حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ بن جراح - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ بن جراح

  نقیہ کاظمی

صفحہ 2 از 4
(المستدرک: صفحہ، 266 جلد، 3)
غزوہ ذات السلاسل (غزوہ ذات السلاسل ماہِ جمادی الثانی 8 ہجری) میں نبی اکرمﷺ کو خبر ملی کہ بنو قضاعۃ کی جماعت مدینہ منورہ پر حملہ آور ہونا چاہتی ہے، آپﷺ نے اس کی سرکوبی کے لیے حضرت عمرو بن عاصؓ کو امیر بنایا انہیں سفید جھنڈا دیا اور تین سو آدمی اور تیس گھوڑے ان کے ساتھ کیے۔ آگے چل کر معلوم ہوا کہ کفار کی تعداد بہت ہے تو رسول اللہﷺ سے امداد طلب کی، آپؓ نے حضرت ابو عبیدہؓ کو دو سو گھوڑوں کے ساتھ روانہ کیا جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔ یہ سب آپس میں مل کر بنو قضاعہ پر زور دار حملہ کیے، جس سے ان کے پاؤں اکھڑ گئے اور میدان چھوڑ بھاگے۔
(المغازی للواقدی: صفحہ، 692)
(فتح الباری: صفحہ، 74 جلد، 8)
پیغمبرِ اسلامﷺ نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی مدد کے لیے سیدنا ابو عبیدہؓ بن جراح ہی کو دو سو آدمیوں کے ساتھ روانہ فرمایا تھا، جن میں حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ بھی تھے اور نبی اکرمﷺ نے یہ تاکید فرمائی تھی کہ سیدنا عمرؓو بن عاص سے مل کر کام کرنا اور آپس میں اختلاف نہ کرنا، جب حضرت ابو عبیدہؓ وہاں پہنچے اور نماز کا وقت آیا تو انہوں نے امامت کرنی چاہی۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا امیر لشکر تو میں ہوں، آپؓ لوگ میری مدد کے لیے آئے ہیں، یہ سن کر انہوں نے فرمایا رسول اللہﷺ نے چلتے وقت مجھ کو حکم دیا تھا کہ اتفاق سے رہنا اختلاف نہ کرنا اس لیے میں تمہاری اطاعت کر رہا ہوں، اور اپنی امامت تمہیں سونپ رہا ہوں۔
(المغازي للواقدي: صفحہ، 769 جلد، 2)
(فتح الباري: صفحہ، 674 جلد، 7)
حضرت ابو عبیدہؓ کی اعلیٰ دیانت اور اکمل قائدانہ صلاحیت کو رسول اللہﷺ نے دیکھتے ہوئے جنگِ سیف البحر میں آپؓ ہی کو امیرِ لشکر بنایا یہ جنگ 8 ہجری ماہِ رجب میں پیش آئی ہے۔
(المغازي: صفحہ، 774 جلد، 2)
(فتح الباري: صفحہ، 679 جلد، 7)
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ پیغمبرِ اسلامﷺ نے سمندری ساحل کی طرف قریش کی گھات میں تین سو افراد پر مشتمل ایک لشکر بھیجا اور امیرِ لشکر حضرت ابو عبیدہؓ بن جراح کو بنایا، راستہ ہی میں لشکر کا زادِ راہ ختم ہو گیا، سیدنا ابوعبیدہؓ نے لشکر کے بچے کھچے زادِ راہ جمع کرنے کا حکم دیا، دو تھیلے کھجوروں کے جمع ہو گئے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ روزانہ ہمیں تھوڑا تھوڑا کھانے کو دیتے تھے، بالآخر یہ بھی ختم کے قریب ہوا تو ہمارے حصہ میں صرف ایک ایک کھجور آتی تھی، ایک کھجور کی قدر اس وقت معلوم ہوئی اور اس موقع پر سخت فاقہ کی بناء پر درختوں کے پتے تک کھائے اسی لیے اس لشکر کانام سریۃ الخبط بھی پڑ گیا پندرہ دنوں تک اسی حالت میں رہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے بڑے ٹیلے کی طرح ایک مچھلی ظاہر فرمائی اس مچھلی کو سارا لشکر اٹھارہ راتوں تک کھاتا رہا، بعد میں سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے حکم سے اس مچھلی کے پسلیوں کی دو ہڈیاں کھڑی کی گئیں اور ایک سواری کا کجاوا کسا گیا اور وہ اس کے نیچے گزاری گئی مگر ہڈیوں کو بالکل نہیں چھوا۔
(صحیح البخاري: صفحہ، 625 جلد، 2)
(حدیث نمبر: 4360/4361)
واضح رہے کہ اس جنگِ سیف البحر میں کفار سے کسی قسم کے قتل و قتال کی نوبت نہیں آئی۔
(فتح الباري: صفحہ، 679 جلد، 7)
آپؓ تمام غزوات میں رسول اللہﷺ کے ساتھ شریک رہے اور ہر غزوہ میں پوری جنگی قوت کا مظاہرہ کیا۔(لإصابۃ: صفحہ، 243 جلد، 2)
امتِ محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلاۃ والسلام میں امین کے لقب سے ملقب:
نجران کا وفد پیغمبر اسلامﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا! اے اللہ کے رسول! ہمارے ساتھ ایک ایسا آدمی بھیجئے جو ہمیں قرآن و سنت کی تعلیم دے۔
(صحیح مسلم: صفحہ، 282 جلد، 2)
اور صحیح بخاری کی روایت میں یہ ہے کہ آپﷺ ہمارے ساتھ کوئی امانت دار شخص بھیجئے۔ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا میں تمہارے ساتھ ایک امانت دار آدمی ہی کو بھیجوں گا جو یقیناً کما حقہ امانت دار ہے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شدت سے منتظر تھے کہ کسے بھیجتے ہیں؟
(صحیح بخاري: صفحہ، 629 جلد، 2)
(حدیث نمبر، 4380/3745)
اس عظیم اور اعلیٰ صفت امین کا حامل کون ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ زندگی میں صرف ایک مرتبہ امیر و سردار بننے کی خواہش ہوئی، وہ یہی موقع تھا، وہ بھی امارت و سیادت کے شوق کی بناء پر نہیں، بلکہ اس وجہ سے کہ رسول اللہﷺ کے بیان فرمودہ اوصاف کا مصداق میں قرار پاؤں۔(مسندِ أبویعلیٰ بحوالہ فتح الباري: صفحہ، 11 جلد، 7)
لیکن نبی اکرمﷺ نے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا آپؓ کھڑے ہو جائیے اور ان کے ساتھ جائیے، جب جانے کے لیے تیار ہو گئے تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایالکل أمۃ أمینٌ وأمین ہذہ الأمۃابوعبیدہؓ بن الجراح
ترجمہ: ہر امت میں ایک امین ہوتے ہیں، اس امت کے امین سیدنا ابو عبیدہؓ بن جراح ہیں۔
(صحیح بخاري: صفحہ، 629 جلد، 2)
(حدیث نمبر، 4380/4382)
پیغمبر اسلامﷺ کی نظر میں:
عبداللہ بن شقیقؒ کا بیان ہے کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں رسول اللہﷺ کو سب سے زیادہ محبوب کون تھے؟ انہوں نے جواب دیا حضرت ابوبکرؓ، میں نے عرض کیا پھر کون؟ جواب دیا سیدنا عمرؓ، پھر کون؟ فرمایا حضرت ابو عبیدہؓ بن جراح، پھر کون؟ اس مرتبہ وہ خاموش ہو گئیں اورکچھ جواب نہ دیا۔
(جامع ترمذي: صفحہ، 216 جلد، 2 مناقبِ ابی عبیدہؓ)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا
نعم الرجل أبوبکرؓ
ترجمہ: بہترین آدمی سیدنا ابوبکرؓ ہیں،
نعم الرجل عمرؓ
ترجمہ: بہترین آدمی حضرت عمرؓ ہیں،
نعم الرجل ابوعبیدہؓ بن الجراح
ترجمہ: اور بہترین آدمی سیدنا ابوعبیدہؓ بن جراح ہیں۔
(جامع ترمذي: صفحہ، 217 جلد، 2 مناقبِ ابی عبیدہؓ)
نبی اکرمﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مخاطب کرکے فرمایا:
مامنکم من أحد إلاّ لوشئت لأخذتُ علیہ بعض خلقہ إلا أبا عبیدہؓ 
ترجمہ: سوائے سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے تم میں کوئی ایسا نہیں ہے کہ جسے بعض اخلاقی معاملہ میں آڑے ہاتھ نہ لے لوں۔
(المستدرک: صفحہ، 266 جلد، 3)
(الاستیعاب: صفحہ، 3 جلد، 2)
صفحہ 2 از 4