سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی وفات ، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی وفات ، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور روایات میں آگ کا انگارہ کے الفاظ(پارٹ1)

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

صفحہ 5 از 5

حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں جو حسین سے محبت کرے اللہ اس سے محبت کرے۔ حسین میری نسلوں میں سے ایک نسل ہے ۔ مستدرک حاکم جلد ۳ ص ۱۵۹ (فضل حسین )

یہاں پر نبی کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ حسین ان سے ہے اور مقدام رضی اللہ تعالٰی عنہ یہ بات بولتے ہیں کہ نبی نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ حسن مجھ سے ہے اور حسین علی سے....محدثین کے اصول کے مطابق صحابہ کرام نبی کی بات بیان کرنے میں صدوق تھے اگر ہم اس حدیث کو درست بھی مان لیتے ہیں تو ہم کو یہ بات نعوذبااللہ تسلیم کرنی ہو گی کہ حضرت مقدام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے نبی کی ذات کو لے کر جھوٹ بولا ہے اور نبی کی حدیث ہے کہ جس نے میری طرف جھوٹ منسوب کیا وہ جہنمی ہے (الزامی سوال). اب ان  ہی کے اصول کے مطابق نیم روافض جو کہ اہل سنت کا لبادہ پہنے ہوئے ہیں اپنی منطق کے مطابق اس بات کو نعوذبااللہ  تسلیم کریں کہ مقدام بن حکم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی پر جھوٹ بندھا ہے یا تو اس موقف سے دستبردار ہو جائیں. اسی طرح کے الفاظ ابو داؤد کی حدیث میں بھی موجود ہیں جس کے اوپر ہماری ایسی ہی جرح موجود ہے.

ایک اور رد 

اگر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ کی موت پر نعوذبااللہ خوش تھے اور ان سے بغض رکھتے تھے تو جس بندہ سے اگر کوئی دوسرا بندہ بغض رکھے تو اس کی فضیلت اور اچھائی کبھی بھی بیان نہیں کرتا یہ لیں دیکھیں عقیدہ معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا اہل بیت کو لے کر.

۔ (۱۲۳۹۹)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمُصُّ لِسَانَہُ، أَوْ قَالَ: شَفَتَہُ یَعْنِی الْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ صَلَوَاتُ اللّٰہِ عَلَیْہِ، وَإِنَّہُ لَنْ یُعَذَّبَ لِسَانٌ أَوْ شَفَتَانِ مَصَّہُمَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۶۹۷۳)

سیدنا معاویہ بن ابی سفیان  ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ  سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ  کی زبان کو یا ہونٹ کو چوس رہے تھے اور جس زبان یا ہونٹوں کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  نے چوما ہو، اسے عذاب نہیں ہوگا۔

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے مرفوع حدیث سے استدلال کرتے ہوئے حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ کی فضلیت بیان کی کہ جن ہونٹوں کو اللَّهُ کہ نبی نے چوما ان کو کبھی بھی عذاب نہیں ہو گا۔

اس اعتراض کا ایک اور جواب بمعہ اسکینز ملاحظہ فرمائیں۔

راوی بقیہ بن ولید کی تدلیس (اسکینز)

صفحہ 5 از 5