سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ (صفہ کی زندگی اور تحصیل…

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ (صفہ کی زندگی اور تحصیل علم)

  نقیہ کاظمی

صفحہ 3 از 3

حضرت سہل بن سعدؓ کا بیان ہے کہ میں، سیدنا ابوذرؓ، سیدنا عبیدۃ بن صامتؓ، سیدنا محمد بن مسلمہؓ، سیدنا ابو سعید خدریؓ ایک اور شخص نے رسول اللہﷺ سے اس بات پر بیعت کی کہ ہم اللہ تعالیٰ کے اوامر نواہی کے بارے میں کسی کی پرواہ نہیں کریں گے۔ بعد میں اس چھٹے شخص (جس کا نام ذکر نہیں کیا ہے) نے بیعت توڑ دی۔

ایک دن حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ تم میں سے کوئی آدمی جب حق کو دیکھے یا سنے تو لوگوں کا خوف اس کو حق بات سے نہ روکے۔ اس کے بعد کہا اسی حدیث نے مجھے امادہ کیا اور میں سواری کر کے مدینہ منورہ سے شام حضرت امیر معاویہؓ کے پاس گیا اور ان کے کان میں حق بات کہہ کر واپس ہو گیا۔

(الاِصابۃ:صفحہ، 33 جلد، 2)

آپؓ مروان بن حکم جیسے بادشاہ کے سامنے بھی حق گوئی سے باز نہ آئے۔

خود آپؓ فرماتے ہیں رسول اللہﷺ کا معمول تھا جب عید الفطر اور عید الاضحیٰ کی نماز کے لیے تشریف لے جاتے تو پہلے نماز پڑھاتے۔ نماز کے بعد لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اگر فوج کشی کی ضرورت ہوتی تو اس کا تذکرہ ان کے سامنے کرتے، یا اگر کوئی دوسری ضرورت ہوتی تو انہیں اس کا حکم فرماتے۔ پھر حاضرینِ مجلس سے فرماتے صدقہ کرو، صدقہ کرو، صدقہ کرو، زیادہ تر عورتیں صدقہ کرتیں۔ پھر آپﷺ گھر تشریف لاتے، اسی پر برابر عمل ہوتا رہا، جب مروان کا دورِ حکومت آیا اور ہم مروان کا ہاتھ پکڑ کر عید گاہ آئے تودیکھا کثیربن صلت نے پہلے سے مٹی اور کچی اینٹ کا منبر تیار کر رکھا تھا، وہاں پہنچ کر مروان مجھ سے اپنے ہاتھ کو چھڑانے لگا جیسے مجھے منبر کی طرف کھینچ رہا ہو اور میں اسے نماز کے لیے کھینچ رہا تھا۔ جب ایسا میں نے دیکھا تو میں نے کہا، خطبہ سے پہلے عید کی نماز کا پڑھنا کہاں گیا؟ اس نے کہا جس کو آپؓ جانتے ہیں اس پرعمل ختم ہو گیا۔

میں نے کہا خداکی قسم جسے میں جانتا ہوں اس سے بہتر تم ہرگز نہیں جانتے ہو۔ چند مرتبہ میں نے کہا تو وہ رک گیا۔

(صحیح مسلم: صفحہ، 290 جلد، 1 العیدین)

وفات:

سیدنا ابوسعید خدریؓ کی وفات واقعہ حرّہ کے بعد 64 ھجری میں ہوئی۔

(الثقات: صفحہ، 164)

(الإصابۃ: صفحہ، 33 جلد، 2)

حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب سیدنا ابو سعید خدریؓ کا آخری وقت ہوا تو انہوں نے نئے کپڑے منگا کر پہنے اور فرمایا کہ میں نے نبی اکرمﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مردہ ان ہی کپڑوں میں اٹھایا جاتا ہے جن میں مرتا ہے۔

(سننِ ابو داؤد: صفحہ، 444 جلد، 2 الجنائز)


صفحہ 3 از 3