مشاجرات صحابہ اوراہل السنۃ والجماعۃ کا معتدل مسلک - دفاعِ…

مشاجرات صحابہ اوراہل السنۃ والجماعۃ کا معتدل مسلک

  مولانااخترامام عادل قاسمی

صفحہ 1 از 15
ڈاکٹر علامہ خالد محمودؒ کی تحریرات کے آئینے میں
مہتمم جامعہ ربانی منوروا شریف، بہار
متکلم اسلام حضرت مولانا علامہ ڈاکٹر خالد محمود (متوفیٰ 20 رمضان المبارک 1441ھ مطابق 14 مئی 2020ء) عصرِ حاضر کے ممتاز محقق اور اسلامی افکار و نظریات کے مستند ترجمان تھے، فرق باطلہ کی تاریخ اور ان کے مسائل و افکار پر ان کی گہری نظر تھی، اس موضوع پر انھوں نے بے نظیر خدمات انجام دیں، ان کی کتابیں اس باب میں سند کا درجہ رکھتی ہیں، اس ضمن میں ناموسِ صحابہ کرام رضی الله عنہم کا تحفظ بھی ان کا خاص موضوع تھا، صحابہ کرام رضی الله عنہم کا مقام و معیار، صحابہ کرام رضی الله عنہم پر ہونے والے اعتراضات کا دفاع اور ان کے باہمی اختلافات جیسے حساس مسائل پر آپ کے قلم سے انتہائی محققانہ اور زندہ تحریریں معرضِ وجود میں آئیں اور اہلِ سنت والجماعت اور سلف صالحین کے مسلکِ اعتدال کی شاندار ترجمانی آپ نے فرمائی۔ زیرِ نظر مضمون میں مشاجراتِ صحابہ کرام رضی الله عنہم پر آپ کی قیمتی تحقیقات و افادات سے ہم استفادہ کریں گے، اس موضوع پر بہت سی قیمتی چیزیں علامہ صاحب کی کتابوں اور تحریروں میں پھیلی ہوئی ہیں، جن کو اگر ایک جگہ جمع کر دیا جائے تو وہ ایک مستقل کتاب بن جائے گی۔
یہ موضوع انتہائی حساس اور قدیم ہے، جو شروع سے ہی علماء اور مصنّفین کے یہاں زیرِ بحث رہا ہے اور اکثر افراط و تفریط کا بھی شکار رہا ہے، جس کے نتیجے میں کئی فرقے وجود میں آئے، لیکن سلف صالحین نے ہمیشہ جادۀ اعتدال کو قائم رکھا۔
صحابیت ایک وہبی مرتبہ ہے، کسبی نہیں
یہاں سب سے پہلے اصولی طور پر مقاِم صحابیت کی حقیقت و نزاکت کو سمجھنا ضروری ہے، اکثر فتنے اور غلط فہمیاں اسی حقیقت کا پورا ادراک نہ کرنے کی بنا پر پیدا ہوئیں:
”صحابیت ایک وہبی مرتبہ ہے، کوئی کسبی شئے نہیں ہے، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ اگر امام ابوحنیفہؒ سے علم میں آگے نکل گئے تو اس کی وجہ اس کے سوا کیا ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں حضور اکرمﷺ کی پہلی زندگی میں پیدا کیا، یہ ان کی اپنی کسبی شئے نہیں تھی اور پھر یہ فیصلہ اللہ رب العزت کا اپنا تھا کہ حضورﷺ خاتم النّبیین ہیں، آپﷺ کے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہو گا، جب یہ ایک قطعی بات ٹھہری تو یہ بات بھی اپنی جگہ قطعی ہے کہ اب آئندہ کوئی شخص صحابی نہ ہو سکے گا۔اس سے یہ عقیدہ بھی ایک قطعی صورت اختیار کرتا ہے کہ صحابیت ایک وہبی چیز ہے، کوئی کسبی شئے نہیں ہے، اس دعویٰ پر کئی دلیلیں پیش کی جا سکتی ہیں، مثلاً:
ساری انسانیت رضائے الہٰی کی جستجو میں ہے اور یہی عام ہدایت بھی ہے لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایسی مقدس جماعت ہے کہ اس کی رضا خود اللہ پاک چاہتے ہیں، بلکہ ان کی اتباع کرنے والوں کو بھی اس مرتبہ کا حقدار بتایا گیا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ وَالَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُمۡ بِاِحۡسَانٍ رَّضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ 
(سورۃ التوبة: آیت، 100)
ترجمہ: اور مہاجرین اور انصار میں سے جو لوگ پہلے ایمان لائے، اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کی، اللہ ان سب سے راضی ہو گیا ہے، اور وہ اس سے راضی ہیں، 
اس سے واضح ہوتا ہے کہ انسانی تاریخ میں ایک ایسا طبقہ بھی ہوا ہے جس کی رضا خود پروردگارِ عالم کو مطلوب ہے، ظاہر ہے کہ یہ چیز کسب سے حاصل نہیں ہو سکتی۔
ایک اور آیتِ کریمہ پر غور کریں:
وَاَلۡزَمَهُمۡ كَلِمَةَ التَّقۡوٰى وَ كَانُوۡۤا اَحَقَّ بِهَا وَاَهۡلَهَا‌ؕ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمًا 
(سورۃ الفتح: آیت، 26)
ترجمہ: اور ان کو تقویٰ کی بات پر جمائے رکھا، اور وہ اسی کے زیادہ حق دار اور اس کے اہل تھے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔  
اللہ تبارک وتعالیٰ کا انھیں چن لینا اور یہ کہنا کہ وہ پہلے سے اس کے حقدار اور اہل تھے، یہ شرف صحابیت کے وہبی مرتبہ ہونے کی روشن دلیل ہے۔
یہ بات مولانا ابو الکلام آزادؒ نے سورة توبہ (آیت، 24) کی تفسیر کے تحت ان الفاظ میں کہی ہے:
”بلا شائبہ و مبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ دنیا میں انسانوں کے کسی گروہ نے کسی انسان کے ساتھ اپنے سارے دل اور اپنی ساری روح سے ایسا عشق نہیں کیا ہو گا، جیسا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اللہ تعالیٰ کے رسولﷺ سے راہِ حق میں کیا، انھوں نے اس محبت کی راہ میں وہ سب کچھ قربان کر دیا جو انسان کر سکتا ہے اور پھر اس کی راہ سے سب کچھ پایا جو انسان کی کوئی جماعت پا سکتی تھی۔
(ترجمان القرآن: جلد، 2 صفحہ، 143)
اسی کے ساتھ خود صحابی رسولﷺ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا اظہارِحقیقت بھی ملاحظہ فرمائیں:
ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ قال: ”مَن کانَ مُسْتَنًّا، فَلْیَسْتَنَّ بمن قد ماتَ، فإنَّ الحیَّ لا تُؤمَنُ علیہ الفِتْنَةُ، أولئک أصحابُ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم، کانوا أفضلَ ہذہ الأمة: أبرَّھا قلوبًا، وأعمقَھا علمًا، وأقلَّھا تکلُّفًا، اختارھم اللّٰہ لصحبة نبیِّہ، ولإقامة دِینہ، فاعرِفوا لہم فضلَہم، واتبعُوھم علی أثرھم، وتمسَّکوا بما استَطَعْتُم من أخلاقِھم وسیَرِھم، فإنھم کانوا علی الھُدَی المستقیم“
(جامع الأصول فی أحادیث الرسول: جلد، 1 صفحہ، 292 حدیث نمبر: 80 المؤلف: مجد الدین أبو السعادات المبارک بن محمد الجزری ابن الأثیر (المتوفیٰ: 606ھ) تحقیق: عبد القادر الأرنؤوط الناشر: مکتبة الحلوانی- مطبعة الملاح مکتبة دار البیان الطبعة: الأولیٰ)
صفحہ 1 از 15