حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ بن جراح - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ بن جراح

  نقیہ کاظمی

صفحہ 4 از 4
حضرت ابو عبیدہؓ کی قیادت میں لڑی جانے والی جنگوں کے نتیجے میں فتوحات کا سلسلہ بامِ عروج پر پہنچا ہوا تھا کہ عین اسی موقع پر 18 ہجری میں طاعونِ عمواس (طاعونِ عمواس یہ طاعون عمواس نامی بستی کی جانب منسوب ہے یہ بستی رملہ اور بیت المقدس کے درمیان واقع ہے
(سیرِ أعلام النبلاء: صفحہ، 23 جلد، 1) 
طاعون کی ایسی خطرناک وبا پھیلی کہ جس سے نسلِ انسانی کے کُشتوں کے پُشتے لگ گئے، 36 ہزار اسلامی فوج میں سے صرف چھ ہزار اس وباء سے بچ سکے اور 30 ہزار کی عظیم الشان فوج اور جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس وباء کی نذر ہو گئے۔
(سیرِ اعلام النبلاء: صفحہ، 19 جلد، 1)
حضرت عمر فاروقؓ کو اس مہلک وباء کا علم ہوا تو فوراً ایک قاصد کو خط دے کر حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی طرف روانہ کیا، جس میں یہ لکھا کہ مجھے آپؓ سے بہت ضروری کام ہے، آپؓ کے بغیر یہ کام نہیں ہو سکتا ہے لہٰذا خط ملتے ہی مدینہ منورہ کے لیے روانہ ہو جائیں۔ جب سیدنا ابو عبیدہؓ نے حضرت عمرؓ کا والا نامہ پڑھا تو فرمایا میں امیر المؤمنین کی ضرورت خوب سمجھ رہا ہوں کہ انہیں مجھ سے کیا ضروری کام ہے؟ درحقیقت وہ ایک ایسے شخص کو موت کے پنجہ سے بچانا چاہتے ہیں جو اس دنیا میں ہمیشہ و ہمیشہ باقی رہنے والا نہیں ہے، یہ جملہ کہتے ہوئے امیر المؤمنین کے نام جوابی خط لکھا! حضرت! مجھ سے آپؓ کی کیا ضرورت وابستہ ہے اس کا مجھے خوب علم ہے۔ براہِ کرم آپؓ مجھے ان مجاہدینِ اسلام کے ساتھی ہی رہنے کی اجازت مرحمت فرمائیں! کیونکہ آج میں لشکرِ اسلام کا ایک فرد ہوں اور اس نازک حالت میں اس لشکر کو نہیں چھوڑ سکتا ہوں اور نہ ان سے کسی قسم کی جدائیگی برداشت کر سکتا ہوں.
جب یہ خط حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پڑھا تو انہیں ایک دھچکا سا لگا اور زار و قطار رونے لگے ان کی یہ حالت دیکھ کر کچھ لوگوں نے دریافت کیا کہ کیا حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا؟
حضرت عمرؓ نے جواب میں فرمایا لا، وکأن قد نہیں! لیکن بس ۔۔۔۔۔
حضرت ابو عبیدہؓ بھی اس مہلک وباء سے نہ بچ سکے، آپؓ کی ہتھیلی میں طاعون کا اثر ظاہر ہوا۔ اسے دیکھ کر آپؓ نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے قاصد سیدنا حارث بن عمیرۃؓ سے فرمایا خدا کی قسم! اگر اس بیماری کے بدلہ سرخ اونٹ (یہ عربوں میں سب سے زیادہ قیمتی مال شمار ہوتا ہے) بھی مجھے مل جاتا تو میں اسے پسند نہیں کرتا۔
(المستدرک: صفحہ، 263 جلد، 3 رواتہ کلہم ثقات علی شرط البخاري ومسلم)
اسی حالت میں جابیہ بیت المقدس نماز پڑھنے کے لیے تشریف لے گئے، اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشیں اور لوگوں کا امیر بنایا اور اسی وقت بیسان کے قریب مقام فَحل 18 ہجری طاعونِ عمواس میں اپنی جان جانِ آفریں کے حوالہ کر دی۔
(سیرِ اعلام النبلاء: صفحہ، 21 جلد، 1)
(الإصابۃ: صفحہ، 245 جلد، 2)
حضرت معاذ بن جبلؓ (سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ انصاری امام العلماء) صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں حلال و حرام کے سب سے بڑے عالم، قاری قرآن اور جامعِ قرآن، رسول اللہﷺ کی حیاتِ طیبہ میں مکہ مکرمۃ کے معلمِ قرآن اور فقیہ، قاضیِ یمن اور نبی اکرمﷺ کے محبوبِ نظر تھے۔ یہ بہت ہی حسین و جمیل تھے، ان جیسا خوبصورت شخص کبھی کسی عورت نے جنا ہی نہیں۔
(سیرِ اعلام النبلاء: صفحہ، 445 جلد، 1)
یہ 18 سال کی عمر میں عقبہ میں شریک ہو کر مشرف بہ اسلام ہوئے۔ انہوں نے بہت سے عظیم الشان کارنامے انجام دیئے ہیں، اس کے لیے
(سیرِ اعلان النبلاء: صفحہ، 443/461 جلد، 1)
کا مطالعہ کریں۔ یہ بھی اسی طاعونِ عمواس میں 34 سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ کے پیارے ہو گئے۔
(الإصابۃ: صفحہ، 407 جلد، 3)
 آپؓ کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور لوگوں میں تعزیتی تقریر کرتے ہوئے فرمایا
انکم فجعتم برجل، مازعم واللّٰہ إني رأیت من عباداللّٰہ قط أقل حقداً، ولا أبر صدراً، ولا أبعد غائلۃ، ولا أشد حیاء للعاقبۃ ولاأنصح للعامۃ منہ فترحموا علیہ۔
ترجمہ: لوگو! آج تم ایک ایسی ہستی کے غم میں مبتلا ہو کہ خدا کی قسم! میں اللہ کے بندوں میں ان سے بڑھ کر بغض و حسد سے پاک سینہ، نیک دل، بغض و عداوت سے کوسوں دور، آخرت سے زیادہ شرم کرنے والا اور عوام الناس کے ساتھ نصیحت و خیر خواہی کا معاملہ کرنے والا کسی اور کو نہ پایا۔ تم لوگ اللہ تعالیٰ سے ان پر رحمت برسانے کی دعا کرو۔
(الإصابۃ: صفحہ، 245 جلد، 2)
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرمایا کرتے تھے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں میرے تین حقیقی دوست تھے
1: حضرت ابوبکرؓ
2: حضرت عمرؓ
3: حضرت ابوعبیدہؓ بن جراح
(سیرِ اعلام النبلاء: صفحہ، 14 جلد، 1)
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں تین عظیم ترین شخصیات:
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ قریش کی تین شخصیات ایسی ہیں جن کے چہرے تمام لوگوں سے بڑھ کر زیادہ حسین، جن کا اخلاق سب سے عمدہ اور جن میں سب زیادہ حیاء پائی جاتی ہے وہ تین عظیم شخصیات یہ ہیں! سیدنا ابوبکرؓ، سیدنا عثمان بن عفانؓ اور سیدنا ابو عبیدہؓ بن جراح۔
(الاِصابہ: صفحہ، 244 جلد، 2)

صفحہ 4 از 4