آغا خانیوں سے امداد لینے کا حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرح متعین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ مسئلہ کچھ یوں ہے کہ آغا خان فاؤنڈیشن کے نام سے ایک رفاہی ادارہ ہے جو کہ چترال گلکت بلتستان وغیرہ میں رفاہی کاموں میں مصروف عمل ہے اور اس اس کے ادارے میں پاکستان کے بڑے بڑے مفتیانِ کرام یہ فتویٰ دیا ہے کہ اس فاؤنڈیشن میں ممبر بننا اور اسے کسی قسم کی امداد حاصل کرنا جائز نہیں ہے اس فتویٰ کی فوٹو کاپیاں بھی اس استفتاء کے ساتھ لف ہیں اب صورتحال یہ ہے کہ ان فاؤنڈیشن والوں نے اس کا نام تبدیل کر کے LSO رکھا ہے اور لوگوں کو باور کراتے ہیں کہ یہ فاؤنڈیشن نہیں ہے۔
جبکہ تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ یہی آغا خان فاؤنڈیشن ہے اس کی تفصیلات اس کے ساتھ منسلک ہیں اس کے بارے میں عوام اور علماء کے درمیان اختلاف ہوا ہے بعض کہتے ہیں کہ نام کی تبدیلی کی وجہ سے اس سے امداد لینا جائز ہے اور بعض کہتے ہیں کہ نام کی تبدیلی سے کوئی فرق نہیں پڑتا یہ حرام ہی رہے گا۔ لہٰذا قرآن و سنت کی روشنی میں تفصیلی جواب دے کر لوگوں کو اس خلجان سے نکال دیں اور ثواب دارین حاصل کریں۔
جواب: اگر یہ تنظیم یا فاؤنڈیشن نظریاتی اور مشنری ہے یا اس میں مسلمانوں کے نظریات پر اثر انداز ہونے کا عنصر یا خطرہ غالب ہے تو ان سے کسی قسم کی امداد لینا جائز نہیں ہے اور اگر یہ دونوں نہیں ہیں تو ان سے امداد لینا جائز ہے مگر تقوی نہ لینے میں ہے واضح رہے کہ نام کی تبدیلی سے شرعی حکم نہیں بدلتا ۔
قوله تعالى: يايها الذين أمنو الا تتخذوا الكافرين اولياء من دون المؤمنين فان الولى هو الذي يتولى صاحبه بما يجعل له من النصرة والمعونة على امره والمؤمن ولى السله بما يتولى من اخلاص طاعته والله ولى المؤمنين بما يتولى من جزائهم على طاعته واقتضيت الآية النهي عن الاستنصار بالكفارة والاستعانة بهم والركون اليهم : والثقة بهم وهو يدل على ان الكافر لا يستحق الولاية على المسلم بوجه ولدا كان او غيره ويدل على انه لا تجوز الاستعانة باهل الذمة في الأمور التي يتعلق بها التصرف
(احكام القرآن للجصاص: جلد، 2 صفحہ، 410)
(ارشاد المفتين: جلد، 1 ص، 498)