مشاجرات صحابہ اوراہل السنۃ والجماعۃ کا معتدل مسلک - دفاعِ…

مشاجرات صحابہ اوراہل السنۃ والجماعۃ کا معتدل مسلک

  مولانااخترامام عادل قاسمی

صفحہ 13 از 15
3: سیدنا امیرِ معاویہؓ کے ذمہ یہ بات لگانا کہ آپؓ نے سیدنا حسنؓ کو زہر دلوایا تھا، ایک بڑا بہتان اور کذبِ محض ہے۔ سیدنا امیرِ معاویہؓ کو اس کی ضرورت کیا پڑی تھی، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ تاحیاتِ سیدنا امیرِ معاویہؓ زندہ رہے، انھوں نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کا کیا بگاڑا تھا، جو حضرت حسن رضی اللہ عنہ اگر زندہ رہتے تو سیدنا امیرِ معاویہؓ کو کسی خطرے کا سامنا کرنا پڑتا، علم سے نابلد لوگ یہ نہیں سوچتے کہ اس میں حضرت امیرِ معاویہؓ کی کیا ضرورت تھی، جو وہ اس کا ارتکاب کرتے، خلافت سیدنا حسنؓ ان کو دے چکے تھے، دونوں بھائی سیدنا امیرِ معاویہؓ سے بیعت ہو چکے تھے، ان کے وظائف لیتے رہے اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کی زندگی تک فدک کی آمدنی حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کی اولاد کو ملتی رہی، سیدنا حسنؓ نے مسلمانوں کی دو جماعتوں کو ایک کیا، سلطنتِ اسلام متحد ہوئی، اور پھر تاحیات سیدنا امیرِ معاویہؓ اور ان حضراتؓ کے مابین کوئی دل خراش واقعہ پیش نہیں آیا، سیدنا حسنؓ کی نمازِ جنازہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے گورنرِ مدینہ حضرت سعید بن العاص امویؓ نے پڑھائی، اور انھیں اس کے لیے سیدنا حسینؓ نے آگے کیا، شہادتِ سیدنا حسنؓ میں اگر کسی طرح سیدنا امیرِ معاویہؓ ملوث ہوتے تو سیدنا حسینؓ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے گورنرکو کبھی نمازِ جنازہ کے لیے آگے نہ کرتے، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کو آگے کرتے ہوئے فرمایا: لولا السنة لما قدمتک
(اسد الغابة: جلد، 2 صفحہ، 15 مقاتل الطالبین لابی الفرج: جلد، 2 صفحہ، 51)
ترجمہ: اگر سنت طریقہ نہ ہوتا تو میں تجھے کبھی آگے نہ کرتا (یعنی سنت یہ ہے کہ حاکمِ وقت امامت کرے)۔
حافظ ابنِ کثیرؒ لکھتے ہیں:
ولما توفی الحسن کان الحسین یفد الیٰ معاویة فی کل عام فیعظمہ ویکرمہ
(البدایة والنہایة: جلد، 3 صفحہ، 150 تاریخ ابنِ عساکر جلد، 4 صفحہ، 311)
ترجمہ: سیدنا حسنؓ کی وفات کے بعد سیدنا حسینؓ ہر سال سیدنا امیرِ معاویہؓ کے پاس تشریف لے جاتے تھے، سیدنا امیرِ معاویہؓ آپؓ کا بہت اکرام فرماتے اور عطایا و تحائف دے کر رخصت کرتے تھے۔
مشہور شیعی مؤرخ احمد بن داؤد الدینوریؒ (282ھ) لکھتا ہے:
ولم یر الحسن ولا الحسین طول حیاة معاویة منہ سوء فی انفسھما ولا مکروھاً ولا قطع عنھما شیئاً مما کان شرط لھما ولا تغیر لھما عن بر
(الاخبار الطوال: صفحہ، 225)
ترجمہ: حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ نے پوری زندگی حضرت امیرِ معاویہؓ سے اپنے حق میں کوئی بدخواہی نہیں دیکھی، نہ ان کا اپنے بارے میں کوئی ناپسندیدہ عمل دیکھا، نہ سیدنا امیرِ معاویہؓ نے ان دونوں کے ساتھ کسی معاہدہ کی خلاف ورزی کی اور نہ کسی نیکی میں دریغ کیا۔
پہلے مؤرخین جیسے ابنِ جریر طبریؒ (210ھ) خطیب بغدادیؒ (463ھ) وغیرہ میں سے کوئی اس واقعہ کو نقل نہیں کرتا، حاکم (405ھ) نے زہر دیے جانے کا واقعہ تو نقل کیا ہے، مگر زہر دینے کے مجرمین کی کوئی نشاندہی نہیں کی ہے، سب سے پہلے ابنِ اثیر الجزریؓ (620ھ) نے اس زہر دینے کی نسبت آپؓ کی بیوی جعدہ بنت اشعث کی طرف کی ہے، اور پھر صیغہ تمریض سے کہا ہے کہ کچھ لوگ اسے سیدنا امیرِ معاویہؓ کی طرف منسوب کرتے ہیں، لیکن اس پر ابنِ اثیرؓ نے کوئی صحیح روایت پیش نہیں کی اور نہ اس الزام کی کہیں توثیق کی ہے، حافظ ابنِ تیمیہؒ (718ھ) لکھتے ہیں:
ان معاویة سم الحسن فھذا مما ذکرہ بعض الناس ولم یثبت ذلک ببینة شرعیة او اقرار معتبر ولا نقل یجزم بہ
(منہاج السنة: جلد، 2 صفحہ، 225)
ترجمہ: سیدنا امیرِ معاویہؓ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زہر دیا ہے یہ وہ بات ہے جو بعض لوگوں نے ذکر کی ہے اور یہ بات کسی واضح شرعی دلیل یا اقرارِ معتبر سے ثابت نہیں، اس پر کوئی نقل نہیں ملتی، جس پر یقین کیا جا سکے۔
حافظ ابنِ کثیرؒ (774ھ) تو یہ بھی لکھتے ہیں، کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسنؓ سے ان کے آخری وقت میں پوچھا تھا کہ آپؓ کو زہر کس نے دیا ہے؟ حضرت حسنؓ نے نام بتانے سے انکار کیا اور فرمایا کہ اس کوچھوڑ دیں، اس کا فیصلہ اللہ کے یہاں ہو گا 
(البدایة والنہایة: جلد، 8 صفحہ، 43)
علامہ ابنِ خلدونؒ (808ھ) لکھتے ہیں:
وما ینقل ان معاویة دس الیہ السم مع زوجتہ جعدة بنت اشعث فھو من احادیث الشیعة وحاشا لمعاویة من ذلک
(تاریخ ابنِ خلدون: جلد، 2 صفحہ، 129)
ترجمہ: اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ نے آپؓ کو آپؓ کی بیوی جعدہ بنتِ اشعث کے ساتھ مل کر زہر دلایا تھا، یہ شیعوں کی باتیں ہیں، حاشا وکلا سیدنا امیرِ معاویہؓ نے ایسا کیا ہو۔
البتہ یہ سوال کہ سیدنا حسنؓ کی دشمنی کن لوگوں سے تھی، یہ ضرور غور طلب ہے، سیدنا علیؓ کے ایک بیان سے اس کا کچھ اشارہ ملتا ہے، سیدنا حسنؓ نکاح بہت فرماتے تھے،اسی بناء پر آپؓ کو حسن مطلاق کہا جانے لگا تھا، اس پر حضرت علیؓ نے فرمایا:
ما زال الحسن یتزوج و یطلق حتی حسبت ان یکون عداوة فی القبائل
(المصنف ابنِ ابی شیبہ جلد، 5 صفحہ، 354)
ترجمہ: سیدنا حسنؓ متواتر شادیاں کرتے رہے اور طلاقیں دیتے رہے، یہاں تک مجھے خدشہ گزرا کہ اس اندازِ عمل سے کہیں قبائل میں عداوت کی آگ نہ بھڑک اٹھے۔
اس پسِ منظر میں گمان کیا جا سکتا ہے کہ یہ آپؓ کی کسی بیوی ہی کی سازش رہی ہو گی۔
(عبقات صفحہ، 390، 391 مؤلفہ حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود، ناشر: دارالمعارف لاہور)
اسی کے ساتھ ایک اور بات جو اس حقیر کے نزدیک زیادہ قرینِ قیاس ہے اور جس کی وجہ سے خود آپؓ کے حامیوں (شیعان) میں ایک طبقہ آپؓ کا دشمن ہو گیا تھا، وہ تھا سیدنا امیرِ معاویہؓ کو تفویضِ خلافت کا معاملہ، تفویضِ خلافت کے بعد سیدنا امیرِ معاویہؓ سے تعلقات کی استواری نے اس عداوت کو اور دو آتشہ کر دیا تھا، اور غالباً آپؓ کی شہادت کے پیچھے یہ زیادہ بڑا محرک ثابت ہوا، واللہ اعلم بالصواب۔
حضرت امیرِ معاویہؓ پر سیدنا محمد بن ابی بکرؓ کے قتل کا الزام درست نہیں:
4: ایک الزام یہ ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ نے سیدنا محمد بن ابی بکرؓ کو قتل کرایا تھا، اور حضرت عائشہؓ اپنے بھائی کے غم میں سیدنا امیرِ معاویہؓ پر قنوتِ فجر میں بددعا کرتی رہیں؟
صفحہ 13 از 15