جمہور کی اہمیت اور شذوذ کا منشاء - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

جمہور کی اہمیت اور شذوذ کا منشاء

  محمد معاویہ سعدی

1: فخر العلماء حضرت علامہ سید سلیمان ندوی اشرفیؒ کے ہاں ابتدائی دور میں کئی مسائل میں فکر جمہور سے عدول پایا جاتا تھا جس کے نمونے تاريخ أرض القرآن وغیرہ میں آج بھی موجود ہیں بعد میں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ سے اصلاحی تعلق کے بعد بتدریج آپ نے اپنے ان افکار و عقائد سے رجوع فرما لیا تھا جس کی انتہا بظاہر پاکستان جانے کے بعد ہی ہو سکی تھی۔

بہر حال حضرت علامہ کو اس کا احساس بھی بہت رہا جس کا اندازہ آپ کے آخری دور کی بعض تحریروں سے ہوتا ہے اسی زمانے کی یہ تحریر بھی قابلِ ملاحظہ ہے:

دوسری چیز یہ ہے کہ جمہور اسلام جس مسئلہ پر پوری طرح متفق ہوں اس کو چھوڑ کر تحقیق کی نئی راہ اختیار نہ کی جائے یہ طریقِ تواتر و توارث کی بیخ کنی کے مرادف ہے اس گناہ کا مرتکب کبھی میں بھی ہو چکا ہوں اور اس کی اعتقادی و عملی سزا بھگت چکا ہوں اس لیے دل سے چاہتا ہوں کہ اب میرے عزیزوں ودوستوں میں سے کوئی اس راہ سے نہ نکلے تا کہ وہ اس سزا سے محفوظ رہے جو ان سے پہلوں کو مل چکی ہے (سید سلیمان یکم ذی قعدہ 1363ھ اقتباس از مکتوب اشاعت ماہنامہ بینات 1388ھ جمادی الآخرہ جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی)

2: شیخ عبد الفتاح ابوغدہؒ نے صفحات من صبر العلماء: صفحہ، 109 میں ایک بہت لطیف نکتہ بیان فرمایا ہے کہ جن کی عقلوں میں شذوذ ہوتا ہے ان کو ہر مسئلے میں شاذ اقوال ہی سے مناسبت ہوتی ہے۔

3: نابغہ عصر حضرت الشيخ محمد عوامہ حفظہ اللہ نے علامہ سیوطیؒ کی تدريب الراوی اپنی معیاری تحقیق اور بیش قیمت حواشی و افادات کے ساتھ پانچ جلدوں میں شائع فرمائی ہے جس میں باب معرفة الصحابة (جلد5 صفحہ 165، 190) کے تحت مختلف حواشی میں صحابہ کی تعریف ان کی عدالت اور مقام و مرتبہ سے متعلق بہت شاندار گفتگو آ گئی ہے بالخصوص سیدنا ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کے دفاع میں نہایت جامع اور پر مغز مضمون ہے۔

اپنے ان افادات کی ابتداء میں آپ نے یہ بات بھی بہت اہم فرمائی ہے:

فی الجملہ تعددِ أقوال  اور اختلاف آراء سے کون سا علمی موضوع خالی ہے؟

اب معاند اور فتنہ پرور قسم کے لوگوں کو جب کوئی بات نہیں ماننی ہوتی، تو اسی طرح کے اختلافات کا سہارا لے کر ، مسلَّمہ حقائق کا انکار کرنے لگتے ہیں، جب کہ جو لوگ انصاف اور حق کے طالب ہوتے ہیں وہ ہر مسئلہ میں جمہورِ امت اور سوادِ اعظم کے قول کو اختیار کے کے فکر د عمل پر اعتبار سے یکسو رہتے ہیں ۔ (سبحان اللّٰہ)

دعا

اللہ تعالیٰ ہم سب کو صراطِ مستقیم (منعم علیہم کے راستہ) پر فکری علمی اور عملی استقامت عطاء فرمائے ہر طرح کے زیغ و ضلال اور شکوک و شبہات سے حفاظت فرمائیں اور ماَ اَنَا عَلَیْهِ وَأَصْحَابِی  ْپر ثابت قدمی نصیب فرمائے آمین۔

رضى اللّٰه عنهم ورضوا عنهُ و ربنا اغفِرۡ لَـنَا وَلِاِخۡوَانِنَا الَّذِيۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِيۡمَانِ وَلَا تَجۡعَلۡ فِىۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ ۞ اِنۡ اُرِيۡدُ اِلَّا الۡاِصۡلَاحَ مَا اسۡتَطَعۡتُ‌ وَمَا تَوۡفِيۡقِىۡۤ اِلَّا بِاللّٰهِ‌ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ۞ رَبَّنَا لَا تُزِغۡ قُلُوۡبَنَا بَعۡدَ اِذۡ هَدَيۡتَنَا وَهَبۡ لَنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ رَحۡمَةً اِنَّكَ اَنۡتَ الۡوَهَّابُ ۞ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ ۞ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ ۞ صِرَاطَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَيۡهِمۡ غَيۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَيۡهِمۡ وَلَا الضَّآلِّيۡنَ ۞

 آمین

وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ الْعَلِی الْعَظِيمِ وَصَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَى خَيْرِ خَلْقِهِ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔