اے ابوالحسن! کچھ ضرور کہو - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

اے ابوالحسن! کچھ ضرور کہو

  علی محمد محمد الصلابی

6۔ اے ابوالحسن! کچھ ضرور کہو:

ایک مرتبہ قریش کی ایک مجلس منعقد ہوئی، اس میں سیدنا علیؓ بھی تھے سب نے اپنے شرف اور خاندانی وجاہت کا ذکر کیا اور حضرت علیؓ خاموش سنتے رہے، حضرت عمرؓ نے کہا: اے ابوالحسن! اس قدر خاموش کیوں؟ گویا حضرت علیؓ ان کے بیچ میں بولنا پسند نہیں کرتے تھے لیکن حضرت عمرؓ نے کہا: اے ابوالحسن! تم ضرور کچھ کہو، حضرت علیؓ نے اس موقع پر یہ اشعار پڑھے:

فِیْ کُلِّ مُعْتَرَکٍ تُزِیْلُ سُیُوْفُنَا

فِیْہَا الْجَمَاجِمَ عَنْ فِرَاخِ الْھَامِ

’’ہر معرکہ میں ہماری تلواریں ان کے سروں سے کھوپڑیوں کو اڑا دیتی ہیں۔‘‘

اَللّٰہُ أَکْرَمَنَا بِنَصْرِ نَبِیْہِ 

وَبِنَا أَعَزَّ شَرَائِعَ الْإِسْلَامِ

’’اللہ نے ہمیں اپنے نبی کی نصرت کے ذریعہ سے شرف بخشا، اور ہمارے ذریعہ سے اسلامی شریعت کو عزت بخشی۔‘‘

وَیَزُوْرُنَاجِبْرِیْلُ فِیْ أَبْیَاتِنَا بِفَرَائِضِ الْإِسْلَامِ وَالْأَحْکَامِ

(المختصر من کتاب الموافقۃ: صفحہ 138)۔

’’جبریل ہمارے گھروں میں اسلام کے فرائض واحکام کے ساتھ زیارت کرتے ہیں۔‘‘