میرے پاس نہیں ہے کہ تم دونوں کو پہناؤں
علی محمد محمد الصلابی2۔ میرے پاس نہیں ہے کہ تم دونوں کو پہناؤں:
ابن سعدؒ نے جعفر بن محمد الباقر سے روایت کیا ہے، انھوں نے اپنے والد کے واسطہ سے علی بن حسین (زین العابدین) سے روایت کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس یمن کے حُلّے (جوڑے) آئے، آپ نے لوگوں میں تقسیم کر دیے، وہ سب یہ نئے کپڑے پہن کر مسجد نبوی میں آئے، حضرت عمرؓ منبر اور قبر نبویﷺ کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے۔ لوگ آتے سلام کرتے، ان کو دعائیں دیتے، اتنے میں حسن وحسین رضی اللہ عنہما اپنی والدہ فاطمہؓ کے مکان سے نکلے، لوگوں کے درمیان سے گزر رہے تھے اور ان صاحبزادوں کے جسم پر وہ حُلّے نہیں تھے، سیدنا عمرؓ افسردہ اور اداس بیٹھے ہوئے تھے، پھر کہنے لگے: واللہ میرے پاس نہیں ہے کہ تم دونوں کو پہناؤں۔ لوگوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ نے اپنی رعایا میں تقسیم کر دیا بہت اچھا کیا، آخر غمگین کیوں ہیں؟ کہنے لگے: میں ان بچوں کی وجہ سے مغموم ہوں کہ ان کے بدن کے مطابق حلے نہیں تھے، حُلّے بڑے تھے اور ان کے قد نہایت چھوٹے ہیں، اس کے بعد یمن پیغام بھیجا کہ دو جوڑے بعجلت حسن وحسین کے لیے بھیجے جائیں، چنانچہ وہ بھیجے گئے اور آپ ؓنے ان دونوں کو پہنائے تب اطمینان ہوا۔
(المرتضیٰ: صفحہ 187،188
الإصابۃ: جلد 1 صفحہ 106)
