سنی شیعہ مکالمہ تکفیرِ صحابہؓ - سنی شیعہ مناظرے | دفاع اسلام

سنی شیعہ مکالمہ تکفیرِ صحابہؓ

  شہید ناموس صحابہؓ مولانا عبدالغفور ندیم شہیدؒ

صفحہ 3 از 5

 سلیم: میں نے پہلے عرض کیا کہ یہ پروپیگنڈہ ہے، اور آپ کے مجتہدین اہلِ سنت کو بدنام کرنے کے لیے اس قسم کی بے پَر کی اُڑاتے رہتے ہیں لیکن اِس قسم کے بے سروپا پرو پیگنڈے سے وہ اپنے مذموم مقاصد کبھی بھی حاصل نہیں کر سکیں گے ۔

نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار اِن سے

 یہ بازو مرے آزمائے ہوئے ہیں

 شبیر : اچھا چھوڑیں اس بات کو، آپ مجھے یہ بتائیں کہ آپ کا دعویٰ تو یہ تھا کہ شیعہ تمام صحابہؓ کو کافر کہتے ہیں جبکہ ثبوت میں آپ نے صرف دو صحابہؓ سیدنا ابو بکرؓ اور سیدنا عمرؓ کا تذکرہ کیا ہے، تمام صحابہؓ کو کافر کہنے والی بات کہاں تک صحیح ہے؟

 سلیم : بلا شبہ شیعہ تمام صحابہ کرامؓ کو کافر سجھتے ہیں، اگر آپ مذکورہ ” حقُّ الیقین" کی عبارت کو غور سے پڑھیں تو آپ کو اسی سے اندازہ ہو جائے گا، مذکورہ عبارت میں لکھا ہے کہ اس قسم کی بہت سی اور روایات بھی ہیں جن میں سے اکثر ” بحارُ الانوار" میں موجود ہیں، جب آپ وہ تمام روایات پڑھیں گے اور مختلف کتابوں میں دیکھیں گے تو یہ بات آپ پر روزِ روشن کی طرح عَیاں ہو جائے گی کہ شیعہ تمام صحابہ کرامؓ کو اِسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔ نمونہ کے طور پر میں چند حوالہ جات پیش کرتا ہوں۔

 تین کے علاوہ تمام صحابہ مرتد ہو گئے تھے (نعوذ باللّٰہ )

یہ دیکھیے ! آپ کے مذہب کی معتبر ترین کتاب "روضۂ کافی“۔

اس میں یہ عبارت پڑھیے !

 "حنان، عن ابيه عن ابى جعفرؒ : قال كان الناس اهل ردة بعد النبيﷺ الاثلثة فقلت ومن الثلثة، فقال المقداد بن الاسودؓ و ابو ذر الغفاریؓ و سلمان الفارسی "

(روضهٔ کافی صفحه 245 جلد 8)

ترجمہ :"حنان اپنے والد سے نقل کرتا ہے کہ سیدنا باقرؒ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ کے بعد تین آدمیوں کے سوا باقی سب مرتد ہو گئے تھے، میں نے پوچھا وہ تین کون تھے؟ فرمایاوہ تین آدمی یہ تھے۔ مقداد بن اسودؓ، ابوذرغفاریؓ اور سلمان فارسی.

اسی کتاب کا صفحہ 292 بھی ذرا دیکھ لیں !

"عن عبد الرحيم القصير قال قلت لابی جعفرؒ ان الناس يفزعون اذا قلنا : ان الناس ارتدوا، فقال يا عبد الرحيم ان الناس عادوا بعدما قبض رسول اللّٰهﷺ اهل جاهلية"

( روضه کافی صفحه 292 جلد 8)

ترجمہ : ” عبدالرحیم قیصر کہتا ہے کہ میں نے سیدنا باقرؒ سے کہا کہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ لوگ مرتد ہو گئے تھے تو یہ سن کر لوگ گھبرا جاتے ہیں، سیدناؒ نے فرمایا کہ اے عبد الرحیم ! رسول اللّٰہﷺ کی رحلت کے بعد لوگ جاہلیت کی طرف پلٹ گئے تھے۔“

فائدہ :مذکورہ دو روایتوں میں صاف الفاظ میں اس بات کو تسلیم کیا گیا ہے کہ حضورﷺ کے وصال کے بعد تمام صحابہؓ اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہو گئے تھے۔ (نعوذ باللّٰہ )

البته صرف تین اشخاص ( سیدنا مقداد بن اسودؓ، سیدنا ابوذر غفاریؓ اور سیدنا سلمان فارسیؓ) ہدایت پر قائم رہے۔

  کیا اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام صحابہؓ سوائے تین کے شیعہ مذہب میں کافر سمجھے جاتے ہیں اور گزشتہ روایات میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ شیعہ کی نظر میں صرف صحابہ کرامؓ ہی کا فرنہیں ہیں بلکہ جو لوگ صحابہ کرامؓ سے محبت و عقیدت رکھتے ہیں وہ بھی کافر ہیں۔

 شبیر: یار میں تو شیعہ مذہب کو اس لیے پسند کرتا تھا کہ شیعہ لوگ اہل بیتؓ سے محبت کرتے ہیں جبکہ آج پتہ چل رہا ہے کہ شیعہ مذہب میں تو ساری خباثت ہی خباثت ہے۔ یہ بات تو بڑی حیرت کی ہے کہ حضورﷺ جوسیّدُ الانبیاء ہیں اور ساری دنیا کی انسانیت کے لیے نبی بن کر آئے ہیں ان کی مسلسل اور پیہم جدو جہد اور انتھک تبلیغی سرگرمیوں کے نتیجے میں صرف تین آدمی مسلمان ہو سکے، باقی سارے مرتد ہو گئے ، یہ تو خود پیغمبرِ اسلامﷺ کی توہین ہے۔

سلیم: بھئی مجھے کوئی آپ سے ذاتی دشمنی تو نہیں۔ میں نے آپ سے اِسی لیے کہا تھا کہ میں صرف مولویوں کی لچّھے دار تقریروں سے متاثر نہیں ہوتا بلکہ خود تحقیق کرتا ہوں۔ میں نے مولانا جھنگوی شہیدؒ کی کیسٹ سننے کے بعد شیعہ مذہب کی خاص خاص کتابیں خریدیں اور اُن کا گہرا مطالعہ کیا ، تب میں بھی اس نتیجے پر پہنچا کہ شیعہ، اسلام کے نام پر مسلمانوں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔

 آپ نے کہا کہ صرف تین آدمیوں کا اِسلام پر قائم رہنا اور باقی سب کا مرتد ہو جانا حضورﷺ کی توہین ہے، میں کہتا ہوں کہ یہ نظریہ صرف تو ہین رسالتﷺ پر مبنی نہیں بلکہ اس سے قرآن کا انکار بھی لازم آتا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں:

"اذا جاء نصر اللّٰه والفتح ورايت الناس يدخلون في دين اللّٰه افواجا (النصر)"

 ترجمہ: ” جب آئی مدد اللّٰہ کی اور کامیابی۔ اور آپﷺ نے (اے نبیﷺ ) دیکھ لیا کہ لوگ فوج در فوج اللّٰہ کے دین میں داخل ہوتے ہیں ۔

 اس سورۃ میں اللّٰہ تعالیٰ واضح الفاظ میں کہہ رہے ہیں کہ لوگ فوج در فوج اللّٰہ کے دین میں داخل ہوئے اور یہ اللّٰہ کی مدد و نصرت کی دلیل ہے۔ لیکن شیعہ کہتا ہے کہ صرف تین آدمی اِسلام پر قائم رہ سکے، آپ ہی بتائیں کہ فوج ، تین آدمیوں کو کہا جاتا ہے؟ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو شیعہ صرف تین آدمیوں کو اِسلام میں داخل کر کے قرآن کریم کی اس سورت کا انکار کر رہا ہے یا نہیں؟

پھر لطیفہ یہ ہے کہ شیعہ نے جن تین آدمیوں کو اِسلام پر قائم تحریر کیا ہے اُن پر بھی شیعہ کو مکمل اعتماد نہیں۔

شبیر: یہ کیا کہہ دیا آپ نے ۔ شیعہ مذہب کے مطابق تین آدمی اِسلام پر قائم رہے اور اِن تین پر بھی شیعہ کو اِعتماد نہ ہو تو پھر باقی بچا کیا ؟ ایک حضورﷺ اور ایک علیؓ؟ بچارے شیعہ مذہب پر اِتنی زیادتی تو نہ کریں

سلیم: مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں کسی کے مذہب پر زیادتی کروں۔ میں تو وہ کچھ کہہ رہا ہوں جو شیعہ کی کتابوں میں موجود ہے۔

شبیر: یہ بات کہاں لکھی ہے کہ شیعہ کو اِسلام پر قائم رہنے والے تین اشخاص پر بھی اعتماد نہیں؟ 

 سلیم : یہ لیجیے کتاب ” رِجال کَشی" اس میں شیعہ کے قلم سے اِن تین اشخاص کا حال بھی پڑھ لیجیے جن کے بارے میں شیعہ کا اِعتقاد ہے کہ وہ اِسلام پر قائم رہے۔ 

اِرتداد سے بچنے والے تین بھی شیعہ کے ہاں مشکوک ہیں

صفحہ 3 از 5