سوال: ایک بالغہ شیعہ لڑکی نے برضا و رغبت خود بلا اجازت والدین ایک سنی افغانی سے چار گواہ اور ایک وکیل کی موجودگی میں معرفت قاضی کے نکاح کیا، منکوحہ کے والدین بوجہ شیعہ ہونے کے اپنی لڑکی کا نکاح شوہر سے فسخ کرانا چاہتے ہیں حالانکہ قبل نکاح لڑکی نے روبرو گواہان اقرار کیا ہے کہ میں سنت جماعت حنفی مذہب اختیار کر چکی ہوں اور وکیل نکاح ہونے کا تو اقرار ہے اور میں وکیل بھی بنا مگر لڑکی کے ایجاب و قبول کی آواز میرے کانوں میں نہیں پہنچی۔ اس مسئلہ میں شرعی حکم کیا ہے؟
جواب: درمختار میں ہے: فنفذ نكاح حرة مكلفۃ بلارضاء ولى الخ، وهكذا في المعالمكيريۃ وغیره
پس صورت مسئولہ میں جب کہ لڑکی بالغہ ہے اور سنی ہو چکی ہے جیسا کہ شہادت سے ثابت ہے اور ایجاب و قبول بھی شہادت سے ثابت ہے، لہٰذا اس کا نکاح سنی المذہب سے صحیح ہو گیا ہے۔ والدین دختر جو کہ شیعہ ہیں اور اپنے مذہب پر قائم ہیں نکاح مذکورہ فسخ نہیں کر سکتے۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند مدلل و مکمل: جلد 8 صفحہ 117)