سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ (صفہ کی زندگی اور تحصیل…

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ (صفہ کی زندگی اور تحصیل علم)

  نقیہ کاظمی

صفحہ 2 از 3

آپؓ مکثرینِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں حدیث کے مشہور راوی ہیں۔ علامہ ذہبیؒ نے آپؓ کی احادیث کی تعداد 1170 بتائی ہے ۔ جن میں سے صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں 43 اور صرف صحیح بخاری میں 16 اور صرف صحیح مسلم میں 52 اور بقیہ احادیث دیگر کتبِ احادیث میں ہیں۔

(سیرِاعلام النبلاء: صفحہ، 172 جلد، 3)

سورہ فاتحہ سے پڑھ کر دم کرنا:

آپؓ کے کمال علمی ہی کی بات ہے کہ آپؓ نے جان لیا کہ سورہ فاتحہ ہر مرض کی دواء ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر شفاء رکھی ہے۔

خود حضرت ابو سعید خدریؓ ہی کا بیان ہے کہ نبی اکرمﷺ کے کچھ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عرب کے ایک قبیلہ میں پہنچے۔ انہوں نے دستور کے موافق ان کی ضیافت نہیں کی، اتفاق سے ان کے سردار کو بچھو نے ڈنک مار دیا، اب سٹ پٹائے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس دوڑے آئے، کہنے لگے بھائیو! تمہارے پاس بچھو کاٹنے کی کوئی دواء یا منتر ہے؟ انہوں نے کہا! ہاں ضرور ہے: مگر تم نے ہماری ضیافت تک نہیں کی لہٰذا ہم بغیر اجرت کے منتر نہیں کریں گے۔ آخر انہوں نے کچھ بکریاں بطورِ اجرت دینی قبول کر لیں۔ ایک صاحب (سیدنا ابوسعید خدریؓ ہی ہیں جیسا کہ محدثین نے اور بطورِ خاص علامہ ابنِ حجر عسقلانیؒ نے صراحت کی ہے) آگے بڑھے اور سورہ فاتحہ پڑھ کر تھوک منہ میں اکٹھا کر کے ڈنک ماری ہوئی جگہ پر تھوک دیا، بالآخر وہ سردار اچھا ہو گیا۔ اس قبیلہ کے لوگ بکریاں لے آئے، لیکن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو تردد ہوا، انہوں نے کہا، ہم یہ بکریاں اس وقت تک نہیں لیں گے جب تک نبی اکرمﷺ سے پوچھ نہ لیں۔ پھر آپﷺ سے پوچھا، آپﷺ ہنس دئیے اور فرمایا تجھ کو کیسے معلوم ہوا کہ سورہ فاتحہ منتر 

وما أدراک أنہا رقیۃ خذوہا واضربوا لی بسہم بھی ہے! بکریاں شوق سے لے لو اور میرا بھی حصہ لگاؤ۔

(صحیح بخاري: صفحہ، 854 جلد، 2 حدیث نمبر، 5736/2221)

(سننِ ابو داؤد: صفحہ، 544 جلد، 2 فتح الباری: صفحہ532/533 جلد، 4)

حلقۂ درس:

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا تعلیمی و تدریسی حلقہ مسجدِ نبویﷺ میں منعقد ہوتا تھا، بعض اوقات ان کے مکان پر یا دوسری جگہ پر بھی ہوتا تھا، جس میں رسول اللہﷺ کی وصیت کے مطابق نہایت والہانہ انداز میں طلبہ کا استقبال کرتے تھے، انہوں نے رسول اللہﷺ کی یہ وصیت روایت کی ہے

وسیاتیکم شباب من أقطار الأرض یطلبون الحدیث فإذا جاؤاکم فاستوصوا بہم خیراً۔

ترجمہ: عنقریب روئے زمین کے مختلف علاقوں سے نوجوان تمہارے پاس حدیث کی طلب میں آئیں گے۔ جب وہ آئیں تو ان کے ساتھ حسنِ سلوک کا برتاؤ کرنا۔(شرف اصحاب الحدیث: صفحہ، 23/21)

ان کے شاگرد ابو ہارون عبدی کا بیان ہے کہ سیدنا ابو سعید خدریؓ جب نوجوان طالب علموں کو اپنی مجلس میں آتے ہوئے دیکھتے تھے تو کہتے تھے کہ رسول اللہﷺ کی وصیت کو مرحبا ہو۔ آپﷺ نے ہم کو وصیت فرمائی تھی کہ ہم تم لوگوں کے لیے مجلس میں گنجائش نکالیں اور تم کو حدیث سمجھائیں، اس لیے کہ ہمارے بعد تم لوگ ہمارے خلف جانشیں اور حدیث کے عالم بنو گے۔

(المحدث الفاصل: صفحہ، 176)

ابو ہارون عبدی کی دوسری روایت میں ہے کہ جب ہم لوگ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی مجلس میں جاتے تو کہتے! مرحباً بوصیۃ رسول اللہﷺ اور ہم پوچھتے کہ آپﷺ نے کیا وصیت فرمائی ہے؟ تو بتاتے کہ ہم سے رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ عنقریب میرے بعد لوگ تمہارے پاس میری حدیث حاصل کرنے کے لیے آئیں گے، جب وہ آئیں تو تم ان کے ساتھ لطف و کرم اور مہربانی کے ساتھ پیش آنا اور ان کو حدیث کی تعلیم دینا۔

(المحدث الفاصل: صفحہ، 176)

شہر بن حوشبؒ کا بیان ہے کہ ہم نوجوان سیدنا ابو سعید خدریؓ کی خدمت میں جا کر حدیث اور دینی باتیں معلوم کرتے تھے، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہﷺ کی وصیت کو مرحبا ہو! میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب لوگ تمہارے پاس دین میں تفقہ حاصل کرنے کے لیے آئیں گے، تم ان کو دین میں تفقہ و فقاہت کی تعلیم دینا، اس کے بعد حضرت ابو سعیدؓ ہمارے سوالات کے جوابات دیتے اور مسائل ختم ہونے کے بعد حدیث بیان کرتے تا آنکہ ہم اکتا جاتے تھے۔

(الفقیہ والمتفقہ: صفحہ، 199 جلد، 2)

آپؓ زبانی حدیث شریف یاد کرنے کو ترجیح دیتے تھے اور اپنے شاگردوں کو حدیث پاک یاد کرنے کی تاکید کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جس طرح ہم نے رسول اللہﷺ سے یہ حدیث سن کر یاد کی ہے تم لوگ بھی ہم سے سن کر یاد کرو۔ ایک روز ابو نصرؒ وغیرہ نے آپؓ سے درخواست کی کہ جو حدیثیں ہم آپؓ سے سنتے ہیں، کیوں نہ لکھ لیا کریں تا کہ ان میں کمی زیادتی کا احتمال نہ رہے۔ آپؓ نے فرمایا کہ تم لوگ حدیث کو قرآن بنانا چاہتے ہو؟ یہ ہرگز نہیں ہو گا۔

(جامع بیان العلم: صفحہ، 64 جلد، 1)

آپؓ اپنے حلقہ نشینوں سے کہا کرتے تھے کہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جب کہیں بیٹھ کر آپس میں گفتگو کرتے تھے تو ان کا موضوع فقہی ہوتا تھا، یا کسی شخص کو حکم دیتے اور وہ ان کے سامنے قرآن کریم کی کوئی سورت پڑھتا تھا۔

(طبقات ابنِ سعد: صفحہ، 374 جلد، 2)

آپؓ خاص طور سے اپنے طلبہ کرام کو تاکید کرتے تھے کہ تم لوگ آپس میں حدیث کا مذاکرہ کیا کرو کیونکہ ایک حدیث دوسری حدیث کو یاد دلاتی ہے۔

(الإصابۃ: صفحہ، 33 جلد، 2)

ایک ساعت علمِ دین کا مذاکرہ کرنا پوری رات عبادت کرنے سے بہتر ہے۔

(جامع بیان العلم: صفحہ، 111 جلد، 1)

(تدریب الراوي: صفحہ، 18)

شاگردان کرام:

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے فیض یافتگان میں خود ان کے معاصر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں، مثلاً حضرت عبداللہ ابن عمرؓ، سیدنا عبداللہ بن عباسؓ، حضرت جابر بن عبداللہؓ، سیدنا انسؓ بن مالک، حضرت ابو أمامہ بن سہلؓ، سیدنا ابو الطفیلؓ وغیرہ ہیں۔

(سیرِ أعلام النبلاء: صفحہ، 169 جلد، 3 تہذیب التہذیب)

کبارِ تابعین کی ایک لمبی فہرست ہے جسے حافظ مزی نے تہذیب الکمال میں تفصیل کے ساتھ قلم بند کیا ہے۔

بے باک حق گوئی:

صفحہ 2 از 3