کیا عثمانی مصاحف تمام حروف سبعہ پر مشتمل تھے؟
علی محمد الصلابیکیا عثمانی مصاحف تمام حروف سبعہ پر مشتمل تھے؟
محقق و ریسرچ اسکالر شیخ صادق عرجونؒ کی تحقیق یہ ہے کہ ابوبکر صدیقؓ کے صحائف جو باجماع مسلمین عثمانی مصحف کی اصل اور اساس تھے وہ ان حروف سبعہ پر مشتمل نہ تھے جن سے متعلق صحیح احادیث وارد ہیں کہ قرآن کا نزول سات حرفوں پر ہوا ہے، بلکہ ان میں سے ایک حرف پر مشتمل تھا اور وہ ، وہ حرف تھا جس کے مطابق رسول اللہﷺ نے آخری مرتبہ جبریل علیہ السلام سے پڑھا تھا، اور اسی کے مطابق رسول اللہﷺ کی آخری زندگی تک عمل رہا، کیوں کہ شروع میں حروف سبعہ کے مطابق قرآن کی قراء ت کی رخصت امت کی آسانی کے لیے دی گئی تھی، اور جب قرآن عام ہو گیا، اور لوگوں کا آپس میں ایک دوسرے سے اختلاف ہوا، اور ان کی لغتیں ایک ہو گئیں تو اس کا حکم اٹھا لیا گیا۔
امام طحاویؒ فرماتے ہیں
’’چوں کہ لوگ امی (ان پڑھ) تھے، بہت کم لوگ لکھنا پڑھنا جانتے تھے، لہٰذا ان کے لیے شروع میں قرآن کو دوسرے کی لغت کے مطابق پڑھنا مشکل تھا اس لیے لوگوں کو وسعت دی گئی تھی کہ اگر معنی ایک ہو تو الفاظ کے اختلاف میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہ رخصت باقی رہی یہاں تک کہ بہت سے لوگوں نے لکھنا پڑھنا سیکھ لیا، اور ان کی لغات رسول اللہﷺ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح ہو گئیں، اور وہ اس طرح الفاظ کی ادائیگی پر قادر ہو گئے تو ان کے لیے اب یہ جائز نہ رہا کہ وہ اس کے خلاف قرآن کی تلاوت کرتے۔‘‘علامہ ابن عبدالبرؒ فرماتے ہیں
’’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وقتی طور پر ایک ضرورت کے تحت حروف سبعہ کی رخصت دی گئی تھی، جب یہ ضرورت ختم ہو گئی تو یہ رخصت بھی ختم ہو گئی، اور پھر ایک ہی حرف پر قرآن کی قراء ت باقی رہی۔‘‘[عثمان بن عفان ؍ صادق عرجون صفحہ 180]
امام طبریؒ فرماتے ہیں:
’’حروف سبعہ کے مطابق قرآن کی تلاوت امت پر واجب نہ تھی بلکہ جائز تھی، اس لیے جب صحابہؓ نے دیکھا کہ اگر ایک حرف پر لوگ جمع نہ ہوئے تو امت افتراق و اختلاف کا شکار ہو جائے گی، لہٰذا انہوں نے اس پر اجماع و اتفاق کر لیا کہ ایک حرف کے مطابق تلاوت کی جائے، اور صحابہؓ ضلالت و گمراہی سے معصوم ہیں۔‘‘[عثمان بن عفان ؍ صادق عرجون صفحہ180]
یہ ایک حرف جس کے مطابق صحائف اجماع قطعی کی روشنی میں تحریر کیے گئے اور اس سے مصحف امام عثمانی کونقل کیا گیا قرائے سبعہ وغیرہ کی قراء ت کا جامع ہے، اور باسناد تواتر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے، کیوں کہ حدیث میں مذکور احرف سبعہ ان قراءات کے علاوہ ہیں۔[عثمان بن عفان؍ صادق عرجون صفحہ180 ]
علامہ قرطبیؒ فرماتے ہیں
’’ہمارے بہت سے علماء جیسے داؤدی اور ابن ابی صفرہ وغیرہم کا کہنا ہے کہ یہ قرأت سبعہ جو قرائے سبعہ کی طرف منسوب ہیں حرف سبعہ نہیں جس کے مطابق قراء ت کی صحابہ کو رخصت ملی تھی، بلکہ یہ قراء ا ت سبعہ ان حرف میں سے صرف ایک حرف کے مطابق ہیں، اور یہ وہ حرف ہے جس کے مطابق مصحف کو جمع کیا گیا ہے۔‘‘[الجامع لاحکام القرآن 1؍79] قہمارے خیال میں حرف سبعہ کے معنی و مفہوم کے سلسلہ میں قریب ترین رائے یہ ہے کہ یہ عرب کی مشہور اور فصیح ترین لغات ہیں اور یہ پورے قرآن میں پھیلے ہوئے ہیں۔قاسم بن سلام، ابن عطیہ اور علمائے اجلہ کی ایک جماعت کی یہی رائے ہے اور سات اقوال کا ماحصل یہی ہے جنھیں علامہ سیوطی نے اتقان میں سبعہ حرف کے معنی سے متعلق ذکر فرمایا ہے۔[الاتقان؍ السیوطی (1؍144۔148)]
اسم الكتاب:
سیدنا عثمان بن عفانؓ شخصیت و کارنامے