فرائد السمطین (محمد بن ابراہیم حموینی) شیعہ کتاب ہے! - ردِ…

فرائد السمطین (محمد بن ابراہیم حموینی) شیعہ کتاب ہے!

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 3 از 3

شیعہ عالم آقائے بزرگ طہرانی نے اپنی مشہور کتاب “الذریعہ الی تصانیف الشیعہ“ میں نہ صرف فرائد السمطین کا ذکر کیا ہے بلکہ اس کتاب کے کچھ اقتباسات سے محمد بن ابراہیم حموینی کو پکا شیعہ ثابت کیا ہے۔

 

  جن باتوں سے محمد بن ابراہیم حموینی کی شیعیت ثابت کی گئی ہے وہ یہ ہیں۔
1: حضرت علیؓ کو نبی کریمﷺ کا وزیر، خلیل، رفیق اور ظہیر لکھا گیا ہے۔
2: انما ولیکم اللہ و رسولہ کی تفسیر کے تحت حضرت علیؓ کو امام الاولیاء لکھ کر ان کی اولاد کو ائمہ معصومین کہا گیا ہے۔
3: حضرت علیؓ وصی رسول اللہ ہیں۔
  ان تین عقائد کے بعد صاحب الذریعہ الی تصانیف الشیعہ “آقائے بزرگ طہرانی نے فرائد السمطین کے مصنف “محمد بن ابراہیم حموینی کا پکا شیعہ ہونا ثابت کیا ہے۔
  اسی حموینی کے لئے آقائے بزرگ طہرانی نے دعائیہ کلمات بھی بیان کئے ہیں۔
آئیے ان الفاظ اور ترجمہ پر بھی غور و فکر کرتے ہیں۔ 

  یاد رہے کہ مذہب شیعہ میں صرف اور صرف اہل تشیع کے لئے دعائے مغفرت جائز ہے۔
  فروع کافی میں مذکور ہے کہ اگر کوئی اہل سنت مر جائے تو اس کی جنازہ نماز میں شرکت نہ کی جائے۔
اگر مجبوراً شرکت کرنا پڑے تو اس کے لئے مغفرت کی دعا حرام ہے۔
بلکہ اس کی بجائے لعنت کی دعا کرے۔
• شیعہ معتبر عالم کی طرف سے فرائد السمطین کے مصنف محمد بن ابراہیم حموینی کے لئے دعائے مغفرت کرنا اسی بات کا اشارہ ہے کہ یہ مصنف ان کا اپنا ہے، اور یقیناً ایسا ہی ہے۔

• ان تمام تصریحات کے بعد فرائد السمطین کے مصنف کی اصلیت نکھر کر سامنے آ گئی ہے۔ اب اگر کوئی جاہل اسے سنی عالم اور اس کی کتاب فرائد السمطین کو اہل سنت کی کتاب کہے تو یہ ظلم عظیم سے کم نہیں ہو گا۔


صفحہ 3 از 3