شیعوں اور سنیوں کا ایک قربانی میں شریک ہونا - فتاویٰ جات |…

شیعوں اور سنیوں کا ایک قربانی میں شریک ہونا


سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قربانی کے جانور میں سنی اور شیعہ شریک ہوتے ہیں اور شیعہ وہ ہیں جو سبِّ شیخینؓ کرتے ہیں۔ کیا یہ قربانی درست ہے؟

جواب:  اگر شیعہ امورِ دین میں سے کسی مسئلہ ضروریہ کا منکر نہیں، یعنی الوہیتِ حضرت علیؓ کا قائل نہ ہو، حضرت جبرئیل علیہ السلام کے وحی لانے میں غلطی کا قائل نہ ہو، حضرت عائشہؓ پر بہتان (تہمت) نہ لگاتا ہو وغیرہ ذالک، تو وہ کافر نہیں، لیکن سبِّ شیخین رضی اللہ عنہما کی وجہ سے فاسق و فاجر ہے۔ پس اگر کسی مسئلہ ضروریہ کا منکر شیعہ سنیوں کے ساتھ ذبیحہ قربانی میں شریک ہو گا تو سب کی قربانی جائز نہیں، کیونکہ قربانی کا ایک حصہ غیرِ عبادت کے طریقے پر ہے اور مکمل ذبح اللہ تعالیٰ کے لیے نہیں ہوا۔ اور اگر فاسق شیعہ سنیوں کے ساتھ قربانی میں شریک ہو گا تو اگرچہ قربانی سب کی صحیح ہو جائے گی، لیکن ایسے فاسق و فاجر کو بھی قربانی میں، جو ایک عبادت ہے، شریک نہ کرنا چاہیے اور اس سے احتراز کیا جائے۔  

(فتاویٰ مفتی محمود: جلد 9 صفحہ 570)