سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی وفات ، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی وفات ، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور روایات میں آگ کا انگارہ کے الفاظ(پارٹ1)

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

صفحہ 3 از 5

(3) حافظ محدث عبد الرحیم العراقی رحمہ اللہ بھی اس کو تدلیس تسویہ کرنے والوں میں ذکر کرتے ہیں۔

( فتح المغیث شرح الالفیہ للعراقی ص98)

(4) حافظ عمر بن علی المشھور بابن الملقن۔
اس کو تدلیس تسویہ کرنے والوں میں ذکر کرتے ہیں۔

( المقنع فی علوم الحدیث، النوع الثانی عشر معرفۃ التدلیس وحکم المدلس ص 110 )

(5)حافظ ابن حجر العسقلانی کا موقف۔

إن سلم من وهم بقية ففيه تدليسه تدليس التسوية، لأنه عنعن لشيخه۔
( التلخیص الحبیر ج2 ص163)

اگرچہ روایت بقیہ کے وہم سے سالم ہے لیکن اس میں اسکی تدلیس تسویہ موجود ہے کیونکہ اس نے اپنے استاد سے عنعنہ سے روایت بیان کی ہے۔
اس قول کو شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی برقرار رکھا ہے ( الاواء الغلیل ج3 89 )
حافظ ابن حجر ایک دوسری روایت کے بارے میں لکھتے ہیں :

بقية صدوق، لكنه يدلس و يسوي، قد عنعنه عن شيخه و شيخ شيخه .

”بقیہ صدوق راوی ہے، لیکن تدلیس تسویہ کرتا تھا، اس نے اپنے استاذ اور استاذ کے استاذ سے بصیغہ عن روایت کی کیا ہے۔ “ [موافقه الخبر الخبر لابن حجر : 276/1 ]
(6) حافظ خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ بھی اس پر یہ حکم لگاتے تھے۔
( الکفایہ فی علم الروایہ / 316)
(7): امام ابو احمد الحاکم محدث خراسان ( یہ امام ابوعبداللہ الحاکم صاحب المستدرک کے استاد ثقہ، امام ہیں) بقیہ کے بارے میں فرماتے ہیں:

(ثقۃ فی حدیثۃ إذا حدث عن الثقات بما یعرف لکنہ ربماروی عن أقوام مثل الأوزاعي و الزبیدي و عبید اللہ العمري أحادیث شبیھۃ بالموضوعۃ أخذھا عن محمد بن عبدالرحمن و یوسف بن السفر و غیر ھما من الضعفاء و یسقطھم من الوسط و یرویھا عن من حدثوہ بھا عنھم)

مفہوم :
جب وہ ان ثقہ راویوں سے روایتیں بیان کرے جو معروف ہیں ( صیغہ صراحت کے ساتھ)تو ثقہ ہے کیونکہ بعض اوقات وہ کچھ اھل علم مثلاً اوزاعی، زبیدی اور عبید اللہ العمری سے موضوعات کے مشابہ وہ احادیث بیان کرتا ہے جو اس نے محمد بن عبدالرحمن اور یوسف بن السفر و غیر ھما ضعیف راویوں سے حاصل کی تھیں وہ انہیں درمیان سے گرا کر ان سے حدیثیں بیان کرتا ہے جن سے انہوں نے اسے احادیث سنائی تھیں(تہذیب التہذیب ج1ص477) العلامہ الحافظ صلاح الدین ابوسعید العلائی۔

بقیۃ بن الولید مشھور بہ مکثر لہ عن الضعفاء یعانی التسویۃ التی تقدم ذکرھا۔
( جامع التحصیل للعلائی، ص105)

یعنی : بقیہ بن ولید ضعیف راویوں سے تدلیس تسویہ کرنے میں مشہور ہیں۔
اسی طرح دیگر کئی کبار علماء کے اقوال اس حوالے سے موجود ہیں جن کو ہم تفصیلی طور اپنی کتاب میں شایع کرینگے۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔
بقیہ کی کے مقبول یونے کےلیے دو اور بھی شرطیں شیخ السعد نے ذکر کیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ معروف ثقہ راوی سے بیان کر رہا ہو اور شامی راویوں میں سے بحیر بن سعد اور محمد بن زیاد الشامی راویوں سے بیان کرتا ہو۔
خلاصہ کلام:
بقیہ کی روایت کے قبول ہونے کےلیے مذکورہ پانچ شرطوں میں سے کوئی ایک بھی مفقود ہوئی تو اسکی روایت کو مردود اور ضعیف سمجھا جائے گا۔
اور یہاں تین شرطوں کا فقدان ہیں لھذا یہ روایت ضعیف ہے اور اسکی تین علتیں ہیں۔
پہلی علت
خود بقیہ مدلس ہے عن سے بیان کر رہا ہےاور مسند احمد میں اس کی روایت تصریح سماع سے موجود ہے ہے لیکن وہ بھی مردود سمجھی جائے گی کیونکہ حمصی راوی سے ہے۔ 
دوسری علت:
بقیہ تدلیس تسویہ کرتا تھا لھذا پوری سند میں تصریح سماع ضروری ہے اور یہاں اس طرح نہیں ہے۔
تیسری علت:
اھل حمص جب اس سے روایت کریں تو روایت مردود سمجھی جائے گی کیونکہ وہ صیغہ تصریح کی تمیز نہیں کرتے۔
نوٹ: اس روایت کو علامہ شعیب الارناؤط رحمۃ اللہ علیہ نے مسند احمد کی تحقیق میں ضعیف کہا ہے۔
اس روایت کے حوالے سے دوسری اھم بات:
اگر اس روایت بالفرض والمحال اس حدیث کوصحیح مانیں اور کہیں کہ معاویہ رضی اللہ کے گھر میں یہ کام ہوتے تھے تو ، مرزا جھلمی کون ہوتا ہے جو معاویہ سے بخشش چھین لے ۔۔۔۔!!!
بشری تقاضہ کے مطابق ہر انسان سے غلطی صادر ہو سکتی ہے، اس حوالے معاویہ اور مسور رضی اللہ عنہما کا دلچسپ مکالمہ ملاحظہ ہو۔

عن عروة: أنَّ المِسْوَرَ بنَ مَخرَمةَ أخبَرَه أنَّه وفَدَ على مُعاويةَ، فقَضى حاجَتَه، ثم خَلا به، فقال: يا مِسوَرُ، ما فَعَلَ طَعنُكَ على الأئِمَّةِ؟ قال: دَعْنا مِن هذا وأحسِنْ. قال: لا واللهِ، لَتُكَلِّمَنِّي بذاتِ نَفْسِكَ بالذي تَعيبُ علَيَّ. قال مِسوَرٌ: فلم أترُكْ شَيئًا أعيبُه عليه إلّا بَيَّنتُ له. فقال: لا أبرَأُ مِن الذَّنبِ، فهل تَعُدُّ لنا يا مِسوَرُ ما نَلي مِنَ الإصلاحِ في أمْرِ العامَّةِ؛ فإنَّ الحَسَنةَ بعَشرِ أمثالِها، أم تَعُدُّ الذُّنوبَ، وتَترُكُ الإحسانَ؟ قال: ما تُذكَرُ إلّا الذُّنوبُ. قال مُعاويةُ: فإنّا نَعتَرِفُ للهِ بكُلِّ ذَنبٍ أذنَبْناه، فهل لكَ يا مِسوَرُ ذُنوبٌ في خاصَّتِكَ تَخْشى أنْ تُهلِكَكَ إنْ لم تُغفَرْ؟ قال: نَعَمْ. قال: فما يَجعَلُكَ اللهُ برَجاءِ المَغفِرةِ أحَقَّ مِنِّي، فواللهِ ما ألي مِنَ الإصلاحِ أكثَرَ ممّا تَلي، ولكنْ -واللهِ- لا أُخيَّرُ بيْنَ أمرَيْنِ بيْنَ اللهِ وبَينَ غَيرِه، إلّا اختَرتُ اللهَ على ما سِواه، وإنِّي لَعَلى دِينٍ يُقبَلُ فيه العَمَلُ ويُجزى فيه بالحَسَناتِ، ويُجزى فيه بالذُّنوبِ، إلّا أنْ يَعفُوَ اللهُ عنها. قال: فخَصَمَني. قال عُروةُ: فلم أسمَعِ المِسوَرَ ذَكَرَ مُعاويةَ إلّا صلّى عليه.
سير أعلام النبلاء ٣/١٥١ • رجاله ثقات قال الشيخ شعيب الارناؤط. رحمة الله عليه اسی طرح یہ اثر تاریخ بغداد (ج1 ص576) وغیرہ میں بھی موجود ہے۔ 
صفحہ 3 از 5