حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ بن جراح - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ بن جراح

  نقیہ کاظمی

صفحہ 3 از 4
علامہ ذہبی نے اس حدیث پاک کے ذیل میں لکھا ہے۔ کان ابوعبیدہؓ موصوفاً بحسن الخلق وبالحلم الزائد والتواضع
ترجمہ: کہ حضرت ابو عبیدہؓ تواضع، حلم و بردباری اور حسنِ اخلاق کے پیکر تھے۔
(سیرِ أعلام النبلاء: صفحہ، 13 جلد، 1)
نبی اکرمﷺ نے انہیں بھی عشرہ مبشرہ میں شمار کیا ہے۔
(جامع ترمذي: صفحہ، 215 جلد، 2)
سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ کی نظر میں:
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ سقیفہ بنو ساعدہ میں بیعتِ خلافت کے دن سیدنا ابوبکرؓ نے دل موہ لینے والی شستہ اور في البدیہہ تقریر کرتے ہوئے فرمایا انصاری بھائیو! تم نے جو اپنی فضیلت و بزرگی بیان کی وہ سب درست ہے اور تم بے شک اس کے مستحق اور اہل ہو، مگر خلافت قریش کے سوا اور کسی خاندان والوں کے لیے نہیں ہو سکتی، کیونکہ خاندانِ قریش نسب اور خاندان کے اعتبار سے عرب کی تمام قوموں پہ فائق ہے 
فبایعوا أیہما شئتم فأخذ بیدی وبید أبی عبیدہؓ بن الجرّاح وہو جالس بیننا
ترجمہ: لہٰذا اب تم لوگ ایسا کرو ان دو آدمیوں میں سے کسی سے بیعت کر لو، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ فرما کر میرا اور سیدنا ابوعبیدہؓ بن جراح (جو ہم لوگوں کے مابین تشریف فرما تھے) کا ہاتھ تھاما اور بیعتِ خلافت کے لیے آگے بڑھا دیا، کچھ دیر لوگوں میں چہ میگوئیاں ہوئیں اس کے بعد تمام لوگوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفۃ المسلمین نامزد کرنے اور ان سے بیعتِ خلافت لینے پر اتفاق کر لیا۔
(صحیح بخاري: صفحہ، 10010 جلد، 2)
حدیث نمبر، 683 کا مطالعہ کریں)
حضرت ابو عبیدہؓ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے دورِ خلافت میں ان کے معاون و خیرخواہ رہے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں بیت المال کا ذمہ دار اور خزانچی بنا دیا۔
(تاریخِ خلیفۃ: صفحہ، 123)
(سیر أعلام النبلاء: صفحہ، 15 جلد، 1)
پھر 13 ہجری میں ان کو شام کا گورنر بنا دیا، یہ شام ہی میں تھے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کا انتقال ہو گیا اور ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفۃ المسلمین بنے اور انہوں نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو لشکرِ اسلام کی امارت سے معزول کر کے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ بن جراح کو لشکرِ اسلام کی امارت و سیادت سونپی اور ان کو سپہ سالارِ اسلام منتخب کیا۔
(سیرِ أعلام النبلاء: صفحہ، 21 جلد، 1)
آپؓ نے لشکرِ اسلام کی قیادت کا فریضہ بحسنِ خوبی انجام دیا اور بڑی تیزی سے شہر در شہر فتح کرتے چلے گئے۔ بیت المقدس کو فتح کرنے کے موقع سے عیسائیوں کی شرط کے مطابق حضرت عمرؓ شام تشریف لائے تو سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ امیر المؤمنین کو دیکھ کر گھوڑے سے اتر گئے، حضرت عمرؓ بھی اتر پڑے، سیدنا ابو عبیدہؓ نے ان کے ہاتھ چومنے کا ارادہ کیا، تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان کے پاؤں چومنے کا قصد کیا، پھر حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹے تو سیدنا عمرؓ بھی پیچھے ہٹ گئے۔
(البدایۃ و النہایۃ: صفحہ، 55 جلد، 7)
اسی موقع سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو عبیدہؓ سے فرمایا آپؓ ہمیں اپنے گھر لے چلیں انہوں نے عرض کیا میرے گھر جا کر آپؓ کیا کریں گے؟ میرے گھر میں کیا رکھا ہے؟ اگر آپؓ جائیں گے تو روئے بغیر نہیں رہیں گے۔ اگر رونا ہی چاہتے ہیں تو تشریف لے چلیں۔ جب ان کے گھر تشریف لائے تو گھر کو خوب ٹٹولا، مگر کوئی سامان نہ پایا، تو حیرت اور تعجب سے پوچھا! آپؓ کے گھر کے ساز و سامان کہاں؟ صرف بچھانے کا ایک فرش، کھانے کی ایک بڑی سی تھالی اور پینے کا ایک مشکیزہ نظر آرہا ہے، جب کہ آپؓ امیر ہیں، کیا آپؓ کے پاس خوراک اور غلّہ نہیں ہے؟ 
حضرت ابو عبیدہؓ یہ سن کر کھڑے ہوئے اور امیر المؤمنین کے سامنے ایک برتن لا کر رکھ دیا جس میں کھجور کے کچھ ٹکڑے پڑے ہوئے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کی یہ حالت دیکھ کر بلک بلک کر رونے لگے۔ حضرت ابو عبیدہؓ نے فرمایا اے امیر المؤمنین! میں نے آپؓ سے پہلے کہہ دیا تھا کہ آپ میری حالت دیکھ کر آنسو بہائے بغیر نہیں رہیں گے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے سیدنا ابو عبیدہؓ! آپؓ کے علاؤہ ہم تمام لوگوں کو دنیا نے بدل ڈالا۔
(سیرِ اعلام النبلاء: صفحہ، 17 جلد، 1)
امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے واپسی پر مدینہ منورہ سے ان کے پاس اور سیدنا معاذ بن جبلؓ کے پاس چار ہزار درہم بھیجے اور قاصد سے یہ بتا دیا کہ ان دونوں پر گہری نظر رکھنا کہ یہ ان درہموں کو کہاں خرچ کرتے ہیں؟ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو جیسے ہی یہ رقم ملی اسی وقت سارے درہموں کو تقسیم کرا دیا اور حضرت معاذ بن جبلؓ نے بھی ایسا ہی کیا البتہ اہلیہ محترمہ کے مطالبہ پر کچھ دراہم انہیں دے دیئے، جب قاصد نے سارا ماجرا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے سنایا تو وہ بہت خوش ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی بہت زیادہ تعریف کرتے ہوئے اور شکر بجا لاتے ہوئے فرمایا 
الحمد للّٰہ الذي جعل في الإسلام من یصنع ہذا
(طبقات ابنِ سعد: صفحہ، 413 جلد، 3)
حضرت عمرؓ نے ایک مرتبہ اپنے ہم نشینوں سے فرمایا تم لوگ اپنی اپنی خواہش کا اظہار کرو، ہر ایک نے اپنی خواہش ظاہر کی۔ بعض نے یہ کہا کہ میرے پاس گھر بھر سونا ہوتا اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں لٹا کر اجرِ عظیم حاصل کرتا، بعض نے گھر بھر کر جوہر کی خواہش ظاہر کی اور بعض نے گھر بھر درہم کی خواہش ظاہر کی کہ اگر اتنے مال ہوتے تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں سب خرچ کر دیتا۔ آخر میں حضرت عمرؓ نے فرمایا میری خواہش اور میری آرزو یہ ہے کہ ایک میرا ایسا گھر ہو جس میں سیدنا ابوعبیدہؓ بن جراح جیسے صفات کے حامل لوگ جمع ہوں۔
(طبقات ابنِ سعد: صفحہ، 413 جلد، 3)
(المستدرک: صفحہ، 262 جلد، 3)
امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر سیدنا ابو عبیدہؓ کی زندگی میں میری موت ہو گئی تو مجھے کوئی پرواہ نہیں، میں انہیں خلیفہ نامزد کر جاؤں گا۔ اگر اللہ تعالیٰ مجھ سے ان کے خلیفہ بنانے کے متعلق سوال کریں گے تو میں یہ جواب دوں گا اے رب العالمین! میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر امت میں ایک امین ہوتا ہے، میری امت کے امین سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ہیں۔
(مسندِأحمد: صفحہ، 18 جلد، 1)
سببِ وفات:
صفحہ 3 از 4