سنی شیعہ مکالمہ تکفیرِ صحابہؓ - سنی شیعہ مناظرے | دفاع اسلام

سنی شیعہ مکالمہ تکفیرِ صحابہؓ

  شہید ناموس صحابہؓ مولانا عبدالغفور ندیم شہیدؒ

صفحہ 4 از 5

" عن ابي بكر الحضر مى قال: قال ابو جعفرؒ ارتد الناس الا ثلثة نفر سلمانؓ و ابوذرؓ والمقدادؓ قال قلت فعمارؓ ؟ قال قد كان جاض جيضة ثم رجع، ثم قال ان اردت رجلا لم يشك ولم يدخله شيئى فالمقدادؓ فاما سلمانؓ، فأنه عرض فى قلبه عارض ان عندا امیر المومنینؓ 

 اسم اللّٰه الاعظم لو تكلم به لا خذتهم الارض وهو هكذا، فلبب ووجئت عنقه حتی ترکت کالسلقه فمر به امیر المومنینؓ فقال له يا ابا عبد اللّٰهؓ هذا من ذالك بأيع ! فبايع، واما ابوذر، فأمره امیر المومنینؓ بالسكوت ولم يكن ياخذه في اللّٰه لومة لائم فأبى الا ان يتكلم فمر به عثمانؓ، فأمر به ثم انأب الناس بعد فكان اول من اناب ابو ساسان، الانصاري و ابو عسرة وشتيرة وكانوا سبعة فلم يكن يعرف حق امیرالمومنينؓ الاهولاء السبعة (رجال کشی روایت نمبر 24)

ترجمہ : ابوبکر حضرمی کہتا ہے کہ سیدنا ابو جعفرؒ نے فرمایا کہ تین افراد کے علاوہ باقی سب لوگ مرتد ہو گئے تھے، تین افراد یہ ہیں، سلمانؓ، ابوذرغفاریؓ اور مقدادؓ میں نے کہا عمارؓ؟ فرمایا ایک دفعہ تو وہ بھی منحرف ہو گئے تھے لیکن پھر لوٹ آئے۔ پھر فرمایا، اگر تم ایسا آدمی دیکھنا چاہتے ہو جس کو ذرا بھی شک نہیں ہوا اور اس میں کوئی چیز داخل نہیں ہوئی تو وہ مقدادؓ تھے۔ سلمانؓ کے دل میں یہ خیال گزرا کہ امیر المومنینؓ کے پاس تو اسم اعظم ہے۔ اگر آپؓ اسم اعظم پڑھ دیں تو ان لوگوں کو زمین نگل جائے ( پھر کیوں نہیں پڑھتے؟ )وہ اسی خیال میں تھے کہ ان کا گریبان پکڑا گیا اور ان کی گردن ناپی گئی، یہاں تک کہ ایسی ہوگئی جیسے اس کی کھال کھینچ لی گئی ہو، چنانچہ امیر المومنینؓ ان کے پاس سے گزرے تو فرمایا کہ اے ابو عبد اللہؓ ! یہ اسی خیال کی سزا ہے، ابوبکرؓ کی بیعت کرلو، چنانچہ اُنہوں نے بیعت کرلی، باقی رہے ابوذرؓ تو امیر المومنینؓ نے ان کو خاموش رہنے کا حکم دیا تھا۔ مگر وہ خاموش رہنے والے کہاں تھے وہ اللّٰہ کے معاملے میں کسی ملامت کی پروا نہیں کرتے تھے، پس عثمانؓ ان کے پاس سے گزرے تو اُن کی پٹائی کا حکم دیا۔ پھر کچھ لوگ تائب ہو گئے، سب سے پہلے جس نے توبہ کی وہ ابو ساسان انصاری، ابو عسرہ اور شتیرہ تھے ، تو یہ سات آدمی ہو گئے، پس ان سات آدمیوں کے سوا کسی نے امیر المومنینؓ کا حق نہیں پہچانا ۔“

فائدہ: مذکورہ عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ شکّ و تردّد سے صرف ایک مقدادؓ بچے، عمارؓ پہلے منحرف ہو گئے تھے ، پھر لوٹ آئے، یعنی وہ بھی مرتد ہونے کے بعد دوبارہ مسلمان ہوئے ۔ سلمانؓ کے دل میں بھی شبہ پیدا ہو گیا تھا، جس کی اُن کو سزا ملی اور ابوذرؓ کو امیرالمومنینؓ نے سکوت کا حکم فرمایا تھا مگر وہ نافرمانی کرتے تھے۔ 

شیعہ جن تین شخصیات کو بعد وصالِ النبیﷺ اِسلام پر قائم سمجھتا ہے، ان میں سے گویا شکّ و تردّد سے صرف حضرت مقدادؓ بچے۔ لیکن پھر مقدادؓ پر بھی شیعہ نے یوں ہاتھ صاف کیے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیے: 

 "عن ابي بصير: قال سمعت ابا عبد اللهؒ يقول قال رسول اللّٰهﷺ يا سلمانؓ لو عرض علمك على مقدادؓ لكفر، يا مقدادؓ الوعرض علمك على سلمانؓ لكفر (رجال کشی روایت نمبر 23)" 

 ترجمہ: ابو بصیر کہتا ہے کہ میں نے سیدنا جعفر صادقؒ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللّٰهﷺ فرماتے تھے کہ اے سلمانؓ! اگر تیرا علم مقدادؓ کے سامنے پیش کیا جائے تو وہ کافر ہو جائے۔اے مقدادؓ! اگر تیرا علم سلمانؓ کے سامنے پیش کیا جائے تو وہ کا فر ہو جائے۔“ 

فائدہ : یہ تو شکر ہے کہ مقدادؓ اور سلمانؓ کے دل کی حالت ایک دوسرے پر ظاہر نہیں ہوئی ورنہ نتیجہ کفر کے سوا اور کچھ نہ نکلتا۔

 صرف اِسی پر اکتفا نہیں، مزید پڑھیے اور شیعہ مذہب کا ماتم کیجیے۔ 

"عن جعفرؒ عن ابيه قال ذكرت التقية يوما عند علىؓ فقال، ان علم ابو ذرؓ ما فی قلب سلمانؓ لقتله ( رجال کشی روایت نمبر 40)"

 ترجمہ: سیدنا جعفرؓ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک دن حضرت علیؓ کے سامنے تقیہ کا ذکر آیا تو فرمایا کہ اگر ابوذرؓ کو سلمانؓ کے دل کی حالت معلوم ہو جائے تو ان کو قتل کر ڈالیں ۔ 

فائدہ: معلوم ہوا کہ شیعہ جن تین افراد کو مؤمن مخلِص تسلیم کرتا ہے وہ بھی اپنے دل کا بھید کسی کو نہیں بتاتے تھے، رہا یہ عقیدۂ کہ وہ دل کا بھید کیا تھا جو ایک دوسرے کو نہیں بتاتے تھے، اس کا حل یہ ہے کہ وہ بظاہر حضرت علیؓ سے موالات رکھتے ہونگے مگر دل میں خلفائے ثلاثہؓ سے عقیدت و محبت رکھتے ہونگے، چنانچہ سیدنا سلمان فارسیؓ کا خلفاء سے محبت و موالات رکھنا اس سے واضح ہے کہ سیدنا عمرؓ نے اُن کو مدائن کا گورنر بنایا تھا، اُس وقت سے سیدنا علیؓ کے دور تک یہ مدائن کے گورنر چلے آ رہے تھے۔ اِسی حالت میں 36 ھ میں ان کا وصال ہوا۔ (ترجمہ ، حیاتُ القلوب باب 59 صفحہ 956 جلد2)

الغرض! جن بزرگوں کے بارے میں شیعہ کہتے ہیں کہ وہ اِرتداد سے محفوظ رہے اُن کے اَحوال بھی شیعہ کتب سے میں نے آپ کے سامنے پیش کر دیے ہیں کہ شیعہ کو حقیقت میں اِن تین یا چار لوگوں پر بھی اِعتماد نہیں، شاید اِس لیے کہ وہ بھی خلفاءؓ سے موالات رکھتے تھے اور اُنہوں نے عُہدے اور مناصب بھی قبول فرمائے۔ غالباً اِن کی یہی قلبی کیفیت تھی جس کی بناء پر شیعہ روایات میں کہا گیا ہے کہ اگر ایک کے دل کا حال دوسرے کو معلوم ہو جاتا تو اُس کو قتل کر دیتا یا کافر ہو جاتا۔

شبیر: اِس کا مطلب تو یہ ہوا کہ حضورﷺ جس مقصد کے لیے تشریف لائے تھے اُس میں کامیاب نہ ہو سکے (نعوذ باللّٰہ) ظاہر ہے کہ شیعہ روایات کے مطابق حضورﷺ کے وصال کے بعد صرف تین افراد اِسلام پر قائم رہے اور ان تین کا حال یہ ہے کہ وہ بھی شکّ و تردّد میں مبتلا تھے۔ تو پھر مؤمنِ کامل تو کوئی بھی نہ رہا، آپ نے "رجال کشی" کی جو روایات پیش کی ہیں ان کی رُو سے تو مذہبِ شیعہ کی بنیاد ہی ختم ہو جاتی ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ ہمارے شیعہ اِس قسم کی روایات پڑھنے کے بعد بھی شیعہ مذہب پر قائم ہیں؟

صفحہ 4 از 5