مشاجرات صحابہ اوراہل السنۃ والجماعۃ کا معتدل مسلک - دفاعِ…

مشاجرات صحابہ اوراہل السنۃ والجماعۃ کا معتدل مسلک

  مولانااخترامام عادل قاسمی

صفحہ 15 از 15
ھذا ابنِ عمک معاویة یامرنا ان ناکل اموالنا بالباطل ونقتل انفسنا
(صحیح مسلم: جلد، 2 صفحہ، 126)
ترجمہ: یہ آپ کا چچا زاد بھائی ہمیں کہہ رہا ہے کہ ہم اپنے اموال غلط طور پر کھاتے اور اپنی جانیں یونہی لڑاتے رہیں۔
اب ظاہر ہے کہ عبدالرحمٰن کا اشارہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے نظمِ مملکت اور مالی نظام کے غلط ہونے کی طرف نہ تھا، اس سیاسی اختلاف کی طرف تھا، جو سیدنا امیرِ معاویہؓ حضرت علیؓ کے خلاف اختیار کیے ہوئے تھے اور وہ حضرت عثمانؓ کے مظلومانہ قتل کے خلاف ایک اصولی آواز تھی، یہ مسئلہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں مجتہد فیہ تھا، اور دونوں طرف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم موجود تھے، اب جن وجوہ سے ہم سیدنا امیرِ معاویہؓ کو اس اجتہادی مؤقف کا حق دیتے ہیں، اسی جہت سے ان کا اپنے لشکروں پر خرچ کرنا اور لوگوں کو اپنے ساتھ ملانے کی دعوت دینا "لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل“ اور ارشادِ خداوندی ”وَلَا تَقۡتُلُوۡۤا اَنۡـفُسَكُمۡ‌“ (سورة النساء: آیت،29) کے ظاہر سے نکل جاتا ہے، کیونکہ ان کے پاس اپنے اس مؤقف کی تائید میں بہت سی وجوہ ہیں، جن کی بناء پر انھیں بطور مجتہد اجتہاد کا حق پہنچتا ہے، اس لیے مذکورہ الفاظ راوی حدیث کا اپنا خیال ہے، چنانچہ نوویؒ لکھتے ہیں:
فاعتقہ ھذا القائل ھذا الوصف فی معاویة لمنازعتہ علیا(شرح النووی: جلد، 2 صفحہ، 126)
ترجمہ: اس کہنے والے کے ذہن میں سیدنا امیرِ معاویہؓ کے بارے میں یہ بات تھی، بایں وجہ کہ وہ سیدنا علیؓ سے لڑ رہے تھے۔
یہ عبدالرحمٰن بن عبدِ رب کعبہ صحابی نہیں، انھوں نے جو بات کہی یہ ان کے اپنے سیاسی احساسات ہیں، ان کی کبھی ملاقات سیدنا امیرِ معاویہؓ سے ہوئی ہو اور انھوں نے انھیں یہ اکل اموال بالباطل کی ترغیب دی ہو یہ کہیں ثابت نہیں، اب محض اتنی وجدانی بات سے ایک جلیل القدر صحابی کی دیانت کو مجروح کرنا انصاف نہیں، یہی وجہ ہے کہ اس آخری حصے کے نقل کرنے پر سب محدثین متفق نہیں ہیں، امام نسائیؒ نے پوری حدیث بیان کی ہے، اور عبدالرحمٰن اور سیدنا عبداللہ بن عمروؓ کی اس گفتگو کو نقل نہیں کیا، اور حدیث بیان کر کے لکھ دیا ہے، الحدیث متصل
(سنن نسائی جلد، 2 صفحہ، 165) 
یہ اشارہ ہے کہ اس کے آگے حدیث کا کوئی جزو نہیں، 
سنن ابنِ ماجہ میں بھی یہ ٹکڑا نہیں ملتا۔
(سنن ابنِ ماجہ: صفحہ، 293)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے رواة میں کوئی ایسا راوی ہے جو کبھی اسے روایت کرتا ہے اور کبھی نہیں۔عبدالرحمٰن سے نیچے اس کا راوی زید بن وہب کوفی ہے، علماء نے گو اسے ثقہ بھی لکھا ہے، لیکن یہ بھی تصریح کی ہے:
فی حدیثہ خلل کثیر(تہذیب التہذیب: جلد، 3 صفحہ، 427)
ترجمہ: اس کی روایت میں بہت خلل واقع ہوئے ہیں۔
اب اس کی روایت سے سیدنا امیرِ معاویہؓ کی دیانت پر جرح کرنا کس طرح درست ہو سکتا ہے، اور پھر جب سیدنا حسنؓ نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کی حکومت کو صحتِ خلافت کی سند دے دی تو پھر کیا یہ صورت باقی رہی جس کی عبدالرحمٰن بن عبدِ رب کعبہ خبر دے رہے ہیں، اور کیا حضور اکرمﷺ کا ارشاد العبرة بالخواتیم صحیح نہیں ہے؟
(عبقات: صفحہ، 414، 415 مؤلفہ حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود، ناشر: دارالمعارف لاہور)
غرض اس ضمن میں جتنی روایات بیان کی جاتی ہیں سب کا یہی حال ہے، یا تو وہ مستند نہیں ہیں یا ان میں تاویل کی گنجائش ہے۔

صفحہ 15 از 15