مشاجرات صحابہ اوراہل السنۃ والجماعۃ کا معتدل مسلک - دفاعِ…

مشاجرات صحابہ اوراہل السنۃ والجماعۃ کا معتدل مسلک

  مولانااخترامام عادل قاسمی

صفحہ 11 از 15
ترجمہ: جان لیجیے کہ ایسی باتیں اس میں ہماری طرف سے نہیں آئیں یہ اس کے بعض راویوں سے ہم تک آئی ہیں۔
علامہ طبریؒ نے واقدی جیسے مؤرخین سے جو روایات نقل کی ہیں ان کی ذمہ داری دروغ بر گردن راوی کے اصول پر واقدی پر آتی ہے، علامہ طبریؒ ان کی ذمہ داری لیتے تو انھیں واقدی کے نام سے روایت نہ کرتے، حضرت عثمانؓ کے خلاف یورش کرنے والے باغی جب مصر سے مدینہ کی طرف چلے تو طبریؒ نے ان کے کوائف واقدی کے حوالے سے پیش کیے ہیں اور ان میں بھی مؤرخ طبری یہ بات کہہ گئے ہیں:
”واقدی نے مصریوں کی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف نکلنے کی بہت سی باتیں لکھی ہیں ان میں سے بعض کے ذکر سے میں نے اعراض کیا ہے، مجھے ان کی قباحت و شناعت کے سبب ان کے ذکر کرنے سے گھن آتی ہے۔ (ترجمہ)
(تاریخ طبری: جلد، 3 صفحہ، 391)
جب طبریؒ کا یہ حال ہے تو دوسرے مؤرخین کا کیا حال ہو گا، جو روایتیں گھڑنے سے مطلقاً حیا نہیں کرتے، قاضی ابوبکر ابن العربی (543ھ) لکھتے ہیں:
ولاتسمعوا لِمُؤرخٍ کلاماً الا للطبری فانھم ینشؤون أحادیث فیھا استحقارة الصحابة والسلف والاستخفاف بھم
(العواصم: صفحہ، 247)
ترجمہ: تم ان ابواب میں طبری کے علاوہ کسی مؤرخ کی کوئی بات نہ سنو، وہ ایسی حدیثیں خود گھڑتے ہیں جن سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور سلف صالحین کی تحقیر ہوتی ہے اور ان کے بارے میں استخفاف لازم آتا ہے۔
قاضی صاحبؒ کی یہ وصیت آبِ زر سے لکھنے کے لائق ہے:
فاقبلوا الوصیةَ ولا تلتفتوا الا ما صح من الأخبار و اجتنبوا أھل التواریخ
(العواصم: صفحہ، 245)
ترجمہ: میری یہ وصیت پلے باندھو، ان روایات کی طرف ہرگز دھیان نہ کرو، سوائے ان اخبارِ صحیحہ کے جو صحیح طور پر ہم تک پہنچیں اور ان اہلِ تاریخ سے پوری طرح بچو۔
البتہ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ امام زہریؒ کے شاگرد موسیٰ بن عقبہ جو امام مالکؒ کے استاد تھے، انھوں نے دوسروں کی نسبت صحتِ روایت کا کچھ التزام کیا ہے، لیکن افسوس کہ یہ کتاب عام شائع نہ ہو سکی، علامہ شبلیؒ لکھتے ہیں:
”موسیٰ کی کتاب آج موجود نہیں، لیکن ایک مدت تک شائع و ذائع رہی ہے اور سیرت کی تمام قدیم کتابوں میں کثرت سے اس کے حوالے آتے ہیں۔
(سیرت النبیﷺ: جلد، 1 صفحہ، 23)
حافظ ابنِ تیمیہؒ (724ھ) اور حافظ ابنِ کثیرؒ (774ھ) بھی تاریخ کے ان ذخیروں کو مستند تسلیم نہیں کرتے۔حافظ ابنِ تیمیہؒ لکھتے ہیں:
المؤرخون الذین یکثرون الکذب فیما یرونہ وقل ان یسلم نقلھم من الزیادة والنقصان
(منہاج السنة: جلد، 3 صفحہ، 196)
ترجمہ: مؤرخین جو اپنی مرویات میں زیادہ سے زیادہ جھوٹ لاتے ہیں اور بہت کم ہیں کہ ان کی نقل زیادتی اور کمی سے بچی ہو۔
و انما ھو من جنس نقلة التواریخ التی لا یعتمد علیھا اولوا الابصار
(منہاج السنة: جلد، 3 صفحہ، 242)
ترجمہ: اور یہ بات تاریخ نقل کرنے والے لوگوں کی روایت سے جن پر آنکھ والے کبھی بھروسہ نہیں کرتے۔
اور حافظ ابن کثیرؒ کی رائے بھی ملاحظہ کر لیں، آپ لکھتے ہیں:
”بہت سے مؤرخین مثلاً ابنِ جریرؒ وغیرہ نے مجہول راویوں سے ایسی خبریں ذکر کی ہیں، جو صحاح کے ثابت شدہ حقائق کے خلاف ہیں، ان پر اعتماد کیا جائے یا انھیں رد کیا جائے اس پر آپ نے فیصلہ دیا ہے:
فھی مردودة علیٰ قائلھا و ناقلھا واللّٰہ اعلم
(البدایة والنہایة: جلد، 7 صفحہ، 147)
ترجمہ: یہ روایتیں اپنے غیر ثقہ دعویداروں اور راویوں پر رد کی جائیں گی (قبول نہ کی جائیں گی)۔
تاریخ کی اس قسم کی روایتیں ہرگز قبول ہونے کے لائق نہیں، خصوصاً وہ جن کے قبول کرنے سے کتاب و سنت کے بہت سے فیصلوں سے ٹکراؤ لازم آتا ہے۔
عصرِ حاضر کے مشہور مؤرخ مولانا شبلی نعمانیؒ (1332ھ) لکھتے ہیں:
سیرت پر اگرچہ آج بھی سیکڑوں تصنیفیں موجود ہیں، لیکن سب کا سلسلہ جا کر صرف تین چار کتابوں پر منتہی ہوتا ہے، سیرتِ ابنِ اسحاق، واقدی، ابنِ سعد، طبری، ان کے علاوہ جو کتابیں ہیں وہ ان سے متأخر ہیں اور ان میں جو واقعات مذکور ہیں، زیادہ تر انھیں کتابوں سے لیے گئے ہیں۔ ان میں سے واقدی تو بالکل نظر انداز کر دینے کے قابل ہے، محدثین بالاتفاق کہتے ہیں کہ وہ خود اپنے جی سے روایتیں گھڑتا ہے۔ ابنِ سعد کی نصف سے زیادہ روایتیں واقدی کے ذریعہ سے ہیں، اس لیے ان روایتوں کا وہی مرتبہ ہے جو خود واقدی کی روایتوں کا ہے، طبری کے بڑے بڑے شیوخ روایت مثلاً سلمہ بن الابرش، ابنِ سلمہ وغیرہ ضعیف الروایة ہیں، اس بنا پر مجموعی حیثیت سے سیرت کا ذخیرۀ کتب حدیث کا ہم پلہ نہیں، البتہ ان میں جو تحقیق و تنقید کے معیار پر اتر جائے وہ حجت و استناد کے قابل ہے۔
ابنِ سعد اور طبری میں کسی کو کلام نہیں، لیکن افسوس ہے کہ ان لوگوں کا مستند ہونا ان کی تصنیفات کے مستند ہونے پر چنداں اثر نہیں ڈالتا، یہ لوگ خود شریکِ واقعہ نہیں، اس لیے جو کچھ بیان کرتے ہیں، راویوں کے ذریعہ سے بیان کرتے ہیں، لیکن ان کے بہت سے رُوات ضعیف الروایة اور غیر مستند ہیں۔
(سیرت النبیﷺ: جلد، 1 صفحہ، 48، 49)
آنحضرتﷺ نے اپنے بعد جلد ہی واقع ہونے والے افتراق کی خبر دی تو ساتھ ہی فرمایا، اس افتراق میں نجات کے لائق وہی ہوں گے جو میرے اور میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی راہ پر ہوں، (ما انا علیہ و اصحابی) اس سے واضح ہوا کہ اس دور میں ایسے رواة اخبار جن کی روایات سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شخصیات کسی درجہ میں مجروح ہوتی ہوں کسی طرح لائقِ قبول نہ سمجھے جائیں گے، سو ہدایت نبوی سے یہ ایک اصولی راہ مل گئی کہ اختلاف کے اس دور میں سلامتی اسی طرف رہنے میں ہے جس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عزت و ناموس برقرار رہے اور جو روایات ان کی شخصیات کو مجروح کریں لائقِ رد سمجھی جائیں گی۔
(خلفاء راشدین: جلد، 2 صفحہ، 340 تا 348 مؤلفہ علامہ ڈاکٹر خالد محمود)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر الزامات والی ایک روایت بھی واضح اور مستند نہیں۔
اس قسم کی جتنی روایات بھی نقل کی جاتی ہیں تحقیق کی جائے تو ان میں سے ایک بھی واضح نہیں یا یہ کہ پایہ استناد کو نہیں پہنچتی، علامہ خالد محمود صاحبؒ کی تحریرات سے اس کی بعض مثالیں پیش کی جاتی ہیں:
حضرت امیرِ معاویہؓ نے حضرت علیؓ کے سبِّ وشتم کا حکم نہیں دیا۔
صفحہ 11 از 15