وظیفہ دینے میں بنی ہاشم کو مقدم کرنا - دفاعِ اہلِ سنت |…

وظیفہ دینے میں بنی ہاشم کو مقدم کرنا

  علی محمد محمد الصلابی

3۔ وظیفہ دینے میں بنی ہاشم کو مقدم کرنا:

ابو جعفر سے روایت ہے کہ جب اللہ نے فتوحات کے دروازے کھول دیے تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ہر ایک کے لیے وظیفہ مقرر کرنے کا ارادہ کیا اور رائے مشورہ کے لیے کبار صحابہ کرامؓ کوجمع کیا، حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے کہا: آپ اپنی ذات سے شروع کیجیے۔ آپؓ نے کہا: ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! اس سے شروع کروں گا جو رسول اللہﷺ سے زیادہ قریب ہوگا، اور بنو ہاشم سے شروع کروں گا، جو رسول اللہﷺ کا قبیلہ ہے، چنانچہ حضرت عمر فاروقؓ نے پہلے حضرت عباسؓ کا پھر حضرت علیؓ رضی اللہ عنہ کا حصہ مقرر کیا، یہاں تک کہ پانچ قبائل کو ترتیب سے مقرر کرتے رہے اور اخیر میں بنوعدی بن کعب تک پہنچے، ترتیب یوں رکھی گئی کہ بنو ہاشم میں جو لوگ بدر میں شریک تھے ان کے لیے عطیات مقرر کیے، پھر بنو امیہ بن عبد شمس میں جو لوگ بدر میں شریک تھے ان کے نام لکھے، جو زیادہ قریب تھا وہ پہلے پھر اس سے جو قریب تھا یعنی الا قرب فالاقرب، سب کے حصے مقرر کیے اور سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے لیے رسول اللہﷺ کے نزدیک مقام و مرتبہ اور قربت کی وجہ سے وظیفہ مقرر فرمایا۔ 

(الخراج: أبو یوسف: 24، 52، المرتضیٰ: صفحہ 188)