے بیان کرنے والا راوی یہ عمل یا تو جان بوجھ کر کرتا ہے یا غفلت کے بنیاد پر.
موجودہ روایت کو بقیۃ اھل حمص سے ہی بیان کر رہے ہیں اور اھل حمص سے بقیہ کی روایات کے بارے میں اصول آپ نے پڑھا کہ ، ظاہرا سماع کی صراحت ہو پھر بھی روایت مردود سمجھی جائے گی کیونکہ اھل حمص صیغہ تصریح سماع اور غیر تصریح میں فرق نہیں کرتے تھے۔ جیساکہ محدث ابو زرعہ الرازی رحمہ اللہ کا فرمان موجود ہے جب ان سے اس سند کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیسی ہے؟

رواه أبو تقي قال: ثني بقية قال حدثي عبد العزيز بن أبي رواد عن نافع عن ابن عمر قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم : " لا تبدءوا بالكلام قبل السلام فمن بدأ بالكلام قبل السلام فلا تجيبوه ".

اس سند میں بقیہ نے( حدثنی) کہا ہے۔
لیکن اس سند کے بارے میں ابو زرعہ رحمه اللہ فرماتے ہیں :

قال أبو زرعة: هذا حديث ليس له أصل ، لم يسمع بقية هذا الحديث من عبد العزيز إنما هـو عن أهل حمص وأهل حمص لا يميزون هذا. (العلل لابن ابی حاتم الرازی رحمہ اللہ 2/331-332/ دوسرا نسخہ ج 6 ص2527 مسئلہ نمبر:2517 علل واخبار رویت فی الآداب والطب)

اس حدیث کی کوئی اصل نہیں ہے،کیونکہ بقیہ نے اس حدیث کو عبدالعزیز سے نہیں سنا ،بیشک اسکی یہ روایت اھل حمص سے ہے اور اھل حمص صیغہ سماع کی تمیز نہیں کرتے( یعنی اھل حمص جب روایت کرتے ہیں توعدم سماع کےلیے بھی سماع والے صیغے ذکر کر دیتے ہیں).

ثانیاً::
شیخ السعد فرماتے ہیں:

إذا صرِّح بينه وبين شيخه بالتحديث۔

اپنے شیخ سے تصریح سماع کرے اور یہاں وہ نہیں ہے 
اگرچہ مسند احمد میں وہ موجود ہے لیکن بے فائدہ ہے کیونکہ وہاں بھی اس سے بیان کرنے والاعثمان الحمصی راوی ہی ہے اور اھل حمص کا بقیہ سے تصریح سماع بھی مردود ہے۔

ثالثاً:
شیخ السعد فرماتے ہیں:

إذا صرّح بالتحديث بين شيخه وشيخ شيخه لأنه أحياناً يدلّس تدليس التسوية.

اس کی روایت اس وقت قبول ہوگی جب وہ اپنے شیخ اور شیخ کے شیخ کے درمیان صیغہ تصریح سماع ذکر کرے۔ (اور آگے پوری سند میں تصریح سماع ہو) کیونکہ وہ کبھی کبھار تدلیس تسویہ بھی کرتا تھا۔

اس عبارت سے معلوم ہوا کے بقیہ تدلیس تسویہ کرتا تھا تدلیس تسویہ کا مقصد یہ ہے کہ کوئی راوی ایک روایت اپنے ثقہ استاد سے سنے اور اس نے وہ روایت ضعیف سے سنی ہو اور اس ضعیعف کا استاد ثقہ ہو تو یہ راوی بیچ سے ضعیف کو گرا کر سند کو ایسے بنا دیتا ہے ثقہ سے ثقہ روایت کر رہا ہے اب پڑھنے سننے والا سند صحیح سمجھ لیتا کیونکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ اس ثقہ نے دوسرے ثقہ سے سنا ہوتا ہے لیکن یہ راوایت نہیں سنی ہوتی۔  

نوٹ : قدیم علماء کے ہاں اسکا نام تجوید تھا کہتے تھے جودہ فلان، سب سے پہلے علامہ ابن القطان الفاسی نے اسکا نام تدلیس تسویہ متعارف کرایا۔ قالہ السخاوی فی (فتح المغیث:ج ،1 ص 193/194)

بقیہ تدلیس تسویہ کرتا تھا اس حوالے سے کئی علماء کے اقوال موجود ہیں، ہم چند کو ذکر کرتے ہیں۔

(1)ابو حاتم الرازي رحمه الله ایک کی سند پر بحث فرماتے ہوئے کہتے ہیں:

فكان بقية ابن الوليد كني عبيد الله بن عمرو ونسبه الى بني أسد لكي لا يفتن به حتى اذا ترك اسحاق بن ابي فروۃ من الوسط لا يهتدي له وكان بقية من افعل الناس لهذا.
( العلل لابن ابی حاتم الرازی ج5 ص251 الرقم:1957)

مفہوم:
گویا کہ بقیہ بن ولید نے اس میں عبید اللہ بن عمرو کی کنیت بیان کی ہے اور اسے بنو اسد ( قبیلہ ) کی طرف منسوب کیا ہے تاکہ اسے پہچان نہ لیا جائے یہاں تک کہ اسحاق بن ابی فروہ کو درمیان سے گرا دیا ہے تاکہ اس کے بارے میں پتہ نہ چلے،اور بقیہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ یہ کام کرتا تھا۔
ابو حاتم رحمہ اللہ نے دلیل کے ساتھ بقیہ پر تدلیس کا حکم لگایا بلکہ کہا (افعل الناس) افعل صیغہ تفضیل ہے یعنی اس کا یہ کام بڑھ چڑھ کر ہوتا تھا ۔

نوٹ: مذکورہ سند میں جس راوی اسحاق کو اس نے گرایا ہے وہ سخت ضعیف ہے بلکہ بعض نے اسے کذاب اور متروک الحدیث تک کہا ہے، جو شخص درمیان سے ایسے کمزور شخص کو گرا سکتا ہے تاکہ لوگ اس کی روایت کو صحیح سمجھیں تو ایسے راوی کی پوری روایت میں تصریح سماع کی شرط لگانا ضروری ہے۔

(2)علامہ بدرالدین الزرکشی رحمۃ اللہ علیہ تدلیس تسویہ کا ذکر کرتےفرماتے ہیں:

ومن من اشتهر بهذا بقية بن الوليد.
( النکت علی ابن الصلاح ص193)
صفحہ 2 از 5