مشاجرات صحابہ اوراہل السنۃ والجماعۃ کا معتدل مسلک - دفاعِ…

مشاجرات صحابہ اوراہل السنۃ والجماعۃ کا معتدل مسلک

  مولانااخترامام عادل قاسمی

صفحہ 14 از 15
جواب: حضرت علی المرتضیٰؓ کے بھائی سیدنا جعفر طیارؓ کی بیوہ سیدنا اسماء بنتِ عمیسؓ نے سیدنا ابوبکرؓ سے نکاح کر لیا تھا، اور حضرت ابوبکرؓ کی وفات کے بعد یہ حضرت علیؓ کے نکاح میں آئیں، سیدنا محمد بن ابی بکرؓ انھیں کے بیٹے تھے، جن کی پرورش حضرت علیؓ کے ہاں ہوئی، جب سیدنا عثمانؓ کے خلاف یورش ہوئی، تو سیدنا علیؓ حضرت عثمانؓ کے ساتھیوں میں تھے، اور حضرت محم دبن ابی بکرؓ باغی نوجوانوں کے ہتھے چڑھ کر حضرت عثمانؓ پر حملہ آور ہوا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا اگر آج تیرا باپ زندہ ہوتا تو تیرے اس کردار پر کیا کہتا، اسے شرم آئی اور پیچھے ہٹ گیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی اس کے اس کردار سے اس کے خلاف تھیں۔
جنگِ صفین کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے مصر کا والی بنا دیا، مصر کے پہلے گورنر سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ تھے، حضرت عمرو بن العاصؓ سیدنا محمد بن ابی بکرؓ کے مقابلہ کے لیے معاویہ بن خدیج الکندی کو سپہ سالار مقرر کیا، اس جنگ میں سیدنا محمد بن ابی بکرؓ کی وفات ہوئی، یہاں سے یہ بات چل نکلی کہ سیدنا معاویہؓ بن خدیج الکندی نے حضرت محمد بن ابی بکرؓ کو قتل کیا ہے،اور پھر نام کی مشابہت سے سیدنا امیرِ معاویہؓ بن ابی سفیانؓ کی طرف بھی منسوب ہو گیا۔ نیز اس لحاظ سے بھی کہ مرکزی حاکم حضرت امیرِ معاویہؓ تھے، آپؓ کو موردِ الزام بنایا گیا۔
حضرت امیرِ معاویہؓ کے خلاف سیدہ عائشہؓ کی بددعا والی روایت ابومخنف لوط بن یحییٰ نے نقل کی ہے، اور یہ صاحب شیعہ تھے، ان کے شیخ الشیخ عن الشیخ من اہل المدینة کے نام سے مذکور ہیں، ظاہر ہے کہ اس قسم کے راویوں اور رافضیوں کی روایت سے حضرت امیرِ معاویہؓ کے خلاف کوئی الزام قائم نہیں کیا جا سکتا۔ طبری نے یہ روایت اسی شیعہ راوی سے نقل کی ہے۔
(عبقات: صفحہ، 391، 392 مؤلفہ حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود، ناشر: دارالمعارف لاہور)
سیدنا امیرِ معاویہؓ پر حضرت ابنِ عباسؓ کے تبصرہ والی روایت:
5: مالک بن یحییٰ ہمدانیؒ کی روایت ہے کہ حضرت امیرِ معاویہؓ نے وتر کی نماز ایک رکعت پڑھی، کسی نے اس کی اطلاع سیدنا ابنِ عباسؓ کو دی، آپؓ نے فرمایا: 
من این تری اخذھا الحمار 
ترجمہ: تو کہاں سے دیکھ رہا تھا گدھے نے ایسا کیا ہے؟
یہ روایت عمران بن حدیر، عکرمہ سے اور عکرمہ اسے سیدنا عبداللہ بن عباسؓ سے نقل کرتے ہیں، عمران بن حدیر سے عطا بن ابی رباح (117ھ) اور عثمان بن عمر اسے روایت کرتے ہیں، عثمان بن عمر کے طریق میں یہ اخذھا الحمار کے الفاظ موجود نہیں ہیں، اور اگر یہ بات ہو تو اس کا مطلب یہی ہے کہ ایسا بے سمجھی کا کام سیدنا امیرِ معاویہؓ کیسے کر سکتے ہیں؟ ایک رکعت تو کوئی بیوقوف ہی پڑھے گا، تم نے کہاں سے دیکھ لیا کہ کوئی بیوقوف ایسا کر رہا ہے۔
اس کے اوپر کے راوی ابو عبداللہ عکرمہ فقہائے مکہ میں سے ہیں، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ خارجی ذہن رکھتے تھے، اور یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ خارجی لوگ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ، حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ تینوں کے برابر کے دشمن ہیں، محدثین نے اگر عکرمہ کی اور روایات قبول کی ہیں تو ضروری نہیں کہ ہم ان کی وہ روایات جو ان حضراتؓ کے مقام کو مشتبہ کریں، وہ بھی قبول کر لیں، سو یہ الفاظ من این تری اخذھا الحمار عکرمہ مولیٰ ابنِ عباسؓ کے تو ہو سکتے ہیں، حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے نہیں، سیدنا عبداللہ بن عباسؓ اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کے اچھے تعلقات تھے، اور دونوں ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے، محدث عبدالرزاق (211ھ) روایت کرتے ہیں:
ان کریباً مولیٰ ابنِ عباس اخبرہ انہ رای ابن عباس یصلی فی المقصورة مع معاویة
(المصنف: جلد، 2 صفحہ، 414)
ترجمہ: کریب مولیٰ ابنِ عباس نے بتایا کہ اس نے حضرت ابنِ عباسؓ کو حضرت امیرِ معاویہؓ کے ساتھ مقصورہ میں نماز پڑھتے دیکھا ہے۔
ایک موقعہ پر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں اعترافِ فضیلت کے طور پر فرمایا:
 لیس احد منا اعلم من معاویة (السنن الکبریٰ للبیہقی: جلد، 2 صفحہ، 26)
ترجمہ: ہم میں اس وقت سیدنا امیرِ معاویہؓ سے بڑا عالم کوئی نہیں ہے۔
اس تفصیل سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما حضرت امیرِ معاویہؓ کے بارے میں ایسے الفاظ (من این تری اخذھا الحمار) ہرگز نہیں کہہ سکتے تھے۔
(عبقات: صفحہ، 394 مؤلفہ حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود، ناشر: دارالمعارف لاہور)
حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ پر باطل طریقے سے مال کھانے اور قتلِ ناحق کا الزام:
6: حضرت عبدالرحمٰن بن عبد رب کعبہ کہتے ہیں، سیدنا امیرِ معاویہؓ ہمیں باطل طریقے سے مال کھانے اور لوگوں کو بےجا قتل کرنے کا حکم دیتے ہیں۔
جواب: حضرت عمرو بن العاصؓ کے بیٹے حضرت عبداللہ ایک دفعہ کعبہ کے سائے میں احادیث سنا رہے تھے، اور لوگ آپ کے گرد جمع تھے، آپ نے ایک حدیث بیان کرتے ہوئے حدیث کا ایک حصہ پڑھا:
ومن بایع اماماً فاعطاہ صفقة یدہ و ثمرة قلبہ فلیطعہ مااستطاع فان جاء احد ینازعہ فاضربوا رقبة الآخر
(سنن نسائی: جلد، 2 صفحہ، 125)
ترجمہ: اور جس نے کسی امام کی بیعت کی اور اس کے ہاتھ میں دستِ وفا اور دل کا خلوص دیا، اسے چاہیے کہ اس کی پوری اطاعت کرے جہاں تک کر سکے، پھر اگر کوئی حکمراں اٹھے جو اس کے خلاف ہو تو تم اس دوسرے کی گردن مار دو۔
یہ اس دور کی بات ہے جب سیدنا علیؓ اور سیدنا امیرِ معاویہؓ میں اختلاف زوروں پر تھا، سیدنا عبدالرحمٰن بن عبدِ رب کعبہ سیدنا علی المرتضیٰؓ سے بیعت کیے ہوئے تھے، ان کے ذہن میں یہ بات آئی کہ پھر سیدنا امیرِ معاویہؓ کی ساری مہم اور ان کا اپنے لشکروں پر مال خرچ کرنا یہ سارا سلسلہ اکل اموال بالباطل اور بےجا قتل و قتال کے ذیل میں آتا ہے ہم جب ایک امام کی بیعت کر چکے تو اب ہم دوسرے کی کیوں سنیں، یہ تو اس کی دعوت ہے کہ ہم اپنے آپ کو یونہی ضائع کریں، اور فوجی اپنے وظیفے غلط لیتے رہیں، عبدالرحمٰن بن عبدِ رب کعبہ نے اسی ذہن سے حضرت عبداللہ بن عمرو (67ھ) سے اس وقت جب وہ مذکورہ حدیث بیان کر چکے، کہا:
صفحہ 14 از 15