سنی شیعہ مکالمہ تکفیرِ صحابہؓ - سنی شیعہ مناظرے | دفاع اسلام

سنی شیعہ مکالمہ تکفیرِ صحابہؓ

  شہید ناموس صحابہؓ مولانا عبدالغفور ندیم شہیدؒ

صفحہ 5 از 5

 سلیم: میں نے آپ سے کہا تھا کہ شیعہ کا اِسلام سے کوئی تعلق نہیں لیکن آپ نے میری بات کو "دیوانے کی بڑ" سمجھ کر نظر انداز کر دیا تھا، اب تو آپ پر یہ حقیقت مُنکشِف ہوگئی کہ شیعہ جس اِسلام کو مانتا ہے اُس میں حضورﷺ کا وصال ہوتے ہی لوگ اِسلام سے ہٹ گئے یا شکّ و تردّد میں مبتلا ہو گئے ۔ جس کا مطلب یہی نکلتا ہے کہ حضورﷺ کو جس عظیم مقصد کے لیے مبعوث کیا گیا تھا وہ مقصد پایۂ تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔ یہ نتیجہ صرف میں نے اَخذ نہیں کیا بلکہ آپ کے ایرانی انقلاب کے بانیٔ خُمینی نے بھی برمَلا اس کفر وزندقہ کا اظہار کیا ہے۔ اگر آپ کہیں تو حوالہ دکھاؤں؟ 

شبیر : کمال ہے یار۔ آپ کے پاس تو ہر بات کا ثبوت نقد موجود ہے۔ یہ بات تو کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان بھی نہیں کہہ سکتا کہ حضورﷺ اپنے مشن میں نا کام ہو گئے؟

سلیم: میں نے کب کہا ہے کہ کوئی مسلمان یہ بات کہہ سکتا ہے، اور جو اس قسم کی بات کہے وہ مسلمان ہی کب ہے؟ لیجیے! یہ میرے پاس ایک کتابچہ ہے "اِتحاد و یَکجِہتی" یہ رسالہ ملتان شہر میں چند سال قبل تقسیم کیا گیا تھا اس میں خُمینی کی وہ تقریر شائع ہوئی ہے جو اس نے تہران میں نو جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کی تھی۔ اِسے کھولیے اور پڑھیے۔ عبارت یہ ہے:

 تمام انبیاء دنیا سے نا کام گئے

 "اب تک کے سارے رسول، جن میں حضرت محمدﷺ بھی شامل ہیں دنیا میں عدل و انصاف کے اصولوں کی تعلیم کے لیے آئے لیکن وہ اپنی کوششوں میں کامیاب نہ ہو سکے، حتی کہ نبی آخر الزماں سیدنا محمدﷺ جو انسانیت کی اصلاح اور مساوات قائم کرنے آئے تھے اپنی زندگی میں نہ کر سکے۔“ ( تہران ٹائمز 29 جون 80ء) (تعمیر حیات "لکھنو" 10 اگست 80ء)

نوٹ: مذکورہ اِعلان تہران ریڈیو سے بھی 30 جون 1980 ھ کو نشر ہوا تھا۔

اِس حوالے کے بعد بھی میرے مؤقف میں آپ کو کوئی شبہ ہے؟

 شبیر: یہ تو واقعی کُفریہ عبارت ہے اور اِمام خُمینی نے صاف لفظوں میں کہہ دیا ہے کہ حضورﷺ بھی اپنے مشن میں ناکام ہو گئے، میرے تو دماغ کے دریچے کُھل گئے ہیں اور اب تو مجھے یوں محسوس ہونے لگا ہے جیسے شیعہ مذہب کی بنیاد ایک سازش کے تحت اِسلام سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے رکھی گئی ہے۔ سلیم: اس میں کوئی شک نہیں بلکہ حقیقت یہی ہے کہ شیعہ مذہب، اِسلام کی جڑوں پر تیشہ چلانے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ ورنہ آپ خود سوچیں کہ جس مذہب میں قرآن کریم کی صِحت پر شک کیا جاتا ہو۔

جس مذہب میں اللّٰہ کی لاریب کتاب کو تحریف و تبدیل شُدہ سمجھا جاتا ہو۔ 

جس مذہب میں کاتبینِ وحی کو مُرتد اور کافر کہا جاتا ہو۔

جس مذہب میں حدیثِ رسولﷺ کے راویوں (صحابہ کرامؓ ) کو کائنات کی بدترین مخلوق کہا جاتا ہو۔

جس مذہب میں حضورﷺ کے جانشینِ صحابہ کرامؓ کو اِسلام دشمن کہا جاتا ہو۔ 

جس مذہب میں آنحضرتﷺ کو نا کام رسولﷺ کے نام سے متعارف کرایا جاتا ہو۔

 جس مذہب میں انبیاء کے بعد آنے والے آئمہ کو انبیاء سابقین سے بلند درجہ تسلیم کیا جاتا ہو۔

جس مذہب میں شیخین ( ابو بکرؓ عمرؓ) کو کافر کہا جاتا ہو۔

جس مذہب میں سوائے اپنوں کے باقی سارے مسلمانوں کو "کنجریوں کی اولاد" کہا جاتا ہو اس مذہب کے پیروکار آخر کس بنیاد پر مسلمان کہلانے کے مستحق ہیں؟

شبیر: یہ آپ نے آخر میں جو بات کہی ہے کہ "سوائے اپنوں کے باقی سارے مسلمانوں کو کنجریوں کی اولاد کہا جاتا ہے "اس میں کیا صداقت ہے؟ 

 سلیم: یہ بات بھی دیگر تمام باتوں کی طرح آپ کے مذہب کی کتاب ” روضۂ کافی" میں موجود ہے۔ ذرا یہ عبارت پڑھیے:

شیعوں کے علاوہ سب کنجریوں کی اولاد ہیں

"ان الناس كلهم ذات بغايا ما خلا شيعتنا" 

ترجمہ : "بالتحقیق تمام لوگ کنجریوں کی اولاد ہیں سوائے ہمارے شیعوں کے ۔“ کس قدر ستمِ ظریفی ہے کہ شیعہ مذہب میں ساری دنیا کے مسلمان، اکابرین، بزرگانِ دین اور صلحاءِ امت ( نعوذ باللّٰہ ) کنجریوں کی اولاد ہیں، لیکن چلو کوئی بات نہیں ، ہمیں اگر وہ برا بھلا کہہ لیتے تو درگزر ہو سکتا تھا لیکن شیعہ نے تو حضورﷺ اور آپ کے صحابہؓ تک کو معاف نہیں کیا۔ پھر بھی وہ مسلمان کہلا ئیں ۔ آخر کس بنیاد پر ؟

 شبیر: شیعہ مذہب کے بارے میں مجھے بہت سی ایسی باتیں معلوم ہوئیں جن سے میں آج تک ناواقف تھا۔ بلکہ میں یہ سمجھتا تھا کہ سُنی اور شیعہ کے درمیان معمولی نوعیت کا اِختلاف ہے لیکن آج میرے سامنے یہ عقدہ کُھلا کہ شیعہ اور سُنی کے درمیان بنیادی عقائد و مسائل میں زبر دست اختلاف پایا جاتا ہے۔ اب تو میرا دل بھی شیعہ مذہب سے کَھٹّا ہو گیا ہے۔

 سلیم: آپ نے ابھی ایک جملہ کہا کہ "سُنی اور شیعہ کے درمیان اختلاف ہے" ذرا اِس جملے کی تصحیح فرمالیں سُنی شیعہ کے درمیان اختلاف نہیں بلکہ "مسلمانوں اور شیعہ کے درمیان اختلاف ہے"۔ اس لیے کہ اہلِ سنت کا نظریہ وہی ہے جو اِسلام نے ہمیں دیا ہے جبکہ شیعہ مذہب قدم قدم پر اِسلام سے متصادم ہے۔ اِسی لیے ہم شیعہ کو اِسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔

 شبیر : آپ نے مجھے صرف تین جگہ شیعہ مذہب کا اِسلام سے تصادم بتایا ہے۔ عقیدۂ تحریفِ قرآن، عقیدۂ اِمامت اور تکفیرِ صحابہؓ، لیکن دعویٰ یہ کر رہے ہیں کہ قدم قدم پر شیعہ مذہب اِسلام سے متصادم ہے۔ آپ کا یہ دعویٰ کہاں تک درست ہے؟

 سلیم : میں نے اِسلام کے خلاف شیعہ کے تین عقائد تو اِس لیے بتائے ہیں تا کہ آپ پر شیعہ کا کُفر واضح ہو جائے، جبکہ اِسلام اور شیعہ مذہب میں قدم قدم پر اختلاف پایا جاتا ہے۔ اگر آپ کہیں تو چند مثالیں پیش کروں؟

 شبیر : جی ہاں ! ضرور پیش کریں۔ 

سلیم: ذرا دل پہ ہاتھ رکھ کے سینے۔


صفحہ 5 از 5