سبعہ احرف کے عقیدے کی کھل کر تائید(تفسیر صافی ۔ملا فیض کاشانی)
جعفر صادقسبعہ احرف کے عقیدے کی کھل کر تائید(تفسیر صافی ۔ملا فیض کاشانی)
آٹھواں مقدمہ
اقسام آیات اور ان کا مشتمل ہونا بطون و تاویلات پر اور انواع لغات اور اختلافات قرأت اور ان میں کون سی قرآت معتبر ہے۔طرق عامہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت مشہور ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:
نزل القرآن على سبعة أحرف كلها كاف شاف
قرآن کریم سات حرفوں پر نازل ہوا ہے جن میں سے ہر ایک کافی اور شافی ہے۔( کنز العمال ، جلد 2،صفحہ50)
اور ان میں سے کچھ نے اس حدیث کے متواتر ہونے کا دعویٰ کیا ہے مگر یہ کہ اس حدیث کے مفہوم میں اختلاف کیا ہے جو تقریباً چالیس اقوال ہیں اور عامہ نے نبی اکرمﷺ سے یہ بھی روایت کی ہے:
نزل القرآن على سبعة أحرف أمر و زجر و ترغیب و ترهیب و جدل و قصص و مثل
قرآن سات حروف پر نازل ہوا حکم ، نہی رغبت دلانا ،خوف دلانا ،مناظرہ ، قصے اور مثالیں ۔(التبیان، جلد1، صفحہ7 و کنز العمال، جلد 2، صفحہ 55)
اور دوسری روایت میں ہے:
زجر و امر و حلال و حرام و محکم و متشابه و امثال
نہی ، امر ، حلال و حرام ، محکم و متشابہ اور امثال –
(التبیان، جلد ا1، صفحہ7۔ تفسیر طبری، 1، صفحہ 23)
ان دونوں روایتوں سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ سات حرفوں سے ان کی اقسام اور انواع کی جانب اشارہ ہے۔
اور اس کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جسے ہمارے اصحاب نے امیر المؤمنین سے روایت کی ہے انہوں نے فرمایا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے مجید کو سات اقسام پر نازل کیا ہے ان میں سے ہر قسم کافی و شافی ہے اور وہ امر و نہی ،ترغیب و ترہیب ،مناظرہ ،مثالیں اور قصے ہیں۔
(بحارالانوار جلد 93، صفحہ 4)
عامہ نے بھی نبی اکرمﷺ سے روایت کی ہے۔
ان القرآن انزل على سبعة احرف لكل آية منها ظهر و بطن و لكل حرف حد و مطلع
یہ کہ قرآن سات حرفوں پر نازل ہوا، ان میں سے ہر آیت کے لیے ظاہر اور باطن ہے اور ہر حرف کے لیے حد اور مطلع ہے۔(کنز العمال، جلد 2، صفحہ53)
اور دوسری روایت میں ہے کہ
قرآن کے لیے ظاہر اور باطن ہے اور اس میں سے ہر باطن کے لیے باطن ہے یہاں تک کہ سات باطن ہیں ۔(عوالی اللا لی، جلد4،صفحہ107 )
اور طریق خاصہ سے
خصال میں اپنی سند سے حماد سے روایت کی ہے انھوں نے کہا کہ میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کی کہ آپ سے ہم تک مختلف حدیثیں پہنچی ہیں تو امام علیہ السلام نے فرمایا کہ قرآن سات حرفوں پر نازل ہوا ہے اور امام کے لیے سب سے ادنی شے یہ ہے کہ وہ سات اسباب کے اعتبار سے فتویٰ دے پھر فرمایا :
هذا عطاؤنا فامنن اوامسك بغير حساب
یہ ہماری عطا ہے احسان قبول کر لو یا چھوڑ دو بغیر حساب۔(الخصال،صفحہ358)
یہ بطون اور تاویلات کے بارے میں نص ہے اور حدیث کے بعض الفاظ میں یہ ملتا ہے کہ :
ان هذا القرآن انزل على سبعة احرف فاقرء وا ما تيسر منه
یہ قرآن سات حرفوں پر نازل کیا گیا ہے پس اس میں سے جتنی آسانی ہو اس کے مطابق اس کی تلاوت کرو۔
(کنز العمال، جلد2،صفحہ49 )
اور بعض روایات میں ہے کہ نبی اکرمﷺ نے جبرائیل سے کہا کہ مجھے ایسی امت کی طرف مبعوث کیا گیا جو امی ہے ان میں بہت زیادہ بوڑھے اور ازحد رفتہ مرد اور عورتیں ہیں اور نو آموز لڑکے ہیں تو جبرائیل نے کہا آپ انھیں حکم دیجیے کہ وہ قرآن کو سات حرفوں کے مطابق پڑھیں ۔(تفسیر طبری، جلد1،صفحہ12 )
اور طریق خاصہ سے خصال میں اپنی سند سے عیسی بن عبداللہ الہاشمی سے مروی ہے وہ اپنے والد اور آباؤاجداد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کی میرے پاس اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک پیغام لانے والا آیا اور اس نے کہا کہ اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ قرآن کی تلاوت ایک حرف کے مطابق کرو تو میں نے کہا کہ اے پروردگار میری امت کے لیے وسعت پیدا کر دے تو فرمایا اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ سات حرفوں کے مطابق پڑھ سکتے ہیں ۔
(الخصال، جلد2،صفحہ358)
ان روایتوں سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ سات حرفوں سے مراد لغات کا اختلاف ہے جیسا کہ ابنِ اثیر نے نہایہ میں کہا ہے ان کا قول ہے کہ حدیث میں آیا ہے کہ قرآن سات حرفوں پر نازل ہوا وہ سب کے سب شافی اور کافی ہیں ۔اس حدیث میں حرف سے مراد لغت ہے یعنی لغات عرب میں سے سات لغتوں کے مطابق یعنی یہ کہ یہ سب قرآن میں متفرق اور مختلف مقامات پر ہیں کچھ قریش کی لغت کے مطابق تو کچھ ھذ یل کی لغت کے مطابق اور کچھ ھوازن کی لغت کے مطابق اور کچھ یمن کی لغت کے مطابق ہے، فرمایا اور اس بات کی وضاحت ابنِ مسعود کے قول سے ہوتی ہے انھوں نے فرمایا میں نے قاریوں کو سنا ہے تو انھیں ایک دوسرے سے قریب تر پڑھتے ہوئے پایا ہے۔
لیکن تم اس طرح پڑھو جیسا تم نے سیکھا ہے اس کی مثال یہ ہے جیسے تم میں سے کسی کا قول ہو ھلم ، تعال اور اقبل ان تینوں کا مفہوم ایک ہے۔(النھایۃ لابن اثیر، جلد1، صفحہ369)
اور مجمع البیان میں طبرسی نے فرمایا کہ
ایک گروہ کا کہنا ہے کہ احرف سے مراد لغات ہیں حلال وحرام کے بارے جو حکم کو تبدیل نہیں کرتی جیسے ھلم اور اقبل اور تعال اسلام کے ابتدائی دور میں انہیں اختیار دے دیا گیا تھا کہ جس طرح چاہیں قرآن پڑھیں اس کے بعد ایک قرأت پر اجماع ہو گیا اور ان کا اجماع حجت ہے ان کا اجماع اس امر کے لئے مانع ہو گیا جس سے انھوں نے اعراض کیا تھا۔
( مجمع البیان ، جلد1۔2،صفحہ12)
میں (فیض کاشانی ) کہتا ہوں ان تمام روایات میں توفیق یہ ہے کہ کہا جا تا ہے کہ قرآن کی آیتوں کی سات قسمیں ہیں اور ہر آیت کے سات باطن ہیں اور ہر آیت سات لغات پر نازل ہوئی ہے۔اب رہا حدیث کو اس پر محمول کرنا کہ اس سے قرآت کے سات وجوہ مراد ہیں پھر وجوہ قرأت کو اس عدد کے مطابق تقسیم کرنے کا تکلف کرنا جیسا کہ مجمع البیان نے کچھ لوگوں سے نقل کیا ہے تو اس کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی اس لیے کہ یہ بات اس حدیث کی تکذیب کرتی ہے جسے کافی نے اپنی سند سے زرارہ سے اور انھوں نے امام باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے امام علیہ اسلام نے فرمایا:
ان القرآن واحد نزل من عند واحد و لكن الاختلاف يجيء من قبل الرواة
قرآن واحد ہے واحد کے پاس سے نازل ہوا ہے اختلاف راویوں کی جانب سے آیا ہے۔
( الکافی ، جلد 2،صفحہ230، ح 12)
اور اپنی سند سے فضیل بن پیار سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے امام صادق علیہ السلام سے دریافت کیا کہ لوگ کہتے ہیں :
ان القرآن نزل على سبعة أحرف
کہ قرآن سات حرفوں پر نازل ہوا ہے ۔
امام علیہ السلام نے فرمایا :
كذبوا أعداء الله ولكنه نزل على حرف واحد من عند الواحد
اللہ کے دشمنوں نے جھوٹ کہا قرآن تو ایک حرف پر واحد کے پاس سے نازل ہوا ہے۔
(الکافی ، جلد2 ،صحفہ230 ، ح 13)
اس حدیث کا مفہوم بھی سابقہ حدیث جیسا ہے اور ان دونوں احادیث کا مقصود ایک ہے اور وہ یہ کہ صحیح قرأت صرف ایک ہے لیکن جب امام علیہ السلام کو یہ پتا چلا کہ انھوں نے جس حدیث کی روایت کی ہے اس سے یہ سمجھا جا رہا ہے کہ تمام قرائتیں باوجود اختلاف کے درست ہیں تو امام علیہ السلام نے ان کی تکذیب کی ہے اور اس بنیاد پر دونوں روایتوں میں کوئی منافات نہیں ہے۔
کافی میں کلینی نے اپنی سند سے عبداللہ بن فرقد سے اور معلی بن جینس سے روایت کی ہے وہ دونوں کہتے ہیں کہ ہم امام صادق علیہ السلام کے پاس موجود تھے اور ہمارے ساتھ ربیعہ الرائی بھی تھا ہم نے فضیات قرآن کا ذکر کیا تو امام علیہ السلام نے فرمایا اگر ابن مسعود ہماری قرأت کے مطابق نہیں پڑھتا تو وہ گمراہ ہے۔ ربیعہ نے کہا گمراہ؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا کہ ہاں گمراہ اس کے بعد امام علیہ السلام نے فرمایا کہ ہم ابی بن کعب کی قرأت کے مطابق پڑھتے ہیں۔
(الکافی، جلد 2، صحفہ 234 ، 27)
اس حدیث سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ ابی بن کعب کی قرات صحیح ہے اور یہ قرات آئمہ کرام علیہم السلام کی قرات کے مطابق ہے۔ یا یہ کہ ابی بن کعب کی قرآت دوسرے اصحاب کے مقابل میں ائمہ کی قرآت سے زیادہ موافقت رکھتی ہے۔
پھر بظاہر وہ اختلاف معتبر ہوتا ہے جو لفظ سے معنی تک سرایت کرتا ہے جیسے مالک اور ملک کا اختلاف جو لفظ سے تجاوز نہیں کرتا یا اگر تجاوز کرتا تو معنی مقصود میں خلل واقع نہیں ہوتا خواہ باعتبار لغت ہو جیسے کفوا یا کفوا یا باعتبار صرف ہو جیسے برتن اور پرتید یا باعتبار نحو ہو جیسے
لا يقبل منها شفاعة یالا تقبل منها شفاعة
يا وه لفظ جو معنی تک سرایت کرتا ہے مگر مقصود میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا جیسے ریح اور ریاح جنس اور جمع کے لئے اور اسی جیسی باتوں کے لئے قرآت مشورہ میں وسعت دی گئی ہے
اور اسی پر محمول کیا جائے گا جو آئمہ علیہم السلام سے کلمہ واحدہ میں اختلاف قرأت کے بارے میں وارد ہوا ہے اور یہ بھی وارد ہوا ہے کہ انھوں نے دونوں قرأتوں کو درست قرار دیا ہے۔ جب اس کا موقع آئے گا تو ہم اسے بیان کریں گے۔ یا اسے اس بات پر محمول کیا جاسکتا ہے کہ ائمہ کے لیے ممکن نہ تھا کہ لوگوں کو ایک قرأت صحیحہ پر باقی رکھیں انھوں نے دوسری قرآت کی بھی اجازت مرحمت فرما دی جیسا کہ ان کے فرمان سے اس جانب اشارہ ملتا ہے:
اقرأ وا كما تعلمتم فسيجيئكم من يعلمكم
تم نے جس طرح سیکھا ہے اسی طرح قرآن کی تلاوت کرو عنقریب وہ آئے گا جو تمھیں سکھائے گا۔ جس طرح انھوں نے اجازت مرحمت فرمائی کہ لوگوں کے پاس جو قرآن موجود ہے اس کی تلاوت کریں نہ اس کی جو آئمہ کے پاس محفوظ ہے۔
اور فقہاء کے درمیان یہ بات مشہور ہے کہ قرآت سبعہ یا قرات عشرہ سے جو مشہور ہیں ان سے باہر نہیں جانا چاہیے اس لیے کہ یہ متواتر ہیں اور ان کے علاوہ جو قرأتیں ہیں وہ شاذ ہیں۔
صحیح بات یہ ہے کہ آج قرآن میں جو متواتر ہے وہ تمام قرأت میں قدر مشترک ہے الا یہ کہ مخصوص طور سے کوئی اکا دکا ہوں اس لیے کہ سوائے اس کے کوئی علیحدہ نہیں ہے متواتر اپنے غیر سے مشتبہ نہیں ہوسکتا اور ہم اکتفا کرتے ہیں بعض مشہور قرآت کے ذکر پر اور ہم شواذ کے ذکر کو بھی شامل کر یں گے مگر شاذ و نادر یا ان میں سے جس کی نسبت ہمارے آئمہ علیہم السلام سے ہو اور ہم اسے اصل قرار دیں گے جسے اکثریت تلاوت کرتی ہے اور وہ اکثر لوگوں کی قرآت ہے ان شاء اللہ ہم ان سب کا ذکر کریں گے۔
اور جو کچھ انھوں نے مدون کیا ہے علم قرأت اور تجوید کے قواعد اور اصطلاحات تو ان میں سے جس کا دخل ہے حروف کو واضح کرنے اور بعض کو بعض سے ممیز کرنے کے لیے تا کہ اشتباہ نہ ہو یا وقف کی حفاظت کی تاکہ جو معنی مقصود ہیں ان میں اختلال واقع نہ ہو یا اعراب کی درستی اور اس کی خوبی کے لیے تا کہ عبارت میں لغزش نہ ہو یا ناشائستگی پیدا نہ ہو یا آواز کو خوبصورت بنانے اور اس میں لحن پیدا کرنے کے لیے تا کہ وہ عرب لہجے اور خوبصورت آوازوں سے ملحق ہو جائے اور اس مقصد کے لیے واضح سبب موجود ہے۔
معصومین سے اس بارے میں روایات وارد ہوتی ہیں ان روایات کا خیال رکھنا ضروری ہے جن میں طبعی اعتبار سے باہمی اتفاق ہے ان سے قطع نظر کرتے ہوۓ جن میں باہمی اختلاف پایا جا تا ہے۔