مشاجرات صحابہ اوراہل السنۃ والجماعۃ کا معتدل مسلک - دفاعِ…

مشاجرات صحابہ اوراہل السنۃ والجماعۃ کا معتدل مسلک

  مولانااخترامام عادل قاسمی

صفحہ 12 از 15
1: کہا جاتا ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ نے سیدنا علیؓ کے سبِّ وشتم کا حکم دیا تھا، مگر یہ بات درست نہیں، بلاشبہ صحیح مسلم میں سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ کی ایک گفتگو مذکور ہے، ان دو حضراتؓ کی ملاقات غالباً مکہ میں ہوئی، حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعدؓ سے وجہ پوچھی کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں خاموش کیوں ہیں اور میرے ساتھ کیوں نہیں ہوتے، خونِ سیدنا عثمانؓ کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی ذمہ داری ادا نہیں کر پائے، آپؓ انھیں برا بھی نہیں کہتے، آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ سبِّ کا معنیٰ گالی دینا ہی نہیں برا بھلا کہنا اور لاتعلق ہونا بھی اسی ذیل میں آتا ہے اور یہ لفظ عام ہے۔
ابو عبداللہ محمد بن خلیفہ الوشتانی شرح مسلم میں لکھتے ہیں:
یحمل السب علی التغییر فی المذھب والرای فیکون المعنیٰ ما منعک من ان تبین للناس خطائہ و ان ما نحن علیہ اسد و اصوب و مثل ھذا یسمیٰ سباً فی العرف (اکمال اکمال المعلم)
یہاں لفظ سبِّ اپنے مؤقف اور رائے کو بدلنے پر محمول کیا جائے گا، (گالی کے معنیٰ پر نہیں) پس اس کا یہ مطلب لیا جائے گا کہ آپؓ کو کس چیز نے روک رکھا ہے کہ لوگوں کے سامنے سیدنا علیؓ کی خطا بیان نہ کریں اور یہ بات کہنے سے کہ جس بات پر ہم ہیں، وہ زیادہ صحیح اور بہتر ہے عرب کے عرف میں ایسے موقف کو بھی لفظ سبِّ سے ذکر کر دیتے ہیں (اور ظاہر ہے یہ گالی کا معنیٰ نہیں ہے)
لغت حدیث کی مشہور کتاب مجمع البحار میں ہے:
المعنیٰ ما منعک ان تخطئہ فی اجتھادہ و تظھر للناس حسن اجتھادنا
(مجمع البحار: جلد، 2 صفحہ، 83)
ترجمہ: ان کا معنیٰ یہ لیا جائے گا کہ آپ کو کس چیز نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خطا فی الاجتہاد اور ہمارے صواب فی الاجتھاد کو لوگوں کے سامنے لانے سے روک رکھا ہے۔
حاشیة السندھی میں بھی یہی بات ہے:
أَیْ نَالَ مُعَاوِیَة مِنْ عَلِیّ وَ وَقَعَ فِیہِ وَسَبَّہُ بَلْ أَمَرَ سَعْدًا بِالسَّبِّ کَمَا قِیلَ فِی مُسْلِم وَالتِّرْمِذِیّ وَمَنْشَأ ذَلِکَ الْأُمُور الدُّنْیَوِیَّة الَّتِی کَانَتْ بَیْنھمَا وَلَا حَوْل وَلَا قُوَّة إِلَّا بِاَللَّہِ وَاَللَّہُ یَغْفِرُ لَنَا وَیَتَجَاوَز عَنْ سَیِّئَاتنَا وَ مُقْتَضَی حُسْن الظَّنّ أَنْ یُحْمَل السَّبّ عَلَی التَّخْطِئَة وَنَحْوھا مِمَّا یَجُوز بِالنِّسْبَةِ إِلَی أَھل الِاجْتِہَاد لَا اللَّعْن وَغَیْرہ
(حاشیة السندی علی سنن ابنِ ماجہ جلد، 1 صفحہ، 108 حدیث نمبر: 118 مصدر الکتاب: موقع الإسلام المؤلف: محمد بن عبدالہادی السندی (المتوفیٰ: 1138ھ)
پھر اس روایت میں حضرت امیرِ معاویہؓ نے حضرت سعدؓ کو سب کرنے کے لیے نہیں کہا، سب نہ کرنے کی وجہ پوچھی ہے کہ یہ از راہِ تقویٰ و تورع ہے یا کسی خوف کے باعث ہے یا کوئی اور وجہ ہے، اگر تورع اور احتیاط ہے تو پھر صحیح ہے اور اگر کوئی اور وجہ ہے تو بتلائیں میں اس کا جواب دے کر آپ کو مطمئن کروں گا۔
حضرت سعدؓ نے صاف صاف حضرت علی المرتضیٰؓ کے فضائل ذکر کیے: 
فتح خیبر کا علمبردار ہونا، ہارونِ امت ہونا اور حدیث کساء میں اہلِ بیتؓ میں آنا ذکر فرمایا اور سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان میں سے کسی کا مناقشہ نہیں کیا، آرام سے سنا، سیدنا سعدؓ ان سے بالکل مرعوب نہیں ہوئے اور بات صاف صاف کہہ دی
(معیار صحابیت: صفحہ، 174، 175 تالیف ڈاکٹر علامہ خالد محمود ڈائریکٹر اسلامک اکیڈمی مانچسٹر، ناشر: محمود پبلی کیشنز اسلامک ٹرسٹ شاہدرہ لاہور، 2018ء)
حضرت عمار بن یاسرؓ کی شہادت کے ذریعہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کو مطعون کرنا درست نہیں:
2: اسی طرح سیدنا عمار بن یاسرؓ کی شہادت کے ذریعہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کو مطعون کرنا درست نہیں، اس لیے کہ ان کا قتل کس نے کیا اس کا صحیح پتہ نہ چل سکا، معلوم ہوتا ہے کہ انھیں ایک فئة باغیہ نے قتل کیا تھا اور وہ کسی بڑے لشکر کے لوگ نہیں تھے، یہ سیدنا عثمانؓ کے خلاف اٹھنے والے سیدنا علیؓ کے گروہ میں گھسے ہوئے فتنہ پرور لوگ تھے، انھیں باغی حضرت عثمانؓ کی نسبت سے کہا جاتا رہا، نہ کہ اس سے حضرت علیؓ کی تردید مقصود تھی،یہ وہ حالات تھے کہ یہ قتل اب تک مخفی درجے میں ایک معمہ بنتا چلا آیا ہے اور اس پر کئی متضاد باتیں سننے میں آتی ہیں، یاد رکھیے کسی مختلف فیہ بات سے کسی دوسری مختلف فیہ بات کو ختم نہیں کیا جا سکتا، کسی قطعی بات سے ہی کسی اختلاف کو ختم کیا جا سکتا ہے۔
(تجلیات آفتاب: جلد، 1 صفحہ، 280، 281، 282 مؤلفہ علامہ ڈاکٹر خالد محمودؒ، ناشر: محمود پبلی کیشنز اسلامک ٹرسٹ لاہور، 1431ھ مطابق 2010ء)
حضرت امیرِ معاویہؓ پر حضرت حسنؓ کو زہر دینے کا الزام درست نہیں:
صفحہ 12 از 15