Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

امتِ مسلمہ شرک میں مبتلا نہیں ہو سکتی۔

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

عقیدہ شیعانِ علی! 

امتِ مسلمہ شرک میں مبتلا نہیں ہو سکتی

شیعہ کہتے ہیں کہ اس عقیدے کی تائید میں حضورﷺ کی یہ حدیث نقل کی جاتی ہے جِس میں آپﷺ نے صحابہ کرامؓ کو مخاطب کر کے فرمایا تھا کہ،

مفہومِ حدیث:- "مُجھے اس بات کا ڈر نہیں کہ میرے بعد تُم شرک میں مبتلا ہو جاؤ گے۔ بلکہ مُجھے ڈر اس بات کا ہے کہ تُم دُنیا کے پیچھے لگ جاؤ گے۔" (الحدیث) 

جوابِ اہلسنت

اس حدیث میں امت مسلمہ کی بات کی گئی ہے، اہل تشیع تو اپنے کئی کفریہ عقائد کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج ہوچکے ہیں۔

لٰہذا اس حدیث کو اپنے لیے حجت بنا کر اماموں کو خُدا کا درجہ دینا اور اُن کے مزارات کے سجدے کرنا، نماز میں اُن کی طرف رُخ کرنا، اُن پر سلام بھیجنا، ہر طرح کے امور اُن سے ہونے کا عقیدہ رکھنا، اُن کے ہاں نہ صرف روا ہے بلکہ کارِ ثواب اور اعلٰی درجے کا مومن بننے کا ذریعہ ہے۔ چنانچہ دیکھتے ہیں کہ حضرت علیؓ اس سلسلہ میں کیا فرماتے ہیں: 

 "میری وصیت یہ ہے کہ اللّٰه کا کوئی شریک نہ ٹھہراؤ اور محمدﷺ کی سنت کو ضائع و برباد نہ کرو۔"

(نہج البلاغہ، ص:402)

اپنے انتقال سے کچھ پہلے بطور وصیت فرمایا:

"میری وصیت ہے کہ کِسی کو اللّٰه کا شریک نہ بنانا اور محمدﷺ کی وصیت کو برباد نہ کرنا..... الخ" (نہج البلاغہ 681)

حضرت علیؓ کے ان دونوں خطبوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضورﷺ کی حدیث میں مخاطب صرف اپنے اصحاب تھے۔ بعد کے لوگ نہیں اسی لیے حضرت علیؓ نے مسلمانوں کو شرک سے بچنے کی تاکید فرمائی۔ لیکن اہلِ تشیع کا تو طریقہ واردات ہی یہی ہے کہ جو قرآن حکم دے، جو رسول اللہﷺ فرمائیں اور جو کچھ صحابہ کرام یا حضرت علیؓ فرمائیں اُسی کے خلاف عمل کرنا ہے اور ان کے احکامات اور ارشادات کو استہزاء کا نشانہ بنانا فرائضِ "مؤمنین" میں شمار ہوتا ہے۔

 خلاصہ 

حضرت علیؓ نے اپنے خطبات میں اپنے اصحاب کو شرک سے بچنے کی باربار تلقین فرماکر یہ ثابت کر دیا کہ امت مسلمہ کہلانے والے لوگ بھی شرک میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ جیسا کہ اہل تشیع ۔