5۔ ینبع کی جاگیر داری:
سیدنا عمر بن خطابؓ نے اپنی دورِ حکومت میں ’’ینبع‘‘ کی زمین کو حضرت علیؓ کو بطورِ عطیہ دیا، حضرت علیؓ نے اسی سے متصل مزید اراضی خرید لی، اور اس میں ایک چشمہ تیار کرانا چاہا، جب کھدائی کا کام شروع ہوا تو اونٹوں کے گلے کی طرح پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا، حضرت علیؓ کو خبر دی گئی اورخوش خبری سنائی گئی، خوشخبری سن کر آپ نے اس زمین کو فقراء ومساکین کے لیے اللہ کے راستہ میں وقف کر دیا، تاکہ روزِ قیامت میں جب کچھ چہرے روشن اور کچھ سیاہ ہوں گے یہ کام آئے اور اللہ ان سے خوش ہو کر انھیں جہنم سے بچا لے۔ آپ نے وقف کرتے ہوئے جو تحریر تیار کیا تھا اس کا مضمون یہ تھا:
’’یہ علی بن ابی طالب کا حکم، اور اپنے مال سے متعلق فیصلہ ہے، میں ’‘’ینبع، وادی القریٰ، اذنیۃ‘‘ اور ’’راعہ‘‘ کی زمین کو ثواب کی خاطر اللہ کے راستہ میں، اللہ کی رضا کے لیے وقف کر رہا ہوں۔ اس آمدنی کے مصارف میں ہر نیک کام ہے، اسے جنگ اور صلح، اسلامی افواج اور دور، قریب کے
رشتہ داروں میں خرچ کیا جائے، اسے نہ بیچا جائے اور نہ ہبہ کیا جائے اور نہ کسی کو وراثت میں دیا جائے، میں زندہ رہوں یا مرجاؤں۔ میں اس سے صرف اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی چاہتا ہوں، صرف اللہ کے لیے سب کچھ کیا ہے، وہی اسے قبول کرے گا اور وہی اس کی حفاظت کرے گا وہ سب سے بہتر حفاظت کرنے والا ہے اس زمین کے بارے میں میں نے اپنے اور اللہ کے درمیان یہی فیصلہ کیا ہے۔‘‘
(المحلی: جلد 6 صفحہ 180
مصنف عبدالرزاق: جلد 10 صفحہ 375
فقہ علی: قلعی 626)