9۔ اے دخترِ رسول! تمھارے باپ سے زیادہ مجھے کوئی محبوب نہیں، اور ان کے بعد تم سے زیادہ کوئی ہمیں محبوب نہیں:
اسلم العدوی سے روایت ہے کہ جب سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی بیعت ہو رہی تھی تو علی اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما، سیدہ فاطمہؓ کے پاس بار بار مشورہ لینے جاتے، جب حضرت عمرؓ کو اس کی خبر ہوئی تو حضرت فاطمہؓ کے پاس گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول کی بیٹی! پوری دنیا میں تمھارے والد سے زیادہ مجھے کوئی محبوب نہیں ہے، اور ان کے بعد تم سے زیادہ کوئی محبوب نہیں پھر ان سے گفتگو کی، اتنے میں حضرت علی اور زبیر رضی اللہ عنہما پھر آ گئے، حضرت عمرؓ نے ان دونوں سے کہا: راست روی کے ساتھ واپس لوٹ جاؤ، پھر وہ دونوں بیعت کر کے ہی واپس آئے۔
(المصنف: ابن ابی شیبۃ: جلد 14 صفحہ 567۔ اس روایت کی سندصحیح ہے۔)
اتنی ہی بات ثابت اور صحیح ہے، اور صحابہ کرامؓ کے حق میں تزکیہ الہٰی اور ان کے پاک نفوس سے میل کھاتی ہے، روافض نے اس روایت میں اضافہ کیا ہے، اور جھوٹ و تہمت کی پیوندکاری کی ہے، اور کہا ہے کہ سیدہ فاطمہؓ سے حضرت عمرؓ نے کہا: اگر یہ لوگ تمھارے پاس پھر آئے تو میں انھیں گھر میں بند کر کے گھر کو آگ لگادوں گا، اس لیے کہ بیعت کرنے سے ٹال مٹول کر کے یہ لوگ مسلمانوں کی جماعت میں اختلاف پیدا کرنا چاہتے ہیں، پھر آپ وہاں سے چلے آئے، اور ان کے جاتے ہی یہ لوگ حضرت فاطمہؓ کے پاس پہنچے، تو فاطمہ کہنے لگیں، کیا تم جانتے ہو! میرے پاس عمر آئے اور تم لوگوں کے بارے میں مجھ سے حلف لیا ہے کہ اگر اس گھر میں پھر آئے تو اس گھر کو آگ لگادیں
گے اللہ کی قسم! وہ جس پر قسم کھا لیتے ہیں اسے ضرور کر گزرتے ہیں، اس لیے لوٹ جاؤ، میرے پاس نہ آؤ، چنانچہ انھوں نے ایسا ہی کیا، اور جب ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کی بیعت مکمل ہو گئی تب واپس آئے۔
(عقائد الثلاثۃ وسبعین فرقۃ: أبو محمد الیمنی: جلد 1 صفحہ 140)۔
اس قصہ کا آخری حصہ حضرت عمرؓ سے ثابت نہیں ہے، اور روافض کا یہ دعویٰ کہ حضرت عمرؓ نے فاطمہؓ کے گھر کو نذر آتش کر نے کی دھمکی دی تھی، بالکل غلط اور جھوٹ ہے، اس واقعہ کو شیعہ مؤرخ طبرسی نے جابر جعفی کی روایت سے اپنی کتاب ’’دلائل الإمامۃ‘‘ میں اسے مزید ملمع سازی سے پیش کیا ہے۔
(دلائل الإمامۃ: صفحہ 26 بحوالہ عقائد لثلاثۃ و سبعین فرقۃ: جلد 1 صفحہ 140)۔
اور جابر جعفی ائمہ محدثین کے نزدیک بالاتفاق کذاب رافضی ہے۔
(دیکھیے: میزان الاعتدال: الذہبی: جلد 1 صفحہ 279 تہذیب التہذیب: جلد 2 صفحہ 47)۔
اور بعض رافضیوں نے یہاں تک جھوٹ گھڑدیا ہے کہ عمر (رضی اللہ عنہ) نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اتنی زور سے مارا کہ محسن ان کے پیٹ سے ساقط ہو گئے۔ درحقیقت یہ سب روافض کی کذب بیانیاں ہیں جن کا صحت سے کوئی تعلق نہیں، سیدنا عمر فاروقؓ کو متہم کرنے میں یہ بھول گئے کہ ہم حضرت علیؓ کو بھی بزدلی اور ظلم پر خاموشی سے متہم کر رہے ہیں جب کہ وہ نبی کریمﷺ کے بہادر صحابہ میں سے تھے۔
(حقبۃ من التاریخ: صفحہ 224)۔
بلکہ خود روافض ہی کی بعض کتب اس جھوٹ اور بکواس کی تردید کرتی ہیں۔
(مختصر التحفۃ الاثنا عشریۃ: صفحہ 252)۔
صحیح بات تو یہ ہے کہ محسن کی ولادت نبی کریمﷺ ہی کی زندگی میں ہی ہو گئی تھی، جیسا کہ صحیح روایات سے معلوم ہوتاہے۔