سیدہ ام کلثوم بنت علی سے عمر رضی اللہ عنہما کا نکاح - دفاعِ…

سیدہ ام کلثوم بنت علی سے عمر رضی اللہ عنہما کا نکاح

  علی محمد محمد الصلابی

8۔ اُمّ کلثوم بنت علی سے عمر رضی اللہ عنہما کا نکاح:

سیدنا علیؓ عمر فاروقؓ کی خواہش پر فاطمہ بنت رسول اللہﷺ کے بطن سے پیدا شدہ اپنی بیٹی ام کلثوم کا نکاح ان سے کر دیا اور محض ان پر اعتماد کامل، ان کی عظمت وشرافت اور بہترین کردار و سلوک نیز آپس کے گہرے اور اچھے تعلقات، اور مستحکم و بابرکت قرابت داریوں کی وجہ سے کیا تھا اور آج یہی چیز معزز امت مسلمہ کے حاسدوں و دشمنوں کے دلوں کو جلا رہی ہے، اور یہ بات سخت ناگوار گزر رہی ہے۔ (الشیعۃ واہل البیت: صفحہ 105)۔

حضرت عمرؓ کے دل میں اہل بیت کے لیے ایسی خصوصی عقیدت و محبت پنہاں تھی جو دوسروں کے لیے نہ تھی، کیونکہ یہ لوگ رسول اللہﷺ کے قرابت دار تھے، اور اس لیے بھی کہ آپﷺ نے ان کی عزت و توقیر کرنے، اور ان کے حقوق کی دیکھ بھال کرنے کا حکم دیا تھا اور یہی وہ بنیادی جذبہ تھا جس کی وجہ سے حضرت عمر فاروقؓ نے حضرت فاطمہ و علی رضی اللہ عنہما کی لخت جگر اُمِ کلثوم کو پیغام نکاح دیا تھا، اور یہ کہتے ہوئے اپنی عقیدت کا اظہار کیا تھا: ’’اللہ کی قسم ام کلثوم کی حسنِ صحبت کا جتنا میں منتظر ہوں روئے زمین پر کوئی اس طرح منتظر نہیں ہے۔ ‘‘حضرت علیؓ نے فرمایا: ٹھیک ہے میں نے ان کا نکاح آپ سے کر دیا، حضرت عمرؓ خوشیوں سے جھومتے ہوئے مہاجرین کے پاس آئے اور کہا: مجھے شادی کی مبارکباد دو! پھر کہنے لگے کہ ام کلثوم سے میر ی شادی کا اصل سبب نبی کریمﷺ کی اس بشارت کی تکمیل

 کُلٌّسَبَبَ وَنَسَبٍ مُنْقَطِعٌیَوْمَ الْقِیَامَۃِإِلَّامَاکَانَ مِنْ سَبَبِیْ وَنَسَبِیْ

قیامت کے دن کوئی سبب اور کوئی نسب کام نہ آئے گا، مگر وہ جس کا تعلق نسب یا سبب کے اعتبار سے مجھ سے ہو۔ 

میری دلی خواہش تھی کہ میرے اور رسولﷺ کے درمیان کوئی سبب تعلق پیدا ہو۔

(اس کی سند حسن ہے۔ المستدرک: حاکم: جلد 3 صفحہ 142 امام ذہبیؒ نے حاکم کا تعاقب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ روایت منقطع ہے۔ ہیشمی نے مجمع الزوائد: جلد 9 صفحہ 173) میں اس روایت کو ذکر کیا ہے، اور کہا کہ اسے طبرانی نے معجم الکبیر اور معجم الاوسط میں اختصار سے روایت کیا ہے۔ حسن بن سہل کے علاوہ لقبیہ راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں، حسن بھی تقہ ہیں لیکن بعض لوگوں نے انھیں ضعیف بھی کہا ہے۔)

 اس رشتہ کو تمام مؤرخین اور مؤلفین انساب نے حتیٰ کہ شیعہ حضرات کے تمام محدثین، فقہاء، مناظرین، اور ائمہ معصومین نے سچ مانا ہے۔ علامہ احسان الہٰی ظہیر نے اپنی کتاب ’’الشیعۃ والسنۃ‘‘ میں اس تعلق سے کئی روا یات نقل کی ہیں۔

(الشیعۃ وأہل البیت: صفحہ 105) ۔

 اسی طرح سنی مؤرخین میں سے طبری، (تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 28)۔

ابن کثیر، (البدایۃ والنہایۃ: جلد 5 صفحہ 220) ۔

ذہبی، (تاریخ الاسلام: عہد الخلفاء الراشدینؓ: ذہبی: صفحہ 166)۔

 ابن الجوزی، (المنتظم: جلد 4 صفحہ 131)

دیار بکری (تاریخ الخمیس بحوالہ: زواج عمر من أم کلثوم: أبو معاذ: صفحہ 19)

اور کتب تراجم (الاصابۃ: ابنِ حجر: صفحہ 276 الکنیٰ واسماء النسائ۔) کے مؤلفین میں سے ابنِ حجر،(الإصابۃ: ابن حجر: صفحہ 276 الکنیٰ و اسماء النسائی۔)

اور ابن سعدؒ (اسد الغابۃ: جلد 7 صفحہ 425)۔

 وغیرہ نے بھی اس عقد نکاح کو ذکر کیا ہے۔ 

استاذ ابومعاذ اسماعیلی نے شیعہ و سنی مسالک کے مصادر ومراجع میں تحقیق و جستجو کرنے کے بعد اپنی کتاب ’’زواج عمر بن الخطاب من ام کلثوم بنت علی بن ابی طالب حقیقۃولیس افترائی‘‘ میں اس رشتہ کو ثابت کیا ہے، اور اس بابرکت شادی پر جو اعتراضات و شبہات اچھالے جاتے ہیں ان کا مدلل جواب بھی دیا ہے میں نے اپنی کتاب ’’عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے‘‘ میں ام کلثوم کی سیرت اور سیدنا عمر فاروقؓ کے ساتھ خانگی زندگی پر مختصر روشنی ڈالی ہے۔ 

بہرحال ام کلثوم بنت علی کے بطن سے حضرت عمرؓ کی ایک بیٹی جس کا نام رقیہ، اور ایک بیٹا جس کا نام زید ہے پیدا ہوئے۔ کتب سنن میں ان سے متعلق روایت ملتی ہے کہ ایک مرتبہ رات میں بنو عدی بن کعب کا کسی سے جھگڑا ہو گیا، زید بن عمر اِن میں صلح کرانے کی خاطر ان کے پاس گئے، اتفاق سے آپ کو بھی اس میں گہری چوٹ آ گئی جس سے سر پھٹ گیا، اور فوراً آپ کی موت ہو گئی، حادثہ کو دیکھ کر آپ کی ماں اس قدر رنجیدہ ہوئیں کہ بےہوش گئیں، اور اسی عالم میں ان کی بھی وفات ہو گئی، پھر ام کلثوم اور ان کے بیٹے ایک ہی وقت میں دفن کیے گئے، عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی، حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما نے انھیں جنازہ پڑھانے کے لیے آگے بڑھایا تھا، اور خود ان کے مقتدی تھے۔

(أسدا لغابۃ: جلد 7 صفحہ 425

 نساء أہل البیت: منصور عبدالحکیم: صفحہ 185، 186)۔