شیعہ مرتدین ہیں، ان پر مرتدین کے احکام لاگو ہوتے ہیں ان کے ساتھ نکاح جائز نہیں:
اہلِ تشیع کا عقیدہ ہے کہ اہلِ سنت والجماعت دائرہ اسلام سے خارج (یعنی کافر) ہیں اور یہود و نصاریٰ سے بھی بہت بدتر ہیں لہٰذا انہیں رشتہ دینا یا ان کا رشتہ لینا قطعاً حرام ہے اس کے علاوہ نہ اہلِ سنت کا ذبیحہ کھایا جائے اور نہ ہی ان کے ساتھ مشترکہ یا ہمسائیگی کے طور پر رہائش رکھی جائے اس عقیدہ کے ثبوت میں شیعہ کی کتاب سے حوالہ ملاحظہ ہوں:
الاستبصار: جلد 3 صفحہ 184 پر ہے کہ فضیل بن یسار نے کہا کہ میں نے ابو جعفر سے پوچھا: کیا کسی جانی پہچانی شیعہ عورت کا نکاح کسی ناصبی (سنی) سے کر دوں؟ فرمایا: نہیں، کیونکہ ناصبی (سنی) کافر ہیں پھر میں نے پوچھا: کیا کسی عورت کا نکاح غیرِ ناصبی (غیرِ سنی یا انجان) سے کر دوں؟ فرمایا: ناصبی (سنی) کے علاوہ ہر آدمی مجھے اُس سے بہتر نظر آتا ہے لہٰذا اس سے بیاہ میں کوئی حرج نہیں۔
اہل تشیع کے نزدیک اہل سنت یہودیوں اور عیسائیوں سے بھی بدتر ہیں:
فروعِ کافی: جلد 5 صفحہ 351 پر ہے کہ: یہودی اور عیسائی عورتوں سے شادی کرنا میرے نزدیک ناصبیہ (سنیہ) سے شادی کرنے کی نسبت بہت بہتر ہے کسی سنی مرد یا عورت سے شادی کرنے سے یہودی اور نصرانی سے شادی کرنا اچھا ہے۔
اہل تشیع کے نزدیک سنی، حرام زادے سے بھی برے ہیں:
جامع الاخبار: صفحہ 185 پر ہے کہ: حضرت نوح علیہ السلام نے کشتی میں کتا اور خنزیر تو سوار کر لیا، لیکن حرامی کو اوپر نہ چڑھایا سنی تو حرام زادے سے بھی زیادہ بُرا ہے۔
اہل تشیع کے نزدیک سنی کتے سے بھی بدتر ہیں:* اللمعۃ الدمشقیۃ: جلد 5 صفحہ 36 پر ہے کہ تمہیں حمام کے غسالہ سے غسل کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے کیونکہ اس میں یہودی، عیسائی، مجوسی کا غسالہ ہوتا ہے اور اس میں سنی کا بھی غسالہ ہوتا ہے جو ان تمام سے زیادہ شریر ہے اللہ تعالیٰ نے کتے سے بڑھ کر کوئی مخلوق ناپاک و نجس پیدا نہیں کی لیکن سنی اس سے بھی بڑھ کر نجس ہے۔
اہل تشیع اہل سنت کے قتل کو جائز اور ان کے اموال لوٹنے کو روا سمجھتے ہیں:
اہلِ تشیع اس امر کی قدرت پائیں کہ وہ سنیوں کا خون بہا سکیں تو انہیں دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ سنیوں کا مال لوٹنا، ان پر دیوار گرا کر مار دینا اور انہیں پانی میں ڈبو دینا سب کچھ روا سمجھتے ہیں۔
لمحہ فکریہ! اہلِ تشیع کے مسلک و عقیدہ کو آپ نے جانا اہلِ سنت کے متعلق اُن کا یہ نظریہ ہے کہ کتا و خنزیر اور حرام زادہ ان سے بہت بہتر ہے قدرت پانے پر سنیوں کو ہر طرح سے اذیت دینا جائز ہے سنیوں کو رشتہ دینے اور ان سے رشتہ لینے سے یہودی اور عیسائی بہت اچھے ہیں ان عقائد کے ہوتے ہوئے کسی سنی پر یہ بات مخفی نہیں رہنی چاہیے کہ اہلِ تشیع کو اپنی مستورات کے رشتے دینے کی کوئی گنجائش باقی نہیں کیونکہ ان کے عقیدہ کے مطابق اور ہم اہلِ سنت کے عقیدہ کے مطابق یہ نکاح نہیں ہوا۔اس لیے اس قسم کے نکاح کو حرام ہی کہا جائے گا اور اگر ذرا نرم لہجے میں کہیں تو یہ "نکاحِ متعہ" ہو گا۔
اہل سنت کو شیعوں سے رشتہ کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے:
اہلِ سنت کو غیرت و حمیت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ جب شیعہ ہمیں کفار سے بھی بدتر سمجھیں، اور نجس العین خنزیر کو ہم سے اچھا کہیں تو پھر اس کے بعد باہم مناکحت کا کیا مطلب ہو سکتا ہے؟ اسی پر بس نہیں، بلکہ شیعہ لوگ حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تک کو (معاذاللہ) دائرہ اسلام سے خارج گردانتے ہیں، خصوصاً خلفاءِ ثلاثہؓ پر ہر نماز کے بعد لعن طعن کرنا عقیدہ رکھیں تو ان حالات میں کس سنی کی غیرت یہ اجازت دیتی ہے کہ ان کافروں سے رشتہ کے معاملہ میں لین دین کرے؟
حضراتِ خلفاءِ ثلاثہؓ کی ذات پر نماز کے بعد تبرا بازی کی تفصیلی بحث ہم نے پیچھے صفحات میں لکھی ہے، لیکن سرِ دست یہاں پر شیعہ کی کتاب کا ایک حوالہ ملاحظہ فرمائیں:
فروع کافی: جلد 3 صفحہ 343 پر ہے کہ حسین بن ثویر اور ابو سلمہ سراج دونوں کہتے ہیں کہ سیدنا جعفر صادقؒ ہر فرض نماز کے بعد چار مردوں اور چار عورتوں پر لعنت بھیجا کرتے تھے چار مرد یہ تھے: سیدنا صدیقِ اکبرؓ، سیدنا فاروقِ اعظمؓ، سیدنا عثمانِ غنیؓ، سیدنا امیرِ معاویہؓ، اور چار عورتیں یہ تھیں: سیدہ عائشہ صدیقہؓ، سیدہ حفصہؓ، سیدہ ہندہؓ اور سیدنا امیرِ معاویہ کی ہمشیرہ سیدہ امِ الحکمؓ۔ (معاذاللہ ثم معاذاللہ)
ان نظریات پر مطلع ہونے کے بعد بھی اگر کوئی سنی اہلِ تشیع سے رشتہ کا لین دین کرتا ہے تو اس سے یہی نتیجہ نکلے گا کہ ایسے شخص کو حضراتِ خلفاءِ ثلاثہؓ سے کوئی دینی و روحانی رشتہ نہیں، بلکہ اُسے اہلِ سنت کہلانے کا قطعاً کوئی حق نہیں پہنچتا لہٰذا اے اہلِ سنت! خبردار! خبردار! خبردار!
شیعہ مرتدین ہیں، ان پر مرتدین کے احکام لاگو ہوتے ہیں:
در مختار و رد المختار: جلد 4 صفحہ 237 پر ہے کہ سیدنا صدیقِ اکبرؓ اور سیدنا فاروقِ اعظمؓ میں سے کسی ایک کو یا دونوں کو گالی دینے والا اور ان پر لعن طعن کرنے والا کافر ہے، اس کی توبہ قبول نہیں ہوتی علامہ دبوسیؒ اور ابو اللیثؒ کا یہی فتویٰ ہے، اور قولِ مختار بھی یہی اور خلاصۃ الفتاویٰ میں ہے کہ رافضی (شیعہ) جب سیدنا صدیقِ اکبرؓ اور سیدنا فاروقِ اعظمؓ کو گالی گلوچ دے یا لعن طعن کرے، وہ کافر ہے۔
فتاویٰ عالمگیریہ: جلد 2 صفحہ 292 پر ہے کہ: جو رافضی (شیعہ) سیدنا صدیقِ اکبرؓ اور سیدنا فاروقِ اعظمؓ کو گالی بکے، وہ کافر ہے، جس نے سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی امامت و خلافت کے برحق ہونے کا انکار کیا، وہ بھی کافر ہے بعض نے کہا کہ ایسا شخص بدعتی ہے، کافر نہیں، لیکن صحیح یہی ہے کہ وہ بدعتی نہیں بلکہ کافر ہے یہ لوگ ملتِ اسلامیہ سے خارج ہیں اور ان کے احکام وہی ہیں جو مرتدین کے ہیں ظہیریہ میں یہی مذکور ہے۔
خلاصہ کلام:
حنفی فقہ کی دو مستند کتبِ فتاویٰ کی عبارات سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ہم کسی رافضی (شیعہ) کو محض ذاتی عناد کی وجہ سے بُرا بھلا نہیں کہتے بلکہ اس کی اصل وجہ حضراتِ شیخینؓ کی توہین اور ان کی ذاتِ اقدسہ پر ناجائز حرف زنی ہے اس حقیقت کے پیشِ نظر وہ دائرہ اسلام سے خارج ہونے کی بناء پر مرتد ٹھہرے۔
اور انہی کتب میں یہ بھی تصریح موجود ہے کہ کسی مسلمان مرد عورت کا نکاح کسی بھی مرتد یا مرتدہ سے ہرگز ہرگز جائز نہیں تصریح ملاحظہ فرمائیں:
فتاویٰ عالمگیریہ: جلد 2 صفحہ 383 پر ہے کہ: مرتدین کے ان احکامات میں کہ جن بطلان پر تمام علماء کا اتفاق ہے ایک یہ ہے کہ ان سے نکاح کا لین دین بالکل باطل ہے لہٰذا کسی مرتد کو اس بات کی قطعاً اجازت نہیں کہ وہ کسی مسلمان عورت، مرتدہ، ذمیہ، آزاد اور باندی سے نکاح کرے، اس کا ذبح کیا ہوا جانور حرام ہے، اور شکاری کتے، باز اور اس کا شکار کیا ہوا بھی قطعاً حرام ہے۔
قارئینِ کرام!
فتاویٰ عالمگیری اور دیگر کتبِ فتویٰ سے واضح ہو گیا کہ شیخینؓ پر لعن طعن کی وجہ سے شیعہ اسلام سے خارج اور مرتدین کے حکم میں ہیں، اور ہر مرتد کے متعلق امت کا متفقہ فیصلہ ہے کہ ان کو نکاح دینا یا ان سے رشتہ لینا دونوں حرام ہے۔
اے نام نہاد سنیو!
ان تصریحات کے بعد تمہاری آنکھیں کھل جانی چاہئیں، اور تمہیں غیرتِ ایمان کا مظاہرہ کرتے ہوئے سابقہ وطیرہ سے توبہ کرنی چاہیے، اور آئندہ کے لیے گستاخانِ شیخینؓ سے کسی قسم کی مناکحت روا رکھنے سے اجتناب برتنا چاہیے، ورنہ اپنے آپ کو اہلِ سنت شمار نہ کرو آخر اللہ تعالیٰ کے ہاں جانا ہے، اس کے محبوبﷺ کی شفاعت چاہیے ہے تو شیخینؓ کے بکواسی کے ساتھ رشتہ گانٹھنے والا اللہ تعالیٰ کے محبوبﷺ کے سامنے کس منہ سے جائے گا، اور کس سے شفاعت کی التجاء کرے گا؟
(فقہِ جعفریہ: جلد 2 صفحہ 34، 52)
شیعہ لوگوں کے ساتھ نہ رشتہ ناطہ کریں، نہ کرائیں:
قرآنِ کریم وہ عظیم کتاب ہے جس کی حفاظت اللہ تعالیٰ نے خود اپنے اوپر لی ہے لیکن اس کے برعکس اہلِ تشیع کا اجماعی عقیدہ ہے کہ موجودہ قرآنِ کریم نامکمل اور محرّف ہے، اور اس سلسلہ کی تائید میں ان کے ہاں اس قدر روایات پائی جاتی ہیں جو ان کے بقول حدِ تواتر سے بھی بڑھ جاتی ہیں۔ ان کے عقیدہ کی ترجمانی کے لیے ایک حوالہ ملاحظہ ہوں:
تفسیر مرآة الانوار: جلد 1 صفحہ 19 پر ہے کہ تمہیں اچھی طرح جان لینا چاہیے کہ ان مذکور امور (قرآنِ کریم کے محرّف اور نامکمل ہونے) پر لاتعداد احادیث دلالت کرتی ہیں، بلکہ ان میں اکثر ہر شیعہ امامی علماء کا اجماع ہے، اور ان کے حق ہونے پر نص کی گئی ہے، بلکہ یہ بات تو شیعہ مذہب کی ضروریاتِ دینیہ میں سے ہے۔
علاوہ ازیں اہلِ تشیع یہ بھی نظریہ رکھتے ہیں کہ اصل قرآن حضرت علیؓ لے کر آئے تھے جس میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور قریش وغیرہ کی مذمت تھی، جب اسے ابوبکرؓ و عمرؓ نے دیکھا تو رد کر دیا اس پر سیدنا علیؓ نے کہا کہ اب یہ قرآن تمہیں نہیں ملے گا چنانچہ خلفاءِ ثلاثہؓ نے ملی بھگت سے اِدھر اُدھر سے اپنی مرضی کی آیات جمع کیں، اور بوجہ غاصب اور ظالم ہونے کے انہوں نے اپنے حق میں بہت سی آیات جمع کر دیں اور اصل قرآن میں سے وہ آیات جو ائمہ اہلِ بیتؓ کے اسمائے گرامی پر مشتمل ہیں، جن میں ان کے فضائل و مناقب تھے، نکال باہر کر دیں۔ (معاذاللہ)
قارئینِ کرام: ان حوالہ جات کے ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اہلِ تشیع موجود قرآنِ کریم کو نامکمل اور محرّف تسلیم کرتے ہیں، اور حضورِ اکرمﷺ کے سسر اور داماد (سیدنا صدیقِ اکبرؓ، سیدنا فاروقِ اعظمؓ، سیدنا عثمانِ غنیؓ) کو (معاذاللہ) ظالم، کافر اور ملعون قرار دیتے ہیں ایسے بدعقیدہ لوگوں سے کسی سنی کا دینی و مذہبی تعلق کب جائز ہے؟
مختصر یہ کہ اہلِ تشیع کا نہ موجودہ قرآن پر ایمان ہے اور نہ ہی ان کے پاس ائمہ اہلِ بیتؓ کے صحیح فرامین و ارشادات موجود ہیں یہی دو باتیں تھیں کہ جن کو مضبوطی سے تھامنے کا حضورِ اکرمﷺ نے حکم دیا ہے ان دونوں سے محرومی کے علاوہ سرکارِ دو عالمﷺ کے سسرال (سیدنا صدیقِ اکبرؓ، سیدنا فاروقِ اعظمؓ) اور آپﷺ کے داماد (سیدنا عثمانِ غنیؓ) اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مسلمان نہ سمجھتے ہوئے ان پر لعن طعن کرنا جائز قرار دیا تو ایسے لوگوں سے سرکارِ دو عالمﷺ کا کیا تعلق ہو سکتا ہے؟ ان سے اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیبﷺ کب راضی ہو سکتے ہیں؟
لہٰذا میں اپنے تمام مریدین، متوسلین اور متعلقین کو حکم دیتا ہوں کہ ان گستاخ لوگوں کے ساتھ نہ رشتہ ناطہ کریں نہ کرائیں، اور نہ ہی ان کی محافل و مجالس میں شمولیت کریں کیونکہ اس کا نتیجہ یہی نکلے گا کہ نہ ہی اس سے رسول اللہﷺ راضی رہیں گے اور خَسِرَ الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةَ ذٰلِكَ هُوَ الۡخُسۡرَانُ الۡمُبِيۡنُ
(سورۃالحج: آیت 11) کے مصداق بننا پڑے گا۔
(عقائدِ جعفریہ: جلد 3 صفحہ 616)