کفار سے قطع تعلق کا حکم
کفار سے قطع تعلق کا حکم
ارشاد باری تعالیٰ ہے: جو لوگ اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر (پورا پورا) ایمان رکھتے ہیں، آپ ان کو نہ دیکھیں گے کہ وہ ایسے شخصوں سے دوستی رکھتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے برخلاف ہیں، گو وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبہ ہی کیوں نہ ہو، ان لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان ثبت کر دیا ہے، اور (قلوب) کو اپنے فیض سے قوت دی ہے (فیض سے مراد نور ہے) اور ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی، جن میں ہمیشہ وہ رہیں گے، اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوں گے، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کا گروہ (جماعت) ہے، خوب سن لو! کہ اللہ تعالیٰ ہی کا گروہ فلاح (کامیابی) پانے والا ہے۔
اس لئے جو لوگ اللہ تعالیٰ جل شانہ اور اس کے رسولﷺ کے سامنے سرخ رُو ہونا چاہتے ہیں، ان کو لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ جل شانہ اور اس کے رسولﷺ کے دشمنوں سے قطع تعلق رکھیں۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل:جلد:2:صفحہ:116)