مشاجرات صحابہ اوراہل السنۃ والجماعۃ کا معتدل مسلک - دفاعِ…

مشاجرات صحابہ اوراہل السنۃ والجماعۃ کا معتدل مسلک

  مولانااخترامام عادل قاسمی

صفحہ 10 از 15
(عبقات: صفحہ، 472 مؤلفہ حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود، ناشر: دارالمعارف لاہور)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک دوسرے کے حق میں بے حد مخلص اور خیر خواہ تھے۔
غرض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان جن اختلافات کا ذکر کیا جاتا ہے وہ درمیانی لوگوں کی وجہ سے پیدا ہوئے اور محض غلط فہمیوں کی بنیاد پر بعض ناخوش گوار واقعات پیش آ گئے، ورنہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم باہم ایک دوسرے کے حق میں بے حد خیر خواہ اور مخلص تھے اور اگر غلطی سے کسی کے حق میں زیادتی ہو جائے تو اس سے درگزر کرنے والے تھے، اس کی ایک مثال خود عہدِ نبوتﷺ میں پیش آئی:
جنگِ احد میں حضورﷺ کی شہادت کی جھوٹی افواہ پھیلنے سے ایک افراتفری کی کیفیت پیدا ہو گئی تھی، اس میں بعض مسلمان بھی خود مسلمانوں ہی کے ہاتھوں شہید ہوئے، ان میں ایک حضرت حذیفہ بن یمانؓ کے والد بھی تھے، حضرت حذیفہؓ نے دور سے آواز دی کہ یہ میرے والد ہیں، مگر افراتفری میں وہ آواز سنی نہ جا سکی اور حضرت یمان شہید ہو گئے۔ 
(تاریخ طبری: جلد، 3 صفحہ، 26)
اب حضرت حذیفہؓ کی شان معافی دیکھیے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جب کہا کہ خدا کی قسم! ہم نے ان کو پہچانا نہیں تھا، تو انھوں نے وہی بات کہی جو حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے کہی تھی:
يَغۡفِرُ اللّٰهُ لَـكُمۡ‌ وَهُوَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِيۡنَ‏ ۞
(سورۃ يوسف: آیت، 92)
ترجمہ: اللہ تمہیں معاف کرے، وہ سارے رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔
حضور اکرمﷺ نے سیدنا یمانؓ کاخون بہا بیت المال پر ڈالنا چاہا کہ یہ قتل خطا تھا، مگر سیدنا حذیفہ نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا، وہ جانتے تھے کہ جو کچھ ہوا افراتفری کے عالم میں ہوا، اس لیے مناسب نہ سمجھا کہ میں اس پر دیت لوں، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اپنا حق معاف کر دیا اللہ پاک کو ان کی یہ ادا اتنی پسند آئی کہ اس نے ان سب سے جن سے احد کے دن غلطی ہوئی تھی اپنی گرفت اٹھا لی اور سب کو معاف کر دیا۔
(تجلیات آفتاب: جلد، 1 صفحہ، 200، 201 مؤلفہ علامہ ڈاکٹر خالد محمودؒ، ناشر: محمود پبلی کیشنز اسلامک ٹرسٹ لاہور، 1431ھ مطابق 2010ء۔)
حضور اکرمﷺ کے بعد بھی ان کا یہ باہمی اخلاص و تعلق برقرار رہا اور براہِ راست صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایک دوسرے کے خلاف غلط الفاظ استعمال نہیں کیے اور نہ کبھی اپنی سطح سے نیچے اتر کر انتقامی کاروائیوں میں ملوث ہوئے۔
تاریخی روایات کے ذریعہ کسی صحابیؓ کو مطعون کرنا درست نہیں۔
جہاں تک ان تاریخی روایات کا تعلق ہے جن کے ذریعے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شخصیات کو مجروح کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، تو اولاً قرآن و حدیث کے نصوصِ قطعیہ اور اجماعِ امت سے ثابت شدہ مؤقف کے مقابلے میں تاریخی روایات کی کوئی اہمیت نہیں ہے، اس لیے کہ تاریخی روایات کے ضبط و اندراج میں اس معیار کو نہیں اپنایا گیا جو احادیث کے جمع و تحقیق میں اختیار کیا گیا تھا، بلکہ صحیح بات تو یہ ہے کہ اسلامی تاریخ پر ابتدا سے لے کر بعد تک جتنی کتابیں لکھی گئیں ان میں ایک بھی مستند کتاب نہیں ہے،
علامہ خالد محمودؒ نے اس تاریخی حقیقت کو بہت مدلل طور پر پیش کیا ہے، لکھتے ہیں:
تاریخ اسلام کی کوئی مستند کتاب موجود نہیں ہے۔
اسلامی ذخیرۀ کتب میں تاریخِ اسلام کی ایک بھی ایسی مستند کتاب نہ ملی جسے مستزد تاریخِ اسلام کہا جا سکے، ہاں ان ادوار میں بعض مؤرخین ایسے ضرور ہوئے ہیں جو اپنے علم، محنت، شخصیت اور جمع روایات میں مستند مانے گئے ہیں، لیکن انھوں نے بھی اپنی جملہ روایات کو کبھی مستند ہونے کی سند نہیں دی، مؤلفین کا مستند ہونا اور بات ہے اور ان کی جمیع مرویات کا مستند ہونا اور بات ہے۔
اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ جب مسلمان اپنے عہدِ اول کی کوئی مستند تاریخِ اسلام مرتب نہ کر پائے تو مسلمان بطور ایک قدیم قوم کے کیسے آگے چل سکیں گے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان اپنے دین کے قیام میں کتاب و سنت کے پابند کیے گئے تھے، تاریخ کے نہیں، حضور اکرمﷺ نے اپنے سفرِ آخرت سے پہلے امت کو نصیحت کی:
ترکت فیکم امرین لن تضلوا ما تمسکتم بھما کتاب اللّٰہ و سنة نبیہ
(موطا امام مالک: صفحہ، 363)
سو دورِ اول کی کوئی مستند تاریخ اسلام نہ ملنے سے دین میں کوئی کمی نہیں آتی، نہ قیامِ نظامِ اسلامی میں اس سے کوئی مشکل در پیش ہوتی ہے۔
مؤرخین میں حافظ محمد ابنِ سعد، علامہ طبریؒ ؒ(310ھ)، حافظ ابنِ عبدالبرؒ (463ھ)، حافظ ابنِ عساکرؒ (571ھ) ابنِ اثیرؒ (606ھ)، ابنِ کثیرؒ (774ھ) اور علامہ ابنِ خلدونؒ (808ھ) بے شک بلند پایہ مؤرخین گزرے ہیں، لیکن ان کے مجموعۂ تاریخ کو کبھی پوری طرح مستند نہیں مانا گیا، یہ حضرات اپنے راویوں سے کئی کئی طرح کی روایات لائے ہیں اور دروغ بر گردن راوی کے اصول پر کاربند رہتے ہوئے انھوں نے اہلِ کذب راویوں سے بچنے میں کوئی زیادہ احتیاط نہیں کی، بد مذہب اور جھوٹے راویوں کی جانچ پڑتال کیے بغیر انھیں اپنی کتابوں میں جگہ دے دی، اب ہم ان کی روایات کو قرآن و حدیث سے ملی معلومات اور اصولِ درایت پر پرکھے بغیر قبول نہ کر سکیں گے، انھیں یہ کہہ کر کبھی قبول نہ کیا جا سکے گا کہ یہ روایات تاریخ کی مستند کتابوں میں موجود ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ تاریخِ اسلام کی کوئی کتاب بذاتِ خود مستند نہیں مانی گئی، ان سے تاریخی مواد تو ضرور ملتا ہے، لیکن بلا دیکھ بھال اور راویوں کی پڑتال کیے بغیر ان سے مستند تاریخ ہمیں نہیں ملتی اور جو مؤلفین ان کتابوں کو تاریخ کی مستند کتابیں سمجھتے ہیں وہ ان کتابوں اور ان کے مؤلفین کے طرزِ تالیف سے یکسر بےخبر ہیں۔ علماء امت نے دین کو ہمیشہ کتاب و سنت کے چشموں سے لیا ہے، عقائد کی ترتیب میں تاریخ کو کوئی اساسی حیثیت نہیں دی۔
دیکھیے علامہ طبریؒ اپنی کتاب تاریخ الرسل والملوک میں غلط راویوں کی دی گئی روایات کی ذمہ داری سے اس طرح نکلتے ہیں:
فلیعلم انہ لم یات فی ذلک من قبلنا وانما اتیٰ من قبل بعض ناقلیہ الینا
(تاریخ الرسل و الملوک: جلد، 1 صفحہ، 3 المؤلف: محمد بن جریر بن یزید بن کثیر بن غالب الآملی، ابو جعفر الطبری (المتوفیٰ: 310ھ)
صفحہ 10 از 15