7۔ خواب سے متعلق حضرت علی اور عمر رضی اللہ عنہما کے درمیان گفتگو:
سیدنا عمرؓ نے سیدنا علیؓ سے کہا: مجھے آدمی کے خواب پر تعجب ہوتا ہے کہ وہ سوتا ہے تو خواب میں ایسی چیزیں دیکھتا ہے جو اس کے تصور میں بھی نہیں گزری ہوئی ہوتیں اور اس کا خواب ہو بہو واقع ہوتا ہے اور کوئی آدمی خواب دیکھتا ہے اور اس کا خواب کچھ نہیں ہوتا، حضرت علیؓ نے فرمایا: اے امیر المومنین کیا میں بتاؤں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟
(الفتاویٰ: جلد 5 صفحہ 270، 271)۔
اللہ کا ارشاد ہے:
اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الۡاَنۡفُسَ حِيۡنَ مَوۡتِهَا وَالَّتِىۡ لَمۡ تَمُتۡ فِىۡ مَنَامِهَا فَيُمۡسِكُ الَّتِىۡ قَضٰى عَلَيۡهَا الۡمَوۡتَ وَ يُرۡسِلُ الۡاُخۡرٰٓى اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى۞(سورۃ الزمر آیت 42)
ترجمہ: اللہ تمام روح کو ان کی موت کے وقت قبض کر لیتا ہے، اور جن کو ابھی موت نہیں آئی ہوتی، ان کو بھی ان کی نیند کی حالت میں (قبض کر لیتا ہے) پھر جن کے بارے میں اس نے موت کا فیصلہ کر لیا۔ انہیں اپنے پاس روک لیتا ہے، اور دوسری روحوں کو ایک معین وقت تک کے لیے چھوڑ دیتا ہے یقیناً اس بات میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو غور وفکر سے کام لیتے ہیں۔