متعہ النساء: قرآن کریم نے کن عورتوں سے مباشرت کی اجازت دی…

متعہ النساء: قرآن کریم نے کن عورتوں سے مباشرت کی اجازت دی ہے؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

قرآن کریم میں متعہ کا ذکر نہیں ہے ۔  

قرآن کریم نے کن عورتوں سے مباشرت کی اجازت دی ہے؟

قرآن میں عورت سے جماع کے صرف دو طریقے ہیں۔

1: اپنی زوجہ سے

2:  باندیوں سے

اس کے علاوہ کسی بھی طرح کا جماع زنا ہے اوراس کی سزا موجود ہے ۔

وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰفِظُوۡنَ۞اِلَّا عَلٰٓى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ‌۞(سورۃ المؤمنون آیت 5،  6)

اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔ مگر اپنی بیویوں سے یا (کنیزوں سے) جو ان کی ملک ہوتی ہیں کہ (ان سے) مباشرت کرنے سے انہیں ملامت نہیں۔

اس آیت میں اللہ تعالی نے دو قسم کی عورتیں حلال کیں ہیں ایک وہ جو آپ کے نکاح مستقل میں ہو دوسری آپ کی باندیاں "ازواجهم" سے مراد نکاح مستقل والی بیویاں ہیں جس کا ثبوت خود قرآن کریم میں موجود ہے کہ اس پاک کتاب میں جہاں پر بھی "ازواج" کا لفظ استعمال ہوا ہے وہاں مراد "مستقل بیوی" ہے ۔