نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم (تحقیق) - دفاعِ اہلِ سنت |…

نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم (تحقیق)

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 2
(سنن أبی داؤد: كِتَاب الصَّلَاةِ، أَبْوَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ، بَاب وَضْعِ الْيُمْنَىٰ عَلَى الْيُسْرَى فِی الصَّلَاةِ، رقم الحديث: 644)
ترجمہ: سیدنا علیؓ سے روایت ہے، (کہ انہوں نے) فرمایا: سنّت نماز (کی میں) سے رکھنا ہے ہاتھ کا ہاتھ پر نیچے ناف کے۔
(خلاصة حكم المحدث: سكت عنه، وقد قال فی رسالته لأهل مكة كل ما سكت عنه فهو صالح)
امام ابو داؤدؒ نے کہا جس حدیث پر کہ میں اپنی کتاب میں سکوت (خاموشی اختیار) کروں (یعنی حدیث کے ضعیف ہونے کا حکم نہ لگاؤں) تو وہ احتجاج (حجت و دلیل ہونے) کی صلاحیت رکھتی ہے.
(فتاویٰ علماۓ حدیث: جلد، 7 صفحہ، 72)
(مصنف ابنِ أبی شيبة: كتاب الصلاة، أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلاةِ، وَضْعُ الْيَمِينِ عَلَى الشِّمَالِ، رقم الحديث: 3840)
الشواهد: تحفة الأحوذج: جلد، 1 صفحہ، 512)
دلیل 5: سیدنا علیؓ سے روایت ہے (کہ انہوں نے) فرمایا بیشک سنّت نماز (کی میں) سے ہے رکھنا  دائیں ہتھیلی کو بائیں ہتھیلی پر نیچے ناف کے۔
(سنن الدارقطنی: كِتَابُ الصَّلاةِ، بَابٌ فِج أَخْذِ الشِّمَالِ بِالْيَمِينِ فِج الصَّلاةِ، رقم الحديث: 1103 1090)
تخريج الحديث: مسند أحمد بن حنبل: صفحہ، 853 سنن أبی داؤد: جلد، 1 صفحہ، 129 أحكام القرآن الكريم للطحاوی: جلد، 327  السنن الكبرىٰ للبيهقی: جلد، 2 صفحہ، 31 الأوسط فج السنن و الإجماع والاختلاف لابنِ المنذر: 1290،  تہذيب الكمال للمزی: 940)
جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کسی عمل کے بارے میں سنت کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آنحضورﷺکا یہی معمول تھا اور آپ کا یہی فرمان تھا
اذا قال الصحابی من السنة کذا اوالسنة کذا فھو فی الحکم کقولہ قال رسول الله ﷺ ھذا مذھب الجمھور من المحدثین والفقھاء فجعل بعضھم موقوفا ولیس بشیئ۔
(تحفة الأحوذی: جلد، 1 صفحہ، 240)
یعنی جب صحابی یہ کہے کہ سنت سے یہ ہے یا یہ سنت ہے تو اس کا مطلب اور حکم اسی طرح کا ہے جیسے صحابی یہ کہے کہ آنحضورﷺ کا یہ ارشاد ہے (یعنی یہ بات آنحضورﷺ ہی سے ثابت ہو گی اور اس کا حکم حدیثِ مرفوع کا ہے) اور یہی عام طور پر فقہاءاور محدثین کا مذہب ہے، اور جس نے اس کو موقوف قرار دیا ہے وہ کوئی چیز نہیں ہے۔
دلیل 6: عَنْ أَبِی وَائِلٍؓ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَؓ أَخْذُ الْأَكُفِّ عَلَى الْأَكُفِّ فِی الصَّلَاةِ تَحْتَ السُّرَّةِ۔
(سنن أبی داؤد: كِتَاب الصَّلَاةِ، أَبْوَابُ تَفْرِيعِ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ، بَاب وَضْعِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فِی الصَّلَاةِ رقم الحديث: 646)
سیدنا ابو وائلؓ سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہیں کہ نماز میں ہتھیلی کو ہتھیلی سے پکڑ کر ہاتھ کو باندھا جائے گا۔
(تحفة الأحوذی: صفحہ، 215)
دلیل 7: سیدنا ابو ہریرہؓ سے : سنّت یہی ہے کہ مرد رکھے دائیں ہتھیلی کو بائیں ہتھیلی پر ناف کے نیچے نماز میں۔
اور اسی کو فرمایا امام سفیان ثوریؒ، اور امام اسحاقؒ نے اور فرمایا امام اسحاقؒ نے (نماز میں ہاتھوں کا) ناف کے نیچے رکھنا سب سے زیادہ مضبوط ہے حدیث میں اور سب سے زیادہ قریب ہے عاجزی کرنے میں.
(مسائل أحمد إسحاق رواية ألكوسج: صفحہ، 216  الأوسط فی السنن والإجماع والاختلاف لابن المنذر (سنة الوفاة:318) كِتَابُ صِفَةِ الصَّلاةِ، ذِكْرُ وَضْعِ بَطْنِ كَفِّ الْيُمْنَى عَلَى ظَهْرِ، رقم الحديث: 1241)
دلیل 8: عن أنسؓ: من أخلاق الأنبياء: تعجيل الإفطار، وتأخير السحور، ووضعك يمينك على شمالك فی الصلاة تحت السرة۔
(مختصر خلافيات للبيهقی: جلد، 2 صفحہ، 34 (سنة الوفاة:458ھ) كتاب الصلاة، مسألة، 75 والسنة أن يضع اليمنىٰ على اليسرى تحت صدره فوق سرة المحلى بالآثار لابن حزمؒ: جلد، 3 صفحہ، 30، معجم الکبیر للطبرانی بحوالہ شرح سنن أبی داؤد للعينی: جلد، 3 صفحہ، 365)
ترجمہ: سیدنا انسؓ فرماتے ہیں :انبیاء کرام علیہم السلام کے اخلاق (عادات) میں سے ہے (کہ) روزہ (اول وقت میں) جلدی افطار کرنا ، اور (آخر وقت میں) دیر سے سحری کرنا ، اور نماز میں اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے رکھنا.
اسے ذکر کیا علامہ ابنِ ترکمانی نے (الجوہر النقی: جلد، 2 صفحہ، 32 اور (امام دار قطنی نے اپنی السنن) دار قطنی: جلد، 1 صفحہ، 284 رقم: 2 میں سیدہ عائشہؓ  سے اسی کے مثل الفاظ کے ساتھ۔
احناف کی وہ روایت ہے جو سیدنا انسؓ سے مروی ہے اور جس کو ابن حزمؒ نے نقل کیا ہے، سیدنا انسؓ نے فرمایا۔
تین چیزیں اخلاقِ نبوت میں سے ہیں، افطار میں جلدی کرنا، سحری میں تاخیر کرنا اور داہنے ہاتھ کو بائیں کے اوپرزیر ناف رکھنا، (تحفہ)
دلیل 9: نماز میں زیرِ ناف ہاتھ باندھنے کا جن کا مذہب ہے ان کی صریح صحیح دلیل یہ ہے جو مصنف ابنِ ابی شیبہ میں ہے:
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِیﷺ  وَضَعَ يَمِينَهُ عَلَى شِمَالِهِ فِی الصَّلَاةِ تَحْتَ السُّرَّة۔
(مصنف ابن أبی شيبة: كتاب الصلاة، أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلاةِ، وَضْعُ الْيَمِينِ عَلَى الشِّمَالِ: رقم الحديث: 3959)
سیدنا وائلؓ فرماتے ہیں: میں نے رسول اکرمﷺ کو دیکھا کہ آپﷺ نماز میں ناف کے نیچے ہاتھ باندھتے تھے۔

صفحہ 2 از 2