بعض مغالطات کی نشاندہی اور غلط فہمیوں کا ازالہ - دفاعِ اہلِ…

بعض مغالطات کی نشاندہی اور غلط فہمیوں کا ازالہ

  محمد معاویہ سعدی

صفحہ 2 از 3

تیسرا مغالطہ: یہاں دو بحثیں الگ الگ تھیں ایک عدالتِ صحابہ کی دوسری مشاجراتِ صحابہ کی تو اہل السنت و الجماعت کے نزدیک عدالتِ صحابہ کی بحث تو عقیدے کے تحت آتی ہے کہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو عادل اور ثقہ ماننا ضروری ہے مگر مشاجراتِ صحابہ کی بحث عقیدے کا موضوع نہیں بنائی جاتی گزشتہ صفحات میں تسلسل اور تواتر کے ساتھ یہ بات گزر چکی ہے کہ مشاجراتِ صحابہ کا موضوع لپیٹ کر رکھنے کا ہے عوام بلکہ عامی اور سطحی قسم کے اہلِ علم کے سامنے بھی بیان کرنے کا نہیں اور نہ ایسے لوگوں کے بیان کرنے کا ہے اور جہاں بھی بیان کیا جائے گا تو بغیر فریق یا حکم اور فیصل بنے ہوئے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں حسنِ ظن کے پہلو کو سامنے رکھ کر گفتگو کی جائے گی۔

مگر اس سلسلہ میں خلط کا شکار لوگ عدالت کے مسئلے کو مشاجرات کے موضوع سے خلط کر کے مشاجرات کو بھی عقائد کا حصہ قرار دینا چاہتے ہیں۔

چوتھا مغالطہ: یہ بات بہت زور شور سے کہی جا رہی ہے کہ یہ موضوعات اگر ایسے ہی شجرہ ممنوعہ تھے تو مؤرخین و محدثین نے ان کو اپنے یہاں کیوں بیان کیا؟

1: اس کا ایک جواب تو پہلے دیا جا چکا ہے۔ (صفحہ 19، 20)

2: اور دوسری بات یہ بھی ہے کہ اگر کوئی مؤرخ اپنی تاریخ میں کوئی حکایت نقل کرتا ہے یا اسی طرح کوئی محدث اپنی کتاب میں کوئی روایت بیان کرتا ہے تو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کس حیثیت سے بیان کر رہا ہے دلیل اور حجت کے طور پر یا صرف اس کو دور کرنے کے لیے جیسا کہ اس کے نمونے ابھی صحابی کی تعریف کے سلسلے میں گذرے کہ سخاویؒ وغیرہ نے بعض تعریفات صرف رد ہی کے لیے ذکر کی تھیں تا کہ خالی الذہنی میں کوئی شخص ان کو قبول نہ کرلے علامہ ذہبیؒ وغیرہ محدثین کثرت سے اس طرح کے جملے کہتے ہیں:

ذكرناه للتعجب نبهنا عليه لئلا يغتر به۔ 

کہیں کہیں صاف نکارت غرابت ضعف وضع یا بطلان کا حکم بھی لگاتے ہیں

3: اور بعض مرتبہ صرف واقعات کی کڑی ملانا اور اپنے تک پہنچی ہوئی بات آگے بڑھا دینے کا شوق اس کا محرک ہوتا ہے مؤرخ ابنِ جریر طبریؒ اپنی تاریخ کے مقدمہ میں لکھتے ہیں:

فما يكن فی كتابي هذا من خبر ذكرناه عن بعض الماضين مما يستنكره قارئه أو يستشنعه سامعه من أجل أنه لم يعرف له وجهاً في الصحة ولا معنى في الحقيقة فليَعلم أنه لم يؤت في ذلك من قبلنا وإنما أتى من قبل بعض ناقليه إلينا وإنا إنما أدينا ذلك على نحو ما أدی إلينا۔

اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ طبری کا مقصود صرف ان تمام رطب و یابس اخبار و حکایات کو جمع کر دینا تھا جو ان تک پہنچی ہیں ان میں سہی غلط کی کوئی بحث نہیں کی گئی ہے۔

4: اسی طرح حافظ ابنِ کثیرؒ البدايۃ والنہايۃ: جلد 8 صفحہ220 میں کربلاء کے واقعات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

ولولا أن ابن جرير وغيره من الحفاظ والأئمة ذكروه ما سقتُه۔

معلوم ہوا کہ بہت سی روایات ایک دوسرے کی متابعت میں بھی بیان کر دی جاتی ہیں۔

5: حافظ ذہبیؒ فرماتے ہیں:

ووقع في كتب التواريخ وكتب الجرح والتعديل أمور عجيبة والعاقل خصم نفسه ومن حسن إسلام المرءتركه ما لا يعنيه۔ (سير أعلام النبلاء: جلد10 صفحہ93)

تاریخ اور جرح و تعدیل کی کتابوں میں عجیب عجیب باتیں آ گئی ہیں اب عقل مند وہ ہے جو پہلے خود کو دیکھے اور اچھا مسلمان وہ ہے جو بے وجہ کے موضوعات اور بے فائدہ معاملات سے خود کو دور رکھے۔

پانچواں مغالطہ: اعتقادی و اصولی گمراہیوں کو عملی و فروعی لغزشوں سے خلط کرنا اور اسی بناء پر حد و اختلاف یا مواقع اصلاح میں خلط۔

دین میں یہ بات مسلمات میں سے ہے کہ کسی مسلمان کی عملی لغزشوں اور غلطیوں کا بغیر شرعی ضرورت کے اس کے پسِ پشت تذکرہ کرنا غیبت کہلاتا ہے جو حرام ہے اور اس جرم کی شناعت اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب کہ اس گنہ گار کا انتقال بھی ہو چکا ہو اور اگر وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اولیاء میں سے ہو تو پھر تو اس مردار گوشت کی سمیت میں اور بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔

لحوم العلماء مسمومةٌ واسمُّ منها لحوم الحابة والأولياء۔

اور اس سے بھی بڑھ کر کسی صحابی کی اجتہادی خطا کو طعن و تشنیع کا موضوع بنانا تو یہ تو سوائے اپنی بدبختی کی دلیل فراہم کرنے اور رسوائی کا سامان بہم پہنچانے کے اور کچھ نہیں ہے اور جس شخص کی طرف سے یہ امور پیش آئے ہیں اس نے تو کچھ بھی نہ چھوڑا ایسی غلطیوں کو بھی بیان کر دیا جن کی توبہ کی قبولیت اور تلافی کی بشارت بھی مل چکی تھی۔

اس کے برخلاف فکر و عقیدہ کی غلطیوں پر تنبیہ اس کے داعیوں پر بقدر ضرورت اور بوقت ضرورت رد یا ملحدوں اور بد دینوں اور اہلِ تلبیس کی تلبیسات کی نشاندہی اسی طرح راویوں کی اغلاط کی گرفت یہ سب ضروریات دین میں سے ہے۔ (مستفاد از کتب اصولِ حدیث)

چھٹا مغالطہ: جمہور کے مفہوم میں خلط فکری و عملی غلطیوں میں خلط کے نتیجہ میں جمہور کے مفہوم میں خلط۔

یہ معلوم ہی ہے کہ امت میں تقلید و اتباع کے لیے دو سلسلے جاری ہیں:

1: ایک اصولی اور اعتقادی مسائل سے متعلق جن کا سارا کا سارا مدار شرعی نصوص اور روایتی نقول یعنی کتاب اللہ سنت رسول اللہ اور تعامل سلف صالحین پر ہوتا ہے ان میں قیاس کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔

(کما صرح بہ الامام البزدوی فی میزان الاصول: جلد 1 صفحہ 7)

ایسے مسائل میں اہلِ حق کی جماعت کے لیے اہلِ السنت و الجماعت کا لقب اور جمہور کا عنوان اختیار کیا گیا ہے جس کے ذریعے اہلِ بدعت اور اہلِ باطل روافض خوارج نواصب جبریہ قدریہ معتزلہ مرجئہ جہمیہ مشبہ مجسمہ معطلہ اور نیچری وغیرہ فرقوں سے امتیاز مقصود ہوتا ہے۔

ائمہ اربعہ اور اکثر فقہاء اصولین محدثین صوفیاء وغیرہم فکر و عقیدے میں جماعت اہل السنت و الجماعت سے تعلق رکھتے ہیں عقائد کے سلسلے میں ان میں آپس میں جو اختلافات پائے جاتے ہیں وہ یا تو جزوی نوعیت کے ہیں یا ایک دوسرے کے منشاء کو نہ سمجھنے کی بناء پر اصطلاحات کے فرق اور لفظی اختلاف پر مبنی ہیں جیسا کہ محققین نے اس کی تصریح کی ہے بلکہ مختلف فیہ مسائل میں تطبیق بھی بیان فرمائی ہے اس لیے ان اعتقادی مسائل کو عوام کے سامنے چھیڑنے سے منع کیا جاتا ہے۔

صفحہ 2 از 3