حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ بن جراح - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ بن جراح

  نقیہ کاظمی

صفحہ 1 از 4

حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ:

سیدنا ابوعبیدہؓ بن جراح کو حافظ ابو عبداللہ نیشا پوریؒ اور علامہ ابونعیم اصفہانیؒ نے صفہ کے طالب علموں میں شمار کیا ہے۔
(حلیۃ الأولیاء: صفحہ، 10 جلد، 2)
سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ اصحابِ صفہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ رہ کر منبعِ نبوتﷺ سے اس قدر سیراب ہوئے کہ پیغمبرِ اسلامﷺ نے انہیں قرآن و سنت اور دینِ اسلام کا معلم بنا کر وفدِ نجران کے ساتھ روانہ کیا۔
(صحیح مسلم: صفحہ، 282 جلد، 2 مناقبِ ابی عبیدہؓ)
قرآن کریم کے اندر اتنا کمال حاصل کیا کہ ان کا شمار جامعِ قرآن میں ہونے لگا۔
(سیرِاعلام النبلاء: صفحہ، 09 جلد، 1)
حضرت ابو عبیدہؓ کے اکثر اوقات میدانِ جنگ میں لشکرِ اسلام کی قیادت کرتے ہوئے گزرے ہیں، سیدنا عمرؓ کے دورِ خلافت میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی جگہ امیرِ لشکر اور سپہ سالارِ اسلام آپؓ ہی رہے ہیں۔
(سیرِ اعلام النبلاء: صفحہ، 12 جلد، 1)
یہی وجہ ہے کہ آپؓ کا کوئی مخصوص حلقہ درس نہیں رہا اور نہ آپؓ باضابطہ طریقہ تعلیمِ علومِ نبوت کو اپنا سکے، پھر بھی آپؓ کے فیض یافتگان میں مشہور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں، ان میں سیدنا جابر بن عبداللہؓ، سیدنا عرباض بن ساریہؓ، سیدنا ابو امامہ باہلیؓ، سیدنا سمرہ بن جندبؓ اور سیدنا عبد الرحمٰن بن غنمؓ ہیں۔
(تہذیب التہذیب: صفحہ، 73 جلد، 5)
آپؓ کی احادیث کی تعداد بقول علامہ ذہبیؒ 15 ہے۔(سیر اِعلام النبلاء: صفحہ، 6 جلد، 1)
حضرت ابو عبیدہؓ کا سلسلہ نسب اور ان کا حلیہ مبارکہ:
سیدنا ابو عبیدہؓ کا اسم گرامی عامر ہے، اور ان کے والد کا نام عبداللہ بن جرّاحؓ بن ہلال ہے، ان کی کنیت ابو عبیدہؓ بن جراح ہے اور یہ خاندانِ قریش سے تعلق رکھتے ہیں۔
(طبقات ابنِ سعد: صفحہ، 414 جلد، 3)
(المستدرک: صفحہ، 264 جلد، 3)
حضرت ابوعبیدہؓ خوش شکل، خوب رو، دبلے پتلے، دراز قد، ذرا جھکے ہوئے اور ہلکی داڑھی والے تھے اور آپؓ کے سامنے کے دو دانت ٹوٹے ہوئے تھے۔
(تہذیب التہذیب: صفحہ، 73 جلد، 5)
اسلام:
حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ قدیم الاسلام ہیں۔ طبقات ابنِ سعد کے حوالہ سے علامہ ابنِ حجرؒ نے نقل کیا کہ رسول اللّٰہﷺ کے دارارقم میں تشریف لے جانے سے پہلے حضرت ابو عبیدہؓ، حضرت عثمان بن مظعونؓ، حضرت ابو عبیدہؓ بن حارث، حضرت عبدالرحمٰنؓ بن عوف اور حضرت ابوسلمۃ بن عبدالأسدؓ ایک ساتھ رسول اللہﷺ کے پاس آئے اور آپﷺ نے ان پر اسلام پیش کیا اور اسلامی ضروری باتیں انہیں بتائیں یہ سب بیک وقت مسلمان ہو گئے۔
(طبقات ابنِ سعد: صفحہ، 303 جلد، 3)
(الاصابۃ: صفحہ، 243 جلد، 2)
عہدِ نبویﷺ میں سیدنا ابو عبیدہؓ کے جنگی کارنامے:
حضرت ابو عبیدہؓ غزوہ بدر میں شریک ہو کر اسلام کی حقانیت کی خاطر رہتی دنیا تک ایک تاریخی کارنامہ انجام دے گئے ہو یہ کہ غزوہ بدر میں سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ بے خوف و خطر دشمنوں کی صفوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھتے جا رہے تھے، کفار سامنے سے ہٹتے جا رہے تھے، لیکن ایک شخص آپؓ کے سامنے کھڑا ہی نہیں تھا بلکہ آپؓ سے مقابلہ کرنے کے درپے تھا لیکن آپؓ نے اس سے پہلو تہی اختیار کرنے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی، مگر وہ شخص آپؓ سے مقابلہ کرنے کے لیے بار ہا سامنے آتا رہا، جب دیکھا کہ اب مقابلہ کیے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے تو تلوار سے ایسا زور دار وار کیا جس سے جسم کے دو ٹکڑے ہو گئے۔ یہ شخص آپؓ کے والد عبداللہ بن جراح تھے۔ آپ کا یہ اقدام الله تعالیٰ کو اتنا پسند آیا کہ آپؓ کی شان میں یہ آیت نازل کر دی۔
لَا تَجِدُ قَوۡمًا يُّؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ يُوَآدُّوۡنَ مَنۡ حَآدَّ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَلَوۡ كَانُوۡۤا اٰبَآءَهُمۡ اَوۡ اَبۡنَآءَهُمۡ اَوۡ اِخۡوَانَهُمۡ اَوۡ عَشِيۡرَتَهُمۡ‌ؕ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِىۡ قُلُوۡبِهِمُ الۡاِيۡمَانَ وَاَيَّدَهُمۡ بِرُوۡحٍ مِّنۡهُ‌ ؕ وَيُدۡخِلُهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا‌ ؕ رَضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ‌ ؕ اُولٰٓئِكَ حِزۡبُ اللّٰهِ‌ ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ اللّٰهِ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ۞
(سورۃ المجادلہ: آیت نمبر، 22)
ترجمہ: جو لوگ اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر (پورا پورا) ایمان رکھتے ہیں آپ ان کو نہ دیکھیں گے کہ وہ ایسے شخصوں سے دوستی رکھتے ہوں جو اللہ اور اس کے رسول کے برخلاف ہوں ،خواہ وہ ان کے باپ، یا بیٹے، یا بھائی یا ان کے اہلِ خاندان ہی کیوں نہ ہوں۔ ان لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان ثبت کر دیا ہے اور اپنی طرف سے ایک روح، فیض عطا کر کے ان کو قوت دی ہے اور ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے ، اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو گا، وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوں گے، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے گروہ ہیں ، خوب سن لو! اللہ تعالیٰ کا گروہ ہی فلاح و کامیابی پانے والا ہے ۔
(طبقات ابنِ سعد: صفحہ، 298 جلد، 3)
(حلیۃ الأولیاء: صفحہ،101 جلد، 1)
حضرت ابو عبیدہؓ بن جراح نے غزوہ احد میں بھی شرکت کرکے ایک زبردست کارنامہ انجام دیا ہے، غزوہ احد میں جب مسلمانوں کے پاؤں اکھڑنے لگے تو اس نازک وقت میں یہ ان چودہ جاں نثار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے ایک تھے جنہوں نے رسول اللہﷺ کے گرد گھیرا ڈال رکھا تھا اور اپنے سینوں پہ دشمنوں کی تیر کھا کر محبوبِ جان رسول اللہﷺ کی جانب سے دفاع کا بھر پور فریضہ سر انجام دیا تھا۔
(المغازی للواقدی: صفحہ، 240 جلد، 1)
اس دن نبی اکرمﷺ کا سرِ مبارک، رخسارِ انور اور نیچے کا لبِ مبارک زخمی ہوا تھا اور رباعی دندانِ مبارک شہید ہوئے تھے۔
(صحیح بخاري: صفحہ، 584 جلد، 2 رقم، 4075)
(فتح الباري: صفحہ، 382 جلد، 7)
رخسارِ انور میں خَود (لوہے کی ٹوپی) کے دو حلقے گڑ گئے تھے، اس کو سیدنا ابو عبیدہؓ نے دانت سے پکڑ کر کھینچا جس سے ان کے سامنے کے دو دانت گر گئے، اس کے باوجود ان کو دیکھنے والے یہ کہا کرتے کہ اگلے دونوں دانت ٹوٹ جانے کے بعد بھی حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نہایت خوبصورت دکھائی دیتے تھے۔
(طبقات ابنِ سعد: صفحہ، 409 جلد، 3) 
صفحہ 1 از 4