تیسرا مرحلہ عہدعثمانی میں قرآن کی جمع و تدوین - سنی شیعہ…

تیسرا مرحلہ عہدعثمانی میں قرآن کی جمع و تدوین

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

اور علیؓ  اس سلسلہ میں عثمانؓ پر نکتہ چینی کرنے سے منع کرتے تھے، اور فرماتے تھے: لوگو! عثمانؓ  پر غلو نہ کرو، ان کے سلسلہ میں خیر ہی کہو، اللہ کی قسم انہوں نے قرآن کے سلسلہ میں جو کچھ کیا ہے ہم تمام صحابہؓ کے مشورہ سے کیا ہے۔ اللہ کی قسم اگر میں ان کی جگہ ہوتا تو میں بھی وہی کرتا جو انہوں نے کیا ہے۔[فتح الباری (9؍18) إسنادہ صحیح ۔]

صحابہ کرامؓ  کے اس با برکت امر پر اتفاق کے بعد خواہشات نفسانی سے پاک ہر شخص پر یہ حقیقت آشکارا ہو جاتی ہے کہ عثمانؓ کے اس عظیم کارنامہ پر جس کے ذریعہ سے قرآن کریم کی انہوں نے حفاظت فرمائی ہر مسلمان کا خوش اور راضی ہونا واجب ہے۔[فتنۃ مقتل عثمان بن عفان (1؍78) ]

علامہ قرطبیؒ اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں

’’عثمانؓ نے جمع قرآن کا یہ کارنامہ مہاجرین و انصار اور مسلمانوں کو جمع کر کے اور ان سے مشورہ کے بعد انجام دیا، اور ان تمام حضرات نے اس بات سے اتفاق کیا کہ نبی کریمﷺ  سے مشہور قرأت صحیح اور ثابت ہے اس کے مطابق قرآن کو جمع کیا جائے اور اس کے ماسوا قراء توں کو نظر انداز کیا جائے، اور سب ہی نے آپ کی رائے کو صحیح قرار دیا اور آپ کی رائے صحیح و درست اور کامیاب تھی۔‘‘[الجامع لاحکام القرآن 1؍88] 

ابوبکر صدیقؓ اور عثمانؓ کے جمع قرآن کے درمیان فرق

ابنِ التین نے فرمایا: ابوبکر صدیق اور عثمان رضی اللہ عنہما کے جمع قرآن میں فرق یہ ہے کہ ابوبکرؓ نے قرآن کو اس خوف سے جمع کیا تھا کہ کہیں حاملین قرأت کے وفات پا جانے سے قرآن کا کچھ حصہ ضائع نہ ہو جائے کیوں کہ قرآن یکجا جمع نہیں کیا گیا تھا، لہٰذا آپ نے صحائف میں اسے آیات کی اس ترتیب کے ساتھ جمع کر دیا جیسا کہ نبی کریمﷺ نے انہیں مطلع کیا تھا۔
نیز عثمانؓ  کا جمع قرآن اس وقت عمل میں آیا جب کہ وجوہ قرأت میں اختلاف رونما ہوا۔ لوگوں نے اپنی اپنی لغات کے موافق قرآن پڑھنا شروع کیا جس کی وجہ سے ایک دوسرے کی قراء ت کو غلط قرار دینے لگے، چنانچہ اس سے معاملات کی سنگینی کا خطرہ لاحق ہوا، لہٰذا عثمانؓ  نے ان صحائف کو جو ابوبکرؓ  نے تیار کرائے تھے ایک مصحف میں سورتوں کی ترتیب کے ساتھ جمع کرا دیا، اور صرف قریش کی لغت کو ملحوظ رکھا کیوں کہ انہی کی لغت پر قرآن کا نزول ہوا تھا اگرچہ ابتداء میں آسانی کی خاطر دوسری لغات کے مطابق قرآن کی تلاوت کی اجازت دی گئی تھی، پھر آپ نے دیکھا کہ اب ضرورت ختم ہو چکی ہے لہٰذا ایک ہی لغت پر اکتفا کیا۔
اور ابوبکر باقلانی فرماتے ہیں
’’عثمانؓ کا جمع قرآن سے مقصود وہ نہ تھا جو ابوبکرؓ کا دو جلدوں کے درمیان جمع کرنے کا تھا، بلکہ آپ کا مقصود صرف نبی کریمﷺ  سے معروف و ثابت شدہ قرأتوں پر لوگوں کو جمع کرنا اور انہیں ایسے مصحف پر لگانا تھا جس میں کوئی تقدیم و تاخیر نہ ہو، اور نہ اس کے ساتھ کوئی تفسیر ہو، اور نہ ایسی آیات ہوں جن کی تلاوت منسوخ ہو چکی ہو تاکہ بعد میں آنے والے لوگ کسی فساد و اشتباہ کا شکار نہ ہوں۔‘‘

اور حارث محاسبی فرماتے ہیں

’’لوگوں میں یہ بات مشہور ہے کہ جامع قرآن عثمانؓ  ہیں لیکن بات ایسی نہیں ہے، بلکہ آپ نے مہاجرین و انصار کے اتفاق و اختیار سے انہیں ایک حرف کے مطابق قرأت پر جمع کیا، کیوں کہ حروف قراء ت سے متعلق اہلِ شام و عراق کے مابین اختلاف رونما ہونے کی وجہ سے آپ کو فتنہ کا خطرہ محسوس ہوا، لیکن اس سے قبل حروف سبعہ کے مطابق جس پر قرآن کا نزول ہوا تھا مصاحف کے اندر مطلق قرأت کی سہولت تھی، البتہ قرآن کو حقیقت میں جمع کرنے والے ابوبکرؓ تھے۔ ‘‘
علیؓ  فرماتے ہیں:
’’اگر میں مصاحف سے متعلق والی ہوتا تو جو عثمانؓ نے کیا ہے وہی کرتا۔‘‘
[عثمان بن عفان؍ صادق عرجون صفحہ 178]

نیز دیکھیے:

الاتقان للسیوطی 159] 

(مترجم)]

علامہ قرطبی فرماتے ہیں:

’’اگر یہ سوال کیا جائے کہ عثمانؓ نے لوگوں کو ایک مصحف پر جمع کرنے کی زحمت کیوں اٹھائی جب کہ آپ سے قبل ابوبکر صدیقؓ  اس سے فارغ ہو چکے تھے؟ تو اس کو یہ جواب دیا جائے گا کہ عثمانؓ کا مقصود مصحف کی تالیف پر لوگوں کو جمع کرنا نہ تھا جیسا کہ تم جانتے ہو کہ عثمانؓ  نے ام المومنین حفصہؓ  کو کہلا بھیجا تھا کہ آپ قرآنی صحائف ہمیں بھیج دیں ہم مختلف مصاحف میں اسے نقل کر کے آپ کو واپس کر دیں گے۔ عثمانؓ  نے یہ قدم اس وقت اٹھایا تھا جب کہ لوگوں کے درمیان قرأت قرآن میں اختلاف رونما ہوا تھا، کیوں کہ صحابہؓ مختلف شہروں میں منتشر ہو چکے تھے، اور صورتحال سنگین ہو چکی تھی، اختلاف بڑھ چکا تھا اور اہلِ شام و عراق کے درمیان اختلاف نے وہ شکل اختیار کر لی تھی جس کو حذیفہؓ  نے بیان کیا ہے۔‘‘[الجامع لاحکام القرآن (1؍87)] 

اسم الكتاب
سیدنا عثمان بن عفانؓ رضی اللہ عنہ شخصیت وکارنامے 


صفحہ 2 از 2