آیت تطہیر میں ازواج مطہرات کا ذکر - سنی شیعہ مناظرے | دفاع…

آیت تطہیر میں ازواج مطہرات کا ذکر

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 2

2️⃣ جب کسی عورت سےخطاب ہو اور اس خطاب میں احترام مقصود ہو تو واحد مؤنث کے لئے بھی جمع مذکر کی ضمیر سے خطاب کیا جاتا ہے ، عرب شعراء کے کلام میں اس کی متعدد مثالیں ملتی ہیں ایک حماسی شاعر جعفر الحارثی کہتا ہے :

عجبت لمسراها وأنى تخلصت إلي وباب السجن دوني مغلق

ألمّت فحيّت ثم قامت فودعت فلما تولت كادت النفس تزهق

فلا تحسبي أني تخشعت بعدكم لشيئ ولا أني من الموت أفرق

اولاً

یہاں سیدات امہات المؤمنین (ازواج مطہرات) کو ’اہل بیت‘ کہہ کر پکارا گیا ہے۔ اور ’اہل‘ کا لفظ بیوی، عزیز واقارب اور اصحاب کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ یہ لفظ جمع ہے۔ اگر اس سے مراد اکیلی بیوی یا زیادہ بیویاں یا دیگر مذکر ومؤنث عزیز واقارب (خواہ وہ ایک دو ہوں یا زیادہ) بھی مراد ہوں تب بھی ظاہری لفظ کا دھیان رکھتے ہوئے جمع مذکر کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے، جیسے

وَهَل أَتىٰكَ حَديثُ موسىٰ ٩ إِذ رَ‌ءا نارً‌ا فَقالَ لِأَهلِهِ امكُثوا إِنّى ءانَستُ نارً‌ا لَعَلّى ءاتيكُم مِنها بِقَبَسٍ أَو أَجِدُ عَلَى النّارِ‌ هُدًى ١٠ ۔۔۔ سورة طه

بہت سے علماء کے نزدیک یہاں ’اہل‘ سے مراد سیدنا موسیٰ﷤ کی اہلیہ ہیں، اس کے باوجود لفظ اہل کی وجہ سے جمع مذکر کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔

اسی طرح جب فرشتوں نے سیدنا ابراہیم  کو سیدنا اسحاق اور یعقوب علیہما السلام کی بشارت دی اور سیدہ سارہ نے حیرانگی ظاہر کی تو فرشتوں نے کہا:

قالوا أَتَعجَبينَ مِن أَمرِ‌ اللَّـهِ ۖ رَ‌حمَتُ اللَّـهِ وَبَرَ‌كـٰتُهُ عَلَيكُم أَهلَ البَيتِ ۚ إِنَّهُ حَميدٌ مَجيدٌ ٧٣ ۔۔۔ سورة هود

یہاں بھی سيده سارہ کیلئے جمع مذکر کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔

نیز فرمایا:

وَحَرَّ‌منا عَلَيهِ المَر‌اضِعَ مِن قَبلُ فَقالَت هَل أَدُلُّكُم عَلىٰ أَهلِ بَيتٍ يَكفُلونَهُ لَكُم وَهُم لَهُ نـٰصِحونَ ١٢ ۔۔۔ سورۃ القصص

یہاں بھی سیدہ ام موسیٰ کا لفظ ’اہل‘ سے تذکرہ کرتے ہوئے ان کیلئے صیغۂ جمع مذکر استعمال کیا گیا ہے۔

ثانیاً

یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ سورۃ الاحزاب کی اس آیت کریمہ ﴿ إِنَّما يُر‌يدُ اللَّـهُ لِيُذهِبَ عَنكُمُ الرِّ‌جسَ أَهلَ البَيتِ وَيُطَهِّرَ‌كُم تَطهيرً‌ا ٣٣ ﴾ میں جمع مذکر کا صیغہ اس لئے استعمال کیا گیا ہے کہ اس جملہ میں یہاں اہل بیت سے مراد صرف امہات المؤمنین نہیں بلکہ سادات علی، فاطمہ، حسن و حسین بھی مراد ہیں اور جب زیادہ مذکر ومؤنث جمع ہوں تو ان کیلئے جمع مذکر کا صیغہ استعمال ہوتا ہے۔

صحیح احادیث مبارکہ میں ہے:

لمَّا نزلت هذِهِ الآيةُ على النَّبيِّ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا في بيتِ أمِّ سلمةَ فدعا فاطمةَ وحَسنًا وحُسينًا فجلَّلَهم بِكساءٍ وعليٌّ خلفَ ظَهرِهِ فجلَّلَهُ بِكساءٍ ثمَّ قالَ اللَّهمَّ هؤلاءِ أَهلُ بيتي فأذْهِب عنْهمُ الرِّجسَ وطَهِّرْهم تطْهيرًا قالت أمُّ سلمةَ وأنا معَهُم يا نبيَّ اللَّهِ قالَ أنتِ على مَكانِكِ وأنتِ على خيرٍ

الراوي: عمر بن أبي سلمة

المحدث: الألباني - المصدر: صحيح الترمذي - الصفحة أو الرقم: 3205

خلاصة حكم المحدث: صحيح

الدرر السنية - الموسوعة الحديثية

سورت الاحزاب 33 کی اس آیت اور اگلی پچھلی سب آیات میں ازوج مطہرات ہی مخاطب کی گئی ہیں۔۔۔ شیعہ سنی سب  علماء اس بات پر متفق ہیں۔ اور سب مسلمانوں کا ایمان ہے کہ قرآن پاک میں کوئی بے ربطی نہیں ہے۔ فصاحت اور بلاغت یہ نہیں ہوتی کہ ایک موضوع پر بات ہو رہی ہو تو اس کے بیچ میں کوئی ایسی بات کہہ دی جائے جس کا تعلق آگے پیچھے کسی بھی بات سے نہ ہو۔۔۔۔۔!!!  اس لیئے شیعہ کا مؤقف کہ آیت 33 کے آخری ٹکڑے کا تعلق صرف پنج تن پاک سے ہے،  باطل ہے۔۔۔۔!!


صفحہ 2 از 2