Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت ابو مویہبہ رضی اللہ عنہ مولی رسول اللہﷺ

  نقیہ کاظمی

علامہ ابو نعیمؒ کہتے ہیں کہ سیدنا ابو مویہبہ رضی اللہ عنہ مسجدِ نبویﷺ میں رات گزارتے تھے اور اصحابِ صفہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ گزر بسر کرتے تھے۔
(حلیۃ الأولیاء: صفحہ، 27 جلد، 2)
حضرت ابو مویہبہؓ قبیلہ مُزینہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے انہیں خرید کر آزاد کیا تھا، جس کی وجہ سے مولی رسول اللہﷺ سے جانے جاتے ہیں۔ یہ اپنی کنیت ہی سے مشہور ہیں۔
غزوۂ مریسیع:
غزوہ مریسیع کو غزوہ بنی مصطلق بھی کہتے ہیں، یہ غزوہ شعبان 5 ہجری میں پیش آیا، نبی اکرمﷺ کو یہ خبر پہنچی کہ حارث بن ابی ضرار سردار بنو مصطلق نے بہت سی فوج جمع کی ہے اور مسلمانوں پر حملہ کرنے کی تیاری میں ہے۔ رسول اللہﷺ نے سیدنا بریدۃ بن حصیبؓ کو تحقیقِ حال کے لیے روانہ فرمایا، حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ نے آ کر بیان کیا کہ خبر صحیح ہے، آپﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو خروج کا حکم دیا اور خود بھی ازواجِ مطہراتؓ میں سے ام المؤمنین سیدہ عائشہؓ اور ام المؤمنین حضرت ام سلمہؓ کو ساتھ لے کر 2 شعبان بروز پیر مدینہ منورہ سے نکلے راستہ میں ایک جاسوس ملا، جس کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺ کے حکم سے قتل کیا۔ جب کفار کو نبی اکرمﷺ کی روانگی اور جاسوس کے قتل ہونے کی خبر ملی تو کفار پر رعب چھا گیا اور قبائل منتشر ہو گئے، حارث کے ساتھ صرف اس کے قبیلہ کے آدمی رہ گئے۔
(صحیح بخاری: صفحہ، 345 جلد، 1)
ایک روایت میں ہے کہ نبی اکرمﷺ نے بنو مصطلق پر اچانک حملہ کیا اور وہ لوگ غافل اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے تھے، حملہ کی تاب نہ لا سکے، دس آدمی مقتول ہوئے، باقی مرد، عورت، بچے اور بوڑھے سب گرفتار ہوئے، مال و اسباب لوٹ لیے گئے۔
(المغازی للواقدی: صفحہ، 404/410)
(فتح الباری: صفحہ، 431 جلد، 7)
واقدی کی روایت میں ہے کہ اونٹ اور پانچ ہزار بکریاں غنیمت میں ملیں کوئی مسلمان اس غزوہ میں شہید نہ ہوتا، مگر ہشام بن صبابہ غلطی سے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ اسی غزوہ کے قیدیوں میں حارث بن ابی ضرار کی بیٹی سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں، آپﷺ نے انہیں آزاد کر کے ان سے شادی کر لی۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں جب یہ خبر پھیلی تو سب نے بنو مصطلق کی قیدیوں کو یہ کہہ کر آزاد کر دیا کہ یہ لوگ رسول اللہﷺ کے رشتہ دار ہو گئے ہیں (المغازی: صفحہ، 410/411)
سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں! میں نے حضرت جویریہؓ سے زیادہ کسی عورت کو اپنی قوم کے لیے بابرکت نہیں دیکھا کہ جس کی وجہ سے ایک دن میں سو گھرانے آزاد ہوئے۔
(سننِ ابوداؤد: صفحہ، 200 جلد، 2)
اسی جنگ سے واپسی کے وقت حضرت صدیقہؓ پر تہمت کا واقعہ پیش آیا تھا۔
(تفصیل کے لیے صحیح بخاری:صفحہ593/596 جلد، 2 دیکھیں)
میں حاضر رہے اور ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کا اونٹ چلانے کی خدمت پر مامور تھے۔
(الاستیعاب: صفحہ، 179 جلد، 4)
(الإصابۃ: صفحہ، 188 جلد، 4)
(البدایۃ والنہایۃ: صفحہ، 324)
حضرت عبداللہ بن عمرؓو سیدنا ابو مویہبہؓ سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابو مویہبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اللہﷺ نے آدھی رات کو مجھے طلب فرمایا، میں حاضرِ خدمت ہو کر نبی اکرمﷺ کے ساتھ چلنے لگا، جب ہم لوگ جنت البقیع (مدینہ منورہ کے قبرستان کا نام ہے) پہنچے تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا اے سیدنا ابو مویہبہؓ! مجھے بقیعِ غرقد والوں کے لیے استغفار کرنے کا حکم ملا ہے۔ میں ان لوگوں کے استغفار کرنے کے لیے ہی آیا ہوں۔ یہ ایک لمبی حدیث شریف ہے، اسی میں یہ بھی ہے۔ کہ پھر آپﷺ نے فرمایا اے حضرت ابو مویہبہؓ! مجھے ایک طویل عرصہ تک دنیا میں رہنے کا اختیار دیا گیا ہے اور دنیا کے خزانوں کی کنجیاں بھی دی گئی ہیں، لیکن اے سیدنا ابو مویہبہؓ! میں نے اپنے رب کی ملاقات اور جنت کو اختیار کیا ہے، پھر رسول اللہﷺ واپس تشریف لائے اور اسی دن سے آپﷺ کے مرض الوفات کی تکلیف کی ابتداء ہوئی ہے۔
(حلیۃ الأولیاء: صفحہ، 27 جلد، 2)
(مسندِ أحمد بحوالۂ البدایۃ والنہایۃ: صفحہ 323/324 جلد، 5)
حضرت ابو مویہبہؓ کی حدیث حسن درجہ کی ہے۔(الاستیعاب: صفحہ، 179 جلد، 4)
سیدنا ابو مویہبہ رضی اللہ عنہ کے فیض یافتگان میں صرف حضرت عبداللہ بن عمرؓو بن عاص ملتے ہیں۔
(الإصابۃ: صفحہ، 188 جلد، 4)