سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی وفات ، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی وفات ، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور روایات میں آگ کا انگارہ کے الفاظ(پارٹ1)

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

صفحہ 4 از 5

خلاصہ کلام:
جناب مسور رضی اللہ عنہ کے ذہن میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے کچھ خدشات تھے حضرت مسور نے وہ سارے بیان کر دیے ؛ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے میں اپنے آپ کو گناہوں سے پاک نہیں سمجھتا اسکے بعد حضرت معاویہ کہنے لگے :
اے مسور ! کیا لوگوں کی اصلاح کے حوالے سے جو کام ہم کر رہے ہیں وہ آپ شمار نہیں کرتے؟؟بے شک نیکی تو دس گنا بڑھتی ہے؛ کیا آپ صرف ہمارے گناہ ہی شمار کرتے ہیں ؟؟؟اور نیکیوں کو چھوڑ دیتے ہیں!!!!اسکے بعد معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے ہم اللہ کے سامنے ہر اس گناہ کا اعتراف کرتے ہیں جو ہم نے کیا ہے۔ پھر معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت مسور رضی اللہ عنہ سے پوچھنے لگے کہ ؛کیا آپ کے بھی ایسے کوئی خاص گناہ ہیں کہ اگر آپ کو معاف نہیں کیے گئے تو آپ ہلاک ہو جائیں ؟؟؟مسور رضی اللہ عنہ کہنے لگے جی: ہاں ؛ پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے اے مسور!! وہ کون سی چیز ہے جس وجہ سے آپ اللہ کی بخشش میں مجھ سے زیادہ امیدوار بن رہے ہیں؟؟؟؟(اور مجھے محروم کر رہے ہیں؟؟) اللہ کی قسم میں اصلاح کی آپ سے زیادہ کوشش کرتا ہوں؛ اللہ کی قسم مجھے اختیار نہیں دیا جاتا دو کاموں کے بیچ ؛ایک میں اللہ کی رضامندی اور دوسرے کام میں مخلوق کی رضامندی ہوتی ہے تو میں وہی کام اختیار کرتا ہوں جس میں اللہ کی رضامندی ہوتی ہے شاید میں ایسے دین میں ہوں جس میں عمل قبول کیا جاتا ہے اور نیکیوں کا بدلہ دیا جاتا ہے اور گناہوں کا بھی؛ مگر یہ کہ اللہ ان کو معاف کر دے ۔
حضرت مسور کہنے لگے وہ بحث میں مجھ پر غالب آگئے۔
جناب عروہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :: اس کے بعد جب بھی میں نے مسور رضی اللہ عنہ کو معاویہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کرتے سنا تو ضرور اس کے لیے بخشش کی دعائیں کرتے۔
کچھ اسناد کے اندر یہ الفاظ بھی ملتے ہیں۔

قال معاوية : فأنا أحتسب كل حسنة عملتها بأضعافها , وأوازي أمورا عظاما لا أحصيها ولا تحصيها من عمل الله : في إقامة صلوات المسلمين , والجهاد في سبيل الله عز وجل , والحكم بما أنزل الله تعالى , والأمور التي لست تحصيها , وإن عددتها لك , فتفكر في ذلك)) .
قال المسور : ((فعرفت أن معاوية قد خصمني حين ذكر لي))قال عروة فلم يسمع المسور بعد ذلك يذكر معاوية إلا استغفر له.

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ؛ جناب مسور رضی اللہ عنہ کو کہنے لگے:: میں اللہ تعالیٰ میں امید کرتا ہوں کہ مجھے نیکی کا بڑھا چڑھا کر اجر دیا جائے گا اور میں نے( اللہ کے لیے ) بڑے کام کیے ہیں جن کو نہ میں شمار کر سکتا ہوں نہ ہی آپ؛ جیسے مسلمانوں میں نماز کو قائم کروانا؛ اللہ کے راستے میں جہاد کرنا؛ اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلے کرنا اور دیگر کام جن کو آپ شمار نہیں کرتے ؛ اگر میں آپ کے سامنے انکا تذکرہ کروں اور گنوائوں لھذا آپ اس حوالے سے غور فکر کریں ( یعنی میری نیکیوں کو بھول جاتے ہو اور میری کوتاہیوں کو ذکر کرتے ہو). حضرت مسور کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ بحث میں مجھ پر غالب آ گئے۔
جناب عروہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اسکے بعد جب بھی میں نے مسور رضی اللہ عنہ کو معاویہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کرتے سنتا تھا تو ہمیشہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے بخشش کی دعائیں فرماتے۔
نوٹ:: اس واقعے پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ ایک غلطی میں مبتلا ہوئے اور انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی ذات پر کبھ خدشات کا اظہار کیا، مگر انہوں نے اپنی اس غلط فھمی سے فوراً رجوع کیا جب ان کے سامنے حق بات واضح کردی گئی۔ یہ بات نیم روافض کے لئے لمحہ فکریہ ہے جن کا کام ہی بن چکا ہے خال المؤمنین حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف زبان درازی کرنا۔ ھداھم اللہ۔
بلاشبہ حکمران بھی انسان ہوتے ہیں ان سے بھی اسی طرح کوتاہیاں سرزد ہوسکتی ہیں جیسے دوسروں سے ہوتے ہیں۔ جب وہ اپنے کوتاہیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اللہ تعالی سے بخشش طلب کرتے ہيں تو بے شک اللہ تعالی غفورورحیم ہے ان کے لیے بھی بخشش اور رحمت کے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔
اس واقعے کی سند صحیح ہے تاریخ بغداد میں اسکی سند اس طرح ہے۔

اخبرنا القاضي أبو بكر أحمد بن الحسن الحرشي ، قال : أخبرنا أبو العباس محمد بن يعقوب الأصم ، قال : حدثنا محمد بن خالد بن خلي الحمصي ، قال : حدثنا بشر بن شعيب بن أبي حمزة ، عن أبيه ، عن الزهري ، قال : أخںرنی عروۃ بنْ الزبير ۔۔۔

سند میں موجود ہر راوی کے بارے میں تعدیل پیش خدمت ہے۔
(1) ابوبکر احمد بن حسن الحرشی۔ قال الذهبي رحمه الله في ترجمته الامام العالم المحدث مسند خراسان (ج13 ص227 ت3835)
(2)محمد بن یعقوب الاصم۔ قال الذھبی فی ترجمتہ۔
الامام المحدث مسند العصر رحلۃ الوقت۔ ( السیر ص 106 ج12 ت 3501)
(3) محمد بن خالد بن خلی الحمصی۔
قال الحافظ۔ صدوق۔( التقریب ت5844 ص532)
(4) بشر بن شعیب۔ ثقۃ ( التقریب ت688 ص97)
(5) شعیب بن ابی حمزہ الاموی ( التقریب :ت 2798ص 271)
(6) محمد بن مسلم بن شھاب الزھری۔ قال عنه الحافظ: الفقيه الحافظ متفق على جلالته واتقانه.( التقریب ت 6296 ص 564).

روایت کا متن:

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ مسندِ احمد کی یہ حدیث محدثین کے نزدیک ضعیف ہے. مگر چونکہ نیم روافض امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو تنقید کا نشانہ بنانا چاہتے ہیں اس لئیے وہ اس حدیث کی مد میں کچھ محدثین کی توثیق پیش کرتے ہیں. ہم بات کو آگے چلانے کے لئیے ان سے سند پر گفتگو نہیں کرتے اگر اس کی سند  اہل باطل کے مطابق درست ماں بھی  لی جائے تب بھی ان کی جان نہیں چھوٹ سکتی اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی سند سے اگر یہ ہٹتے ہیں تو متن پر پکڑ ہو جاتی ہے.

اب دیکھتے ہیں کہ اس کے متن پر کون سی جرح نظر آتی ہے.

جرح :

حدیث میں حضرت مقدام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ بیان ہے....

میں اسے مصیبت کیوں نہ سمجھوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی گود میں بٹھایا، اور فرمایا: یہ میرے مشابہ ہے، اور حسین علی کے مقدام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے یہ بات بولی کہ نبی کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ حسن مجھ سے ہے اور حسین علی سے جبکہ مستدرک الحاکم کی حدیث ہے

صفحہ 4 از 5