1: سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو سنا کہ اہلِ جمل یا اہلِ صفین کے متعلق نامناسب کلام کر رہا ہے تو فرمایا:
لا تقولوا إلا خيراً، إنماهم قوم زعموا أنا بغينا عليهم، وزعمنا أنهم بغوا علينا، فقاتلناهم۔ (منہاج السنة النبوية: جلد 5 صفحہ 245)
ترجمہ: ان کے بارے میں بھلائی کے علاوہ کچھ نہ کہو وہ لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ زیادتی ہماری طرف سے ہے اور ہم یہ سمجھ رہے ہیں کہ زیادتی ان کی طرف سے ہے اس لیے ہم ان سے قتال کر رہے ہیں۔
2: امام شافعیؒ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ سے نقل کرتے ہیں کہ مشاجراتِ صحابہ سے متعلق آپ سے کچھ دریافت کیا گیا آپ نے فرمایا:
تلك دماءٌ طهر الله منها سيوفنا فلا نخضب لها ألسنتنا۔(معجم الشيوخ للذهبی: جلد 2 صفحہ 186
وفتح المغيث للسخاوی: جلد 4 صفحہ101)
ترجمہ: جب اللہ نے ہماری تلواروں کو ان کے خون کی ذمہ داری سے محفوظ رکھا تو ہم اپنی زبان کو اس سے کیوں آلودہ کریں۔
3: امام اعظم ابو حنیفہؒ نے اپنے عقائد کے مجموعہ الفقه الاكبر صفحہ 43 میں یہ بات ذکر فرمائی ہے کہ ہم لوگ کسی بھی صحابی کا تذکرہ نہیں کرتے مگر خیر کے ساتھ۔
4: امام احمدؒ سے سوال کیا گیا آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
تِلۡكَ اُمَّةٌ قَدۡ خَلَتۡ لَهَا مَا كَسَبَتۡ وَلَـكُمۡ مَّا كَسَبۡتُمۡ وَلَا تُسۡئَـلُوۡنَ عَمَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۞ (سورۃ البقرہ: آیت 134)
ترجمہ: وہ ایک جماعت تھی جو گزر گئی اس نے جو کچھ کیا اس کا معاملہ ہے تم کو وہ ملے گا جو تم کر رہے ہو ان کے بارے میں تم سے کچھ نہ پوچھا جائے گا۔
5: امام ابو زرعہ رازیؒ کے سامنے کسی نے کہا کہ میں سیدنا امیرِ معاویہؓ سے بغض رکھتا ہوں دریافت فرمایا کیوں کہنے لگا اس لیے کہ انہوں نے سیدنا علیؓ سے جنگ کی تھی فرمایا:
ويحك!إنَّ رب معاوية ربٌّ رحيم،و خَصْم معاويةؓ خصمٌ كريمٌ، فأيش دخولي أنت بينهما؟ رضي الله عنهما۔ (البداية والنہاية: جلد 11 صفحہ 427)
ترجمہ: تیرا ناس ہو سیدنا امیرِ معاویہؓ کا رب ایک رحیم آقا ہے ان کا فریق ایک شریف فریق ہے تو ایسے معاملے میں تیرے جیسوں کا کیا کام اللہ ان دونوں سے راضی ہو۔
6: اسی لیے اہل السنت والجماعت کے عقائد کی اہم کتابوں میں یہ عقیدہ بھی بطورِ خاص بیان کیا جاتا ہے:
نترحم عليهم، ونذكر فضلهم،ونكف عن زللهم، ولانذكر أحداً منهم إلا بالخير۔
(الفقه الأكبر: صفحہ 43،
العقيدة الطحاوية: صفحہ 81،
طبقات الحنابلة: جلد 2 صفحہ21)
ترجمہ: ہم تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں ان کے فضائل و مناقب بیان کرتے ہیں ان کی زلات و لغزشات سے صرف نظر اور کف لسان کرتے ہیں اور ان میں سے کسی کا بھی تذکرہ خیر کے بغیر نہیں کرتے
7: علامہ تفتازانیؒ فرماتے ہیں:
يجب تعظيم الصحابة والكفّ عن مطاعنهم وحمل ما يوجب ظاهره الطعن فيهم على محامل والتأويلات۔ (مقدمة الإصابة: جلد 1 صفحہ 25)
ترجمہ: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعظیم کرنا ان پر طعن سے احتراز کرنا اور ان کی لغزشوں کی تاویل کرنا یا مناسب محمل پر محمول کرنا واجب ہے۔
8: حافظ ابنِ حجرؒ فتح الباری کتاب الفتن باب اذا التقى المسلمان بسيفيهما کے تحت فرماتے ہیں:
اتفق أھل السنۃ علی وجوب منع الطعن علی أحد من الصحابۃ بسبب ما وقع لھم من ذلک؛ولو عَرَف المُحِقَّ منھم ، لأنھم لم یقاتلوا في تلك الحروب إلا عن اجتهاد ،و قد عفاالله تعالىٰ عن المخطئ في الاجتهاد،بل ثبت أنه ىؤجر أجراًواحداً، وأن المصيب يؤجر أجرين ...إلخ۔
ترجمہ: کسی بھی صحابی پر طعن و تشنیع کے ممنوع ہونے پر اہلِ سنت کا اتفاق ہے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے آپسی مناقشات کے سلسلے میں بھی حتیٰ کہ کسی کا حق پر ہونا سمجھ میں آ جائے تب بھی دوسرے پر تبصرہ جائز نہیں اس لیے کہ ان حضرات کے مشاجرات اجتہاد کی بنیاد پر تھے اور اجتہاد میں غلطی کرنے والے کو تو اللہ تعالیٰ ہی معاف فرما چکے ہیں بلکہ حدیث میں تو مخطی کے لیے ایک اجر اور مصیب کے لیے دوہرے اجر کی بھی بات ثابت ہے۔
9: علامہ بیجوریؒ فرماتے ہیں حتی الامکان مشاجراتِ صحابہ کے قصے میں پڑو ہی مت اگر پڑنا ہی ہے تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرف سے حسنِ ظن رکھتے ہوئے مناسب توجیہ و تاویل کے ساتھ تذکرہ کرو کسی بھی صحابی کی تنقیص مت کرو اس لیے کہ اس موضوع کا تصفیہ کوئی عقیدے کا حصہ نہیں ہے اور نہ ہی علمِ کلام کا موضوع ہے اس موضوع کو چھیڑنا کسی دینی اور علمی نفع کے بجائے اکثر ایمان و یقین کے لیے مضر ہی ہوتا ہے اس لیے اگر ضرورت پڑے تو صرف متعصب افراد پر رد کی حد تک یا تدریسی ضرورت کے تحت گفتگو کی جا سکتی ہے ورنہ نہیں اور عوام کے لیے تو اس موضوع میں پڑنا بالکل جائز نہیں اس لیے کہ ناواقف ہوتے ہیں اور تاویلات وغیرہ سمجھتے نہیں۔
مقدمة التحقيق للإصابة: جلد 1 صفحہ 25)
10: امام المؤرخین والمحدثین فخر المتأخرین علامہ شمس الدین الذہبیؒ اپنی بے نظیر کتاب سير أعلام النبلاء: جلد 10 صفحہ92 میں فرماتے ہیں:
تقرر الكف عن كثير مما شجر بين الصحابة وقتالهم رضی اللّٰہ عنهم أجمعين وما زال يمر بنا ذلک في الدواوین، والکتاب، والآجزاء، ولکن أکثر ذلک منقطع، وضعیت، و بعضہ کذب، وھذا فیما بین أیدینا وبین علمائنا ، فینبغی طیّہ وإخفاؤه، بل إعدامه ، لتصفو القلوب ، وتتوفر علی حب الصحابۃ والترضي عنهم
وكتمان ذلك متعين عن العلامة وآحاد العلماء وقد يرخص في مطالعة ذلك خلوةً للعالم المنصف العري من الهوى بشرط أن يستغفر لهم كما علمنا اللّٰہ تعالٰی :وَالَّذِيۡنَ جَآءُوۡ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَـنَا وَلِاِخۡوَانِنَا الَّذِيۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِيۡمَانِ وَلَا تَجۡعَلۡ فِىۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا الخ۔(سورۃ الحشر: آیت 10)
فالقوم لهم سوابق وأعْمال مكفرة لما وقع منهم وجهاد محاء وعبادة ممحصة ولسنا ممن يغلو فی أحد منهم ولا ندعی فيهم العصمة نقطع أن بعضهم أفضل من بعض،...ثم ذكر هم بمراتبهم...، ثم قال : فأما ما تنقهُ الرافضة، وأهل البدع في كتبهم من ذلك فلا نعرج عليه ولا كرامة، فأكثره باطل ،وكذب، وافتراء، فدأب الروافض رواية الأباطيل أو ردّما في الصحاح والمسانيد ومتى إفاقة من به سكران رضي اللّٰہ تعالى عنهم أجمعين)۔
ترجمہ: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے آپس کے اختلافات اور قتال سے سکوت رکھنے کا مسئلہ طے شدہ ہے ہماری نظروں سے اس موضوع سے متعلق روایات روزانہ تاریخ وغیرہ کی کتابوں اور رسالوں میں گزرا کرتی ہیں مگر زیادہ تر منقطع اور ضعیف ہوتی ہیں بلکہ موضوع تک یہ کتابیں ہمارے سامنے بھی ہیں دیگر علماء کے سامنے بھی ہیں جو چاہے اٹھا کر دیکھ لے اس لیے مناسب یہی ہے کہ یہ موضوع بند کر کے اور لپیٹ کر ہی رکھا جائے بلکہ اس کو اپنی گفتگو سے خارج ہی کر دیا جائے تاکہ قلوب میں صفائی رہے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت اور رضا کا جذبہ موج زن رہے۔
اور عوام سے اسی طرح عام مولویوں سے تو اس طرح کے موضوعات کا اخفاء متعین ہی ہے صرف اس عالم کے لیے رخصت ہے جو انصاف پسند ہو نفسانی جذبات سے بالاتر ہو وہ بھی تنہائی میں مطالعہ کرے اور آخر میں تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے استغفار کا اہتمام کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں سکھایا ہے کہ ان کے بعد والے آ کر ان کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں یہ کہا کریں گے اے ہمارے رب مغفرت فرما دیجیے ہماری اور ہمارے ان بھائیوں کی جو ہم سے پہلے ایمان کے ساتھ گزر چکے اور نہ رکھیے ہمارے دلوں میں ایمان والوں کے لیے کھوٹ۔
اصل بات یہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت ایسی ہے کہ ان کے بہت سے کارنامے اور بہت سے ایسے اعمال ہیں جو خود ہی سارے گناہوں کا کفارہ ہیں جہاد ایسا کہ ساری غلطیوں کو دھو دے عبادت ایسی کہ سارے گناہوں کو مٹا دے۔
ہم کوئی غلو کرنے والوں میں سے نہیں ہیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو معصوم نہیں سمجھتے پھر سب کو ایک ہی مرتبہ کا نہیں کہتے ان میں فرق مراتب کا اعتقاد رکھتے ہیں پھر ذہبیؒ نے ان کے مراتب ذکر فرمائے اور آخر میں فرمایا:
اور یہ سب جو روافض اور اہلِ بدعت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے متعلق اپنی کتابوں میں لکھتے پڑھتے ہیں ان کا کوئی اعتبار نہیں فضول باتیں ہیں اکثر باطل جھوٹ اور من گھڑت ہیں روافض کا شیوہ ہی ہے باطل خبروں کا روایت کرنا اور مستند صحاح و مسانید کی روایتوں کو رد کر دینا مگر جس کو جنون ہو اس سے توقع ہی کیا کی جائے۔