فرائد السمطین (محمد بن ابراہیم حموینی) شیعہ کتاب ہے! - ردِ…

فرائد السمطین (محمد بن ابراہیم حموینی) شیعہ کتاب ہے!

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 3

حوالہ 1: ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو گلے لگایا اور آپ نے فرمایا کچھ لوگوں کے دل میں تیرا بغض ہے جو میرے بعد ظاہر کریں گے یعنی تم سے خلافت چھین لیں گے(ینابیع المودۃ: صفحہ 134)
حوالہ 2: نبی کریمﷺ اور ایک یہودی کا سوال و جواب یہودی نے حضور نبی کریمﷺ سے پوچھا جب کہ ہر نبی کا ایک وصی ہوتا چلایا آیا ہے جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام کے یوشع بن نون وصی تھے اس لئے آپ کا وصی بھی لازمی ہے وہ کون ہے؟ تو نبیﷺ نے فرمایا میرا وصی علی بن ابی طالب ہے اس کے بعد ان کے دونوں فرزند حسن و حسین پھر ان کے بعد نو امام جو امام حسین علیہ کی پشت سے ہونگے وہ میرے وصی ہیں۔ یہودی نے پوچھا مجھے ان کے نام بتلا دیجیے فرمایا جب حسین دنیا سے رخصت ہوں گے تو ان کے بیٹے علی ان کے بعد ان کے بیٹے محمد اور ان کے بعد ان کے بیٹے جعفر اور ان کے بعد ان کے بیٹے موسیٰ اور ان کے بعد ان کے بیٹے علی اور ان کے بعد ان کے بیٹے محمد ان کے بعد ان کے بیٹے علی ان کے بعد ان کے بیٹے حسن ان کے بعد ان کے بیٹے محمد الحجۃ محمد المہدی یہ ہیں بارہ آئمہ جو میرے بعد وصی ہونگے (ینابیع المودۃ: صفحہ 441)
حوالہ 3: ابنِ عباس فرماتے ہیں میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، فرمایا میں علی حسن حسین اور نو افراد ان کی اولاد سے مطہر معصوم ہوں گے۔ (ینابیع المودۃ: صفحہ 445)
حوالہ 4: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے میرے بعد میرے خلفاء اور وصی حضرات اور اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق پر حجت بارہ حضرات ہونگے۔ (ینابیع المودۃ صفحہ 447)
حوالہ 5: حضرت ابن عباس نے حضور صلی اللہ وسلم کا یہ قول ذکر کیا فرمایا میرے بعد میری امت کے امام علی المرتضیٰ ہونگے اور ان کی اولاد سے وہ شخص آئے گا جو القائم المنتظر کے نام سے مشہور ہو گا آتے ہی دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔
نتیجہ:
توضیح حوالہ نمبر ایک میں صاحب فرائدالسمطین کے عقیدے کے مطابق خلفاء ثلاثہ معاذاللہ غاصب خلافت علی ہیں
حوالہ نمبر دو کے مطابق حضرت علی وصی رسول ہیں ان کے بارہ آئمہ یکے بعد دیگرے وصی ہیں لہٰذا خلفاء ثلاثہ نے حضورﷺ کی وصیت کو ٹھکرا کر اپنی خلافت کا اعلان کیا۔
حوالہ نمبر تین کے اعتبار سے تمام ائمہ کو معصوم کہا گیا یہی چند عقائد ہیں جو کہ شیعہ اور سنی کے مابین مختلف ہیں شیعہ ان کے شدومد کے قائل ہیں لہٰذا معلوم ہوا کہ عقائد کی وجہ سے صاحب فرائد السمطین محمد بن ابراہیم کٹر شیعہ ہے
ان حوالہ جات سے جو عقائد نظر آئے، اُن کی رو سے ہم پہچان گئے کر فرائد السمطين مصنف ہرگز سنی نہیں ہے۔
اب دوسرا طریقہ سامنے رکھیے خود شیعہ محققین سے پوچھتے ہیں کہ اس مصنف کے بارے میں تمہاری کیا تحقیق ہے؟؟
تحقیق سنیے
"فرائد السمطین مصنف شیعہ کا پروردہ ہے اس لئے اس کا شیعہ ہونا ہی قرین عقل ہے آقا بزرگ شیعہ"
ثبوت شیعہ کتاب
(الذریعہ جلد ا صفحہ 136، 137 مطبوعہ بیروت طبع جدید)
ترجمہ: صاحب الریاض صدرالدین ابراہیم نے اپنی اس
تصنیف میں ایک عنوان باندھا۔ وہ یہ کہ کچھ مصنفین ایسے ہیں جو مشہور معروف شیعہ علماء کے شاگرد ہیں اور انہوں نے فضائل اہل بیت پر تصانیف بھی لکھی۔ ان دو باتوں کی بنا پر ان مصنفین کے شیعہ ہونے کا احتمال ہے۔ اس عنوان کے تحت صاحب فرائد السمطین کا تذکرہ بھی موجود ہے۔ میں (صاحب الزریعہ) کہتا ہوں کہ مکتبہ الشکوة میں فرائد السمطین کا مکمل نسخہ موجود ہے۔ اس کتاب میں بسم الله کے بعد تبارك الذي نزل الفرقان آیت لکھی ہوئی ہے۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت وثناء تحریر ہے۔ پھر یہ الفاظ موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت علی علیہ السلام کو حضورﷺ کے لیے منتخب کیا۔ آپ کے بھائی اور مددگار بنے۔ پھر حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں مزید لکھا کہ تمام تعریفیں اسی اللہ کی میں نے آپ پر دروازہ نبوت بند کر دیا۔ اور ولایت کی ابتداء آپ کے چچا زاد بھائی سے کی جو آپ کے ساتھ وہ مقام و منزل رکھتے ہیں۔ جو ہارون کو موسیٰ کے ساتھ تھا علی علیہ السلام آپ کے وصی ہیں۔ الرضی المرتضیٰ ہیں، باب العلم ہیں آخر میں یہ کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی، اور اللہ کے شیر علی ابن ابی طالب آپ کی عترت وآل مبارک جو آسمان عصمت کا درخشندہ ستارے ہیں یعنی معصوم ہیں۔"
نتیجہ اور توضح:
"صاحب الریاض" نے دو وجوہات کی بنا پر محمد بن ابراہیم حموینی کے شیعہ ہونے کا احتمال ذکر کیا لیکن آقائے بزرگ طہرانی شیعی صاحب کتاب "الزریعہ" نے اس کی تصنیف فرائد السمطین کے اقتباسات سے اس کا پکا شیعہ ہونا ثابت کیا ہے جن باتوں سے اس کی شیعیت ثابت کی گئی وہ بالاختصار یہ ہیں۔
1: حضرت علیؓ کو حضورﷺ کا وزیر خلیل رفیق اور ظہیر لکھا گیا ہے۔
2: انما ولیکم الله ورسوله کی تفسیر کے تحت حضرت علیؓ کو امام الاولیاء لکھ کر ان کی آل و اولاد کو ائمہ معصومین کہا گیا۔
3: حضرت علیؓ وصی رسول ہیں۔ ان تین عقائد کے بعد جب اس کا شیعہ ہونا "صاحب الزریعہ" کے نزدیک مسلم تھا اس نے اسی حموینی کے لیے یہ دعائیہ الفاظ اسی مذکورہ صحفہ پر کہے
ترجمہ: آئمہ معصومین کے ساتھ محبت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ حموینی کو معاف کر دے اور اس کی متابعت و امامت کے عقیدے پر اسے زندہ رکھے اور ان کے ساتھ اس کا حشر و نشر کرے اولین و آخرین کے سرداروں کے جھنڈے تلے اسے جگہ دے"
مذہب شیعہ میں صرف اور صرف اہل تشیع کے لیے دعائے مغفرت ہے "فروع کافی" میں مذکور ہے اگر کوئی اہلسنت مر جائے تو اس کی نماز جنازہ میں شرکت نہ کی جائے اگر مجبوری شرکت کرنی پڑے تو اس کے لیے مغفرت کی دعا کرنا حرام ہے بلکہ اس کی بجائے لعنت کی دعا کرے شیعہ آقائے بزرگ طہرانی نے کلمات دعائیہ کہہ کر اس طرف اشارہ کیا کہ "فرائد السمطین" کتاب کا مصنف ان کا اپنا ہے اور یقیناً ایسا ہی ہے ان تصریحات کے بعد محمد بن ابراہیم حموینی کی شخصیت نکھر کر سامنے آ گئی ہے اب اسے سنی عالم اور اس کی تصنیف کا اہل سنت کی معتبر کتاب کہنا "ظلم عظیم" سے کم نہیں نجفی اور علامہ شہنشاہ نقوی جیسے جاہلوں کی جہالت بھی قابل داد ہے قول مقبول کے نامقبول و نامعقول انداز سے اس کے مؤلف لایعقل نجفی حجتی کی بے ایمانی میں ظاہر ہوگی اور شہرت کا پجاری علامہ شلامہ شہنشاہ نقوی ملعون کا جھوٹ جو دن رات مجلسوں میں فرائد السمطین کو اہلسنت کی معتبر کتاب کہتا ہے اس کا کذب بھی سامنے آ گیا اب بھی کوئی غیرت مند شیعہ اس اپنے علامہ شہنشاہ نقوی کے بیان پیش کر کے اہلسنت کو پاگل بنانے کی کوشش کرے گا؟؟؟ کہ اس میں سنی کلمہ ہے۔

صفحہ 2 از 3