سوال: رافضی شیعہ اپنے آپ کو اہل سنت و الجماعت بیان کر کے اہلِ اسلام کی لڑکیوں سے نکاح کرتے ہیں اور بیان کیا کرتے ہیں کہ تقیہ فرض ہے اور ان کا تقیہ کرنے سے اہل سنت و الجماعت کا نکاح ان سے قائم رہتا ہے یا نہیں اور ان کے تقیہ کا کیا حکم ہے؟ اور تقیہ کا معنیٰ کیا ہے شرعاً؟
جواب: شیعہ اور رافضی اگر دھوکہ دے کر اور اپنے آپ کو سنی ظاہر کر کے کسی سنی سے نکاح کر لیں تو بعد علم کے اس عورت سنیہ اور اس کے ولی کو نکاح فسخ کرنے کا اختیار ہے اور غلاۃ روافض جو الوہیت علیؓ کے معتقد ہیں یا صدیق اکبرؓ کی صحابیت کے منکر ہیں یا عائشہ صدیقہؓ پر بہتان باندھتے ہیں ان کو فقہاء کرام نے قطعاً کافر کہا ہے۔ پس ایسے غالی رافضی کا نکاح مسلمہ سنیہ سے منعقد نہیں ہوتا اور تقیہ جو کہ روافض کا معمول ہے وہ درحقیقت نفاق ہے کذب ہے حرام ہے کیونکہ روافض بھی مثل منافقین کے اہل سنت و الجماعت کو دھوکہ دینے کو ان کے سامنے اپنی اغراض عاجلہ کی وجہ سے اپنے آپ کو سنی ظاہر کرتے ہیں اور اپنے عقائد باطلہ کو چھپاتے ہیں جیسا کہ منافقین اپنے عقائد باطلہ کو اہل اسلام کے سامنے چھپایا کرتے تھے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے۔ كما قال اللہ تعالیٰ:
وَاِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّاۚ وَاِذَا خَلَوْا اِلٰى شَیٰطِیْنِهِمْ قَالُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ( سورۃ البقرہ: آیت 14)
اور اس تقیہ کو فرض کہنا یہ بھی منافقین کی سی خصلت ہے کہ وہ اس کو بڑی ہوشیاری سمجھتے تھے کہ جھوٹ بول کر آنحضرتﷺ اور اہل اسلام کو دھوکہ دیتے تھے۔ پس فرض کہنا روافض کا ایسے مذموم اور قبیح امر کو یہ بھی منجملہ روافض کی خباثت ہے اور دلیل ہے ان کے مذہب کے بطلان کی۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند مدلّل و مکمّل: جلد 8 صفحہ 198)