Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو جمع قرآن کے لیے منتخب کرنے کے اہم اسباب

  علی محمد الصلابی

زید بن ثابتؓ کو جمع قرآن کے لیے منتخب کرنے کے اہم اسباب

¹۔ آپ نوجوان تھے، آپ کی عمر ابھی صرف 21 سال تھی، اس لیے آپ اس کام کے لیے زیادہ سرگرم اور چاق و چوبند ہو سکتے تھے۔
²۔ آپ عقل رسا کے مالک تھے، آپ کے اندر اس کی زیادہ اہلیت پائی جاتی تھی، آپ اس کام کی نزاکت کو زیادہ سمجھ سکتے تھے، اور اللہ تعالیٰ جسے عقل رسا عطا فرماتا ہے اس کے لیے خیر کے راستے آسان کر دیتا ہے۔
³۔ آپ ثقہ اور قابل اعتماد تھے، ہر طرح کے شوک و شبہات اور اتہامات سے پاک تھے۔ اس لیے صحابہؓ میں آپ کا عمل قابل قبول ہو گا، نفس مائل ہوں گے اور اس سے دل مطمئن ہوں گے۔
⁴۔ آپ کاتب وحی رہ چکے تھے اس سلسلہ میں آپ کو پرانا تجربہ تھا، اور عملی طور سے یہ کام آپ کر چکے تھے یہ کوئی نیا کام نہ تھا۔

[التفوق والنجابۃ علی نہج الصحابۃ؍ احمد العجمی صفحہ73] 

⁵۔ مزید برآں آپ ان چار ممتاز صحابہؓ میں سے تھے جنھوں نے عہد نبویﷺ میں مکمل قرآن حفظ کر رکھا تھا۔ قتادہ سے روایت ہے: میں نے انس بن مالکؓ  سے سوال کیا کہ نبی کریمﷺ  کے زمانہ میں کن لوگوں نے حفظ قرآن مکمل کر رکھا تھا؟ تو انہوں نے فرمایا: چار افراد نے جو سب کے سب انصار میں سے تھے: ابی بن کعبؓ، معاذ بن جبلؓ، زید بن ثابتؓ اور ابو زیدؓ [سیر اعلام النبلاء2؍431] 

تدوین قرآن کے سلسلہ میں زید بن ثابتؓ  نے جو طریقہ کار اختیار فرمایا وہ یہ تھا کہ آپ اس وقت تک مصحف میں کوئی چیز تحریر نہ فرماتے جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ یہ تحریر نبی کریمﷺ کے سامنے عمل میں آئی ہے اور صحابہ کرامؓ  نے اسے حفظ کر رکھا ہے۔ صرف حفظ پر اعتماد نہ کرتے جب تک کہ وہ تحریری شکل میں موجود نہ ہو، کیوں کہ صرف حفظ کی صورت میں وہم و خطا کا خطرہ موجود تھا، اور کسی سے کوئی تحریر اس وقت تک قبول نہ کرتے جب تک وہ دو گواہ نہ پیش کر دے کہ یہ تحریر نبی کریمﷺ  کے سامنے عمل میں آئی ہے اور ان وجوہ و احرف میں سے ہے جس پر قرآن نازل ہوا ہے۔[التفوق و النجابۃ علی نہج الصحابۃ صحفہ74] 

اس نہج پر زیدؓ پوری احتیاط اور انتہائی تلاش و جستجو اور باریک بینی کے ساتھ تدوین قرآن میں لگے رہے۔[الانشراح ورفع الضیق بسیرۃ ابی بکر الصدیق ؍ الصلابی ، صحفہ 206] 


اسم الكتاب: 
سیدنا عثمان بن عفانؓ شخصیت و کارنامے