نام، نسب، کنیت، القاب، اوصاف - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

نام، نسب، کنیت، القاب، اوصاف

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2
قرآن کریم میں اللہ رب العالمین نے یہ لقب آپ کو عطا فرمایا۔ ارشاد ربانی ہے:
إِلَّا تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّـهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّـهَ مَعَنَا فَأَنزَلَ اللَّـهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَىٰ وَكَلِمَةُ اللَّـهِ هِيَ الْعُلْی واللَّـهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (سورۃ التوبۃ: آیت، 40)
ترجمہ: ’’اگر تم ان نبی( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی مدد نہ کرو تو اللہ ہی نے ان کی مدد کی اس وقت جب کہ انہیں کافروں نے (دیس سے) نکال دیا تھا، دو میں سے دوسرا جبکہ وہ دونوں غار میں تھے، جب یہ اپنے ’’ساتھی‘‘ سے کہہ رہے تھے کہ غم نہ کر، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ پس جناب باری نے اپنی طرف سے تسکین اس پر نازل فرما کر ان لشکروں سے اس کی مدد کی جنہیں تم نے دیکھا ہی نہیں۔ اس نے کافروں کی بات پست کر دی اور بلند و عزیز اللہ کا کلمہ ہی ہے۔ اللہ غالب ہے، حکمت والا ہے۔‘‘
علماء کا اس پر اجماع ہے کہ یہاں اس آیت کریمہ میں صاحب (ساتھی) سے مراد ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔(تاریخ الدعوۃ فی عہد الخلفاء: یسری محمد ھانی، صفحہ، 39)
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غار میں پناہ گزیں تھے تو میں نے آپ سے عرض کیا: اگر ان کافروں میں سے کسی نے اپنے قدموں کی طرف دیکھ لیا تو وہ ہمیں دیکھ لے گا، تو اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
یا ابابکر ما ظنک باثنین اللہ ثالثہما (البخاری، فضائل الصحابۃ: 3653)
’’اے ابوبکر ان دونوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ ہے۔‘‘
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عظیم ترین مناقب میں سے اللہ کا تعالیٰ یہ ارشاد ہے:
إِلَّا تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّـهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا..... إِنَّ اللَّـهَ مَعَنَا (سورۃ التوبۃ: آیت، 40)
کیونکہ اس آیت کریمہ میں بلا اختلاف ’’صاحب‘‘ (ساتھی) سے مراد ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں اور غار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے ہونے سے متعلق بکثرت مشہور احادیث وارد ہیں۔ اس منقبت میں آپ کا کوئی شریک نہیں۔ (الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ : جلد، 4 صفحہ، 148)
اتقی (بڑا متقی):
آپ کو یہ لقب اللہ تعالیٰ نے قرآن میں عطا فرمایا ہے:
وَسَيُجَنَّبُهَا الْأَتْقَ (سورۃ اللیل: آیت، 17)
ترجمہ: ’’اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہو گا۔‘‘
اس کی تفصیل ان شاءاللہ، اللہ کی راہ میں ستائے ہوئے لوگوں کے ذکر میں آئے گی، جنہیں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آزاد کرایا تھا۔
أوَّاہ (نرم دل):
ابوبکر رضی اللہ عنہ کو’’اَوَّاہ‘‘ کے لقب سے ملقب کیا گیا، جو اللہ تعالیٰ کے خوف وخشیت پر دلالت کرتا ہے۔ امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رافت ورحمت کی وجہ سے ان کا نام ’’اوّاہ‘‘ پڑ گیا تھا۔ (الطبقات الکبریٰ: جلد، 3 صفحہ، 171)
ولادت اور پیدائشی اوصاف:
علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ آپ کی ولادت عام الفیل کے بعد ہوئی البتہ اس میں اختلاف ہے کہ عام الفیل سے کتنے دنوں بعد ہوئی، بعض لوگوں نے کہا: آپ کی ولادت عام الفیل کے دو سال چھ ماہ بعد ہوئی اور کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ دو سال چند ماہ بعد ہوئی، انہوں نے مہینوں کی تعیین نہیں کی ہے۔ (سیرۃ وحیاۃ الصدیق، مجدی فتحی السید: 129، تاریخ الخلفاء: 56) والدین کی گود میں آپ کی بہترین نشوونما ہوئی، آپ کے والدین اپنی قوم میں عزو شرف کے مالک تھے، اس لیے آپ کو عز و شرف وراثت میں ملی تھی۔
(تاریخ الدعوۃ الاسلام فی عہد الخلفاء الراشدین: 30)
آپ کا رنگ گورا، بدن دبلا پتلا تھا۔ اس سلسلہ میں قیس بن ابی حازم کا بیان ہے: ’’میں نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس حاضری دی، آپ دبلے تھے، بدن پر گوشت کم تھا اور رنگ گورا چٹا تھا۔‘
(الطَّبقات لابن سعد: جلد، 3 صفحہ، 188 إسنادہ صحیح)
سیرت نگاروں نے راویوں کی زبانی آپ کا حلیہ مبارک کچھ اس طرح بیان کیا ہے: آپ زردی مائل سفید تھے، قد و قامت اچھا معتدل تھا، دبلے پتلے ہلکے رخسار، پیٹھ خم دار، ازار کمر سے سرک جایا کرتی تھی، چہرہ پر گوشت کم تھا، آنکھیں دھنسی ہوئیں، ناک اونچی، پنڈلیاں پتلی، رانیں مضبوط، پیشانی ابھری ہوئی، انگلیوں کے جوڑ نمایاں تھے، آپ داڑھی اور سفید بالوں میں مہندی وکتم (ایک قسم کی گھاس) کا خضاب لگاتے تھے۔
(البخاری: 5895، مسلم: 2341، ابوبکر الصدیق: مجدی السید: 32)

صفحہ 2 از 2