شیعہ و سنی کا نکاح نہیں ہو سکتا - فتاویٰ جات | دفاع اسلام

شیعہ و سنی کا نکاح نہیں ہو سکتا


سوال: عرض یہ ہے کہ ہمیں مندرجہ ذیل مسائل درپیش ہیں مہربانی کر کے قرآن و سنت کی روشنی میں تفصیل سے لکھیں:

1: ایک لڑکا شیعہ اور ایک لڑکی سنی، جو دونوں نابالغ تھے لیکن ان کی رضامندی اور والدین کی رضامندی سے دونوں کا نکاح ہو گیا ہے لیکن ابھی تک رخصتی نہیں ہوئی اب جب کہ لڑکا اور لڑکی دونوں بالغ ہو چکے ہیں اب لڑکی کے والدین لڑکی دینے کو تیار نہیں، جب کہ لڑکی اس پر راضی ہے تو اب کیا کرنا چاہیے؟  

واضح رہے کہ لڑکا جو شیعہ ہے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں گستاخی بھی اس سے کبھی نہیں سنی گئی تو آپ بتائیں کہ کیا پہلی دفعہ جو نکاح پڑھایا گیا ہے یعنی شیعہ لڑکے اور سنی لڑکی کا نکاح ہو گیا یا نہیں؟ اگر ہو گیا ہے تو اب کیا کرنا چاہیے؟ جب کہ لڑکی کے والدین لڑکی دینے کو رضامند نہ ہوں؟

2: بالغ لڑکا شیعہ اور بالغ لڑکی سنی کا نکاح ہو سکتا ہے یا نہیں؟ جب کہ لڑکے کے والد شیعہ اور والدہ سنی ہوں، اور لڑکا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں گستاخی کے کلمات بھی نہ کہتا ہو؟

جواب: عوام "شیعہ" کہتے ہی اُن لوگوں کو ہیں جو تبرّائی روافض ہیں ان سے نکاح حرامِ قطعی اور باطلِ محض اور قربت خالص زنا ہے، خواہ لڑکا لڑکی نابالغ و نابالغہ ہوں یا بالغ و بالغہ۔

آج کل کے رافضیوں میں کسی ایسے شخص کا ملنا جسے ضعیف طور پر بھی مسلمان کہہ سکیں، شاید ایسا ہی دشوار ہوگا جیسے سفید رنگ کا کوا اور ایسے رافضیوں کا حکم بالکل مثلِ حکمِ مرتدین ہے، یعنی ان سے شادی بیاہ کا معاملہ کرنا حرام، حرام، حرام ہے۔

اب اپنی بیٹی ان کے نکاح میں دینا سخت قہر، قاتل زہر ہے، کیونکہ عورتیں محکوم و مغلوب ہوتی ہیں اور ناقصات العقل و الدین بھی ہیں تو اس جرم و گناہ سے معافی کی صرف یہی ایک صورت ہے کہ اس لڑکی کا نکاح فسخ کرایا جائے اور اگر رخصتی نہ ہوئی ہو اور دونوں کبھی تنہائی میں بھی ساتھ نہ بیٹھے ہوں تو عدت بھی نہیں ہے تو اب کسی سنی کے نکاح میں لایا جائے۔  

(فتاویٰ خلیلیہ: جلد 2 صفحہ 32)